کالم

بابا کے کپڑوں کی خوشبو باقی ہے

اس وقت ان کو آکسیجن لگ چکی تھی میں نے ان کا چہرا اپنے دونوں ہاتھوں میں تھاما، ماتھا چوما اور بولی “میرا بچہ بالکل ٹھیک ہوجائے گا”۔
اس لمحے انہوں نے میرے چہرے کی طرف دیکھا اور مسکرا دیے۔ وہ ان کی آخری مسکراہٹ تھی جس میں خاموشی اور ویرانی چھلک رہی تھی۔ ایسا لگا جیسے انہوں نے سوچ لیا تھا کہ آگے کیا ہو گا۔

میرا اور بابا کا رشتہ ایسا تھا کہ میں ان کو اکثر پیار سے “میرا بچہ” کہہ کر بلاتی۔ کچھ دن پہلے ان کو فروٹ کاٹ کر دیے۔ نہیں کھا رہے تھے تو میں نے پیار سے بولا “میرا بچہ اب یہ ختم کر کے دکھائے گا” اور انہوں نے نا صرف کھایا بلکہ مجھے بڑے فخر سے خالی پیالی دکھائی۔ وہ مجھے اکثر “اماں بی بی“ بلاتے تھے۔ میں ان پر حکم چلاتی اور وہ مان لیتے تھے اور اس دوران خوشی ان کے چہرے پر رقص کرنے لگتی تھی۔

اتوار کا دن تھا، صبح آٹھ بجے اماں نے مجھے اٹھایا کہ بابا کی طبعیت تھوڑی خراب ہے اور انہیں ڈاکٹر کو دکھانا ہے۔ اٹھی تو بابا نے دیکھتے ہی اماں کو ڈانٹا کہ اس کی نیند کیوں خراب کی ہے۔ بابا کو اس وقت سانس لینے میں تھوڑا مسئلہ تھا اور پیٹ میں درد ہو رہا تھا۔ میں انہیں لے کر 8:15 پر معروف ہسپتال پہنچی۔ ایمرجنسی لے گئی تو ڈاکٹر نے داخل کرنے کا کہا۔ ٹیسٹ ہوئے تو سب نارمل نکلے لیکن سانس تھا کہ پھر بھی اکھڑا ہوا تھا۔ ڈاکٹر نے درد کم کرنے کی دو ڈرپس لگائیں، میں نے اس دوران ڈاکٹر عباد کو بار بار کہا کہ ان کے سانس کا کچھ کریں۔
پہلی ای سی جی ہوئی تو ڈاکٹر کے مطابق اس کے نتائج نارمل تھے، بلڈ پریشر بھی معمول کے مطابق تھا۔ مگر سانس پھر بھی ٹھیک نہیں ہو پا رہی تھیں۔ نا ڈاکٹر کی سمجھ میں آرہا تھا نا میری۔ ڈاکٹر نے اس کے بعد پیٹ کے ایکس رے کیے۔ اس دوران بابا کی طبعیت مزید بگڑی۔ تب شاید ڈاکٹر کو سمجھ آیا کہ کچھ سیریس مسئلہ ہے۔

اتنے میں بابا کی بلڈ رپورٹ آئی اور دوبارہ ای سی جی بھی کی تو ڈاکٹر نے بتایا ان کو ہلکا سا ہارٹ اٹیک ہوا ہے اس لیے انہیں آئی سی یو میں شفٹ کر دیتے ہیں۔ ڈاکٹر کو یہ علم تھا کہ دل کا دورہ ہے مگر آگے کیا کرنا ہے یہ نہیں پتا تھا۔ کارڈیالوجسٹ کو کال کر دی گئی تھی لیکن اس کا کچھ اتا پتا نہیں تھا۔ بابا کا سانس پھولتا جا رہا تھا۔

اب تک 10:30 کا وقت ہو چکا تھا دو گھنٹے سے زیادہ گزر چکےتھے مگر ڈیوٹی ڈاکٹر عباد کبھی اپنے بیوی بچے کے ساتھ اور کبھی دوسرے مریضوں کے ساتھ مصروف تھا۔ میں نے سب دوستوں کو بابا کی رپورٹس بھیجیں، امریکا سے ڈاکٹر احتشام کی کال آئی کہ بابا کو فوراً سٹنٹ کی ضرورت ہے۔ ڈیوٹی ڈاکٹر نے کہا آپ انہیں سی سی یو میں شفٹ کرنے دیں کارڈیالوجسٹ کا کوئی پتا نہیں وہ کب آتے ہیں۔ دو یا تین بجے سے ہم ان سے واٹس ایپ پر بات کر رہے ہیں۔ امریکہ کے ڈاکٹر احتشام نے فون پر انہیں دوائیاں بتائیں اور فوراً دینے کو کہا مگر ڈاکٹر عباد نے اپنے کارڈیالوجسٹ کے آ جانے تک وہ دوائیاں دینے سے انکار کر دیا۔

بابا کی حالت بگڑ رہی تھی۔

ہم نے بے بس ہو کر ان کو آر آئی سی میں شفٹ کرنے کا ارادہ کیا۔ پتا چلا ایمبولنس نہیں ہے، پمز ہسپتال سے منگوائی ہے۔ ایمبولنس 11:30 ٹھیک ایک گھنٹے بعد پہنچی جبکہ راستہ دس منٹ کا بھی نہیں۔ بابا کو وہاں سے لے کر نکلی آر آئی سی کا راستہ 25 منٹ کا تھا۔ آدھا راستہ طے کیا تو پتا چلا کہ پنڈی کو جانے والی اسٹیڈیم روڈ پولیس والوں نے بند کی ہوئی تھی۔ میں نے پولیس والوں کی ہاتھ جوڑ کر منت کی کہ میرے بابا کی حالت بہت خراب ہے، ہمیں راستہ دے دیں۔ انہیں اللہ کے واسطے دیے، روئی، گڑگڑائی لیکن انہوں نے ایک نہ سنی اور راستہ دینے سے انکار کر دیا۔

آدھے پولیس والے تو الٹا میری بے بسی پر ہنستے رہے۔ اتنے میں بابا نے کلمے کا ورد شروع کر دیا۔ میری جان نکل رہی تھی، میں نے انہیں شیشے سے باہر دیکھنے کا کہا: بابا وہ دیکھیں بارش ہو رہی ہے، گاڑیاں چل رہی ہیں، مجھے لگا میرا بچہ بہل جائے گا۔ پیچھے سے ڈرائیور کی منت کی کہ جلدی کریں میرے بابا کی حالت بگڑ رہی ہے۔ اتنے میں بابا بیٹھے بیٹھے میرے اوپر گر گئے۔ میں نے انہیں اپنے دونوں بازوؤں میں زور سے دبوچ لیا۔ بابا پسینے میں شرا بور تھے اور ان کا سانس اکھڑا ہوا تھا۔

مجھے لگا کہ ہم وقت پر نہیں پہنچ سکیں گے کیونکہ دوسرا راستہ بہت طویل تھا اور اس پر بہت زیادہ رش تھا۔ ہم پنتالیس منٹ بعد آر آئی سی پہنچے۔ بابا سانس لے رہے تھے۔ میری امید باقی تھی۔ وہ بابا کو فوراً سی سی یو میں لے گئے۔ میں اس کمرے کی کھڑکی پر کھڑی روتی رہی، اللہ کو ہر طرح کا واسطہ دیا کہ میرے بابا کو تھوڑی سی مہلت دے دیں بس۔ ڈاکٹرز نے ان کی قمیض پھاڑی اور انہیں شاکس دینا شروع کر دیے۔ میری امید ٹوٹ رہی تھی۔ بابا کا سانس ختم ہو رہا تھا۔ کھڑکی سے ڈاکٹر کو ہاتھ جوڑے کہ ایک بار بابا سے بات کرنے دیں مگر انہوں نے کھڑکی بھی بند کر دی۔ اس کے بعد اندر کیا ہوا مجھے نہیں معلوم۔۔۔ بس ایک خبر آئی کہ میرا بچہ اس دنیا سے چلا گیا۔

ان کے کپڑوں میں ابھی تک ان کی خوشبو بسی ہوئی ہے، میرے آنسوؤں کی بارش ان پر برستی ہے تو یہ خوشبو اور بھی مہک اٹھتی ہے۔۔

Related Articles

24 Comments

  1. 😢😢😢💔💔💔 کبھی کبھی تو لگتا ہے ہم انسانوں کے نہیں جانوروں کے کسی معاشرے میں رہتے ہیں ۔ احساس کس بلا کا نام ہے ؟؟ ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کا رویہ ایسا ہوتا ہے کہ بس جیسے بالکل بے حس روبوٹ ہیں ۔

  2. اللہ پاک آپ کو صبر جمیل عطا فرمائے
    اللہ پاک آپ کی جنت کے دروازے (بابا جان) کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے
    اللہ پاک آپ یہ دکھ برداشت کرنے کا ہمت اور حوصلہ عطا فرمائے

    1. اللہ پاک آپ کو صبر جمیل عطا فرمائے
      اللہ پاک آپ کی جنت کے دروازے (بابا جان) کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے
      اللہ پاک آپ کو یہ دکھ برداشت کرنے کا ہمت اور حوصلہ عطا فرمائے

  3. اللہ تعالی آپ کے بابا کی مغفرت کرے ، ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔ اللہ آپ کو یہ دکھ سہنے کی توفیق دے۔ 😢

      1. موت بر حق ہے مگر حیلہ جوئی بھی موت دینے والے کا حکم ہے۔ہمیں ہوش آنے تک ہمارا گلا سڑا کچرا نظام نجانے اور کتنی زندگیاں کھا لے گا

  4. إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ
    اللہ آپ (مشعل حسن) کو صبر جمیل عطا فرماٸے اور آپ کے بابا کو جواد رحمت میں جگہ دے۔ آمین
    یقیقنا آپ کی دکھ کا مداوا نہیں ہوسکتا۔ اس دنیا میں والدین سے بڑھ کر کوٸی چیز نہیں۔ ہسپتال میں ڈاکٹروں سے لے کر روڈ پر کھڑے پولیس اہلکاروں کا رویہ اس ملک میں لمحہ فکریہ سے کم نہیں۔ کسی کو تکلیف میں دیکھ کر ہمارا ضمیر کیوں نہیں جاگتا کہ کل اس طرح ہمارے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔ میں خود بھی ایک پولیس آفیسر ہوں مگر آپ کی دکھ کا اندازہ ہے کہ آپ کس کرب اور عذاب سے گزری ہوگی۔ ہمدردی اور انسانیت ختم ہورہی ہے اور اس وجہ سے ہم پر طرح طرح کے عذاب آرہے ہیں۔اس ملک میں قانون کی دھجیاں اڑاٸی جاتی ہیں۔ ہماری عدالتی نظام میں خامیاں ہیں۔ ماٸٹ از راٸٹ اس ملک میں راٸج ہے۔
    آخر میں نہایت ہی افسوس کرسکتا ہوں۔ اللہ آپ کے بابا کو جنت الفردوس عطا فرماٸے۔
    عمرنیاز خان بنوں۔۔۔ خیبر پختونخوا۔۔۔
    کالم پڑھنے کا ذریعہ۔۔۔۔ رٶف کلاسرا کا ایک ٹویٹ۔۔۔ اس سے پہلے بھی موصوف نے اس بارے ایک کالم لکھا تھا۔جس میں اس شہر کے بڑے معروف ہسپتال کی ناکامی کا ذکر کیا گیا تھا۔

  5. دعا ہے عباد اور کاڈیالوجیسٹ کے بچے ایسا ہی پائیں اپنے والد کو۔

  6. Allah Raham kre hum sb per bht Sikh hua ap ke Baba ka Allah Un ko jannat ata kre

    Hamara system bht khrab hai

    1. Very tragic and depressing. No doubt the daughter of the deceased is in a state of shock. May Allah bestow heavenly peace upon the soul of departed father & give the bereaved family especially the loving daughter the strength to the irreparable loss.

  7. اور اس طرح ایک اور کا انسانیت سے یقین اٹھ گیا۔
    میں نے بھی انسانیت کو اس سے زیادہ بے آبرو ہو کر دم توڑتے دیکھا ہے۔ 😥

  8. آمین، اُٹھ کھڑی ہوں اور اور لوگوں کو اس حالت سے گزرنے سے بچائیں، اللہ آپکے والد کو اس کا صلا دینگے اس جہان میں

  9. اللہ پاک آپ کواورآپ کی فیملی کو صبر جمیل عطا فرمائے اور آپکے بابا کے درجات بلند فرمائے ۔آمین ثم آمین ۔ آپ کے غم کا مداوا کوئی بھی نہیں کر سکتا ہے ۔

  10. اللّٰہ پاک جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین ثم آمین
    اور آپ کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ثم آمین

    1. تحریر پڑھتے پڑھتے آنسو نہ روک سکا۔اپنوں کے جا نے کا دکھ اپنے ہی جان سکتے ہیں رہی با ت انسا نیبت کی تو اس نام کی چیز معا شرے سے کب کی اٹھ چکی ہے۔ بے حس اور پتھر دل لوگ آپ کو پولیس اور میڈیکل کے شعبہ میں ملیں گے۔ اللہ آپ کے والد صا حب کو جنت میں اعلی مقام عطا فر مایں۔

  11. بہت ہی افسوس ناک بات ہے ۔ آپ کی تہریر میں بہت درد ہے جو ایک بیٹی کے دل سے ہی آُ سکتا ہے

  12. یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے اور بعض اوقات اللہ انسان کے بجائے صرف اس کے حوصلے کو آزماتا ہے۔ اس دنیا کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ یہ خود اور اس میں موجود ہر چیز فانی ہے۔ ہمیشہ رہنے والی ذات کا وعدہ ہے اس نے ہمارے لیے لافانی دنیا کا وعدہ کیا ہے، جہاں نہ کوئی بیماری ہے، غم نہ خوف ۔۔۔ ہر طرف امن، سکون، راحت، پیار، محبت، خلوص اور اپنوں سے کبھی جدا نہ ہونے والی ایسی زندگی جس کا انسان تصور بھی نہیں کرسکتا ۔۔۔ ذرا آنکھ بند کر کے دل کی آنکھوں سے دیکھیں آپ کو بابا کے کپڑوں کی خوشبو محسوس ہوگی۔ آپ کے بابا اسی جنت کی چوکھٹ پر کھڑے اپنے ہونٹوں پر مسکراہٹ لیے آپ کے منتظر ہیں۔ ❤

  13. اللّٰہ آپ کے والد اور دنیا سے رخصت ہونے والے سب لوگوں کی مغفرت فرمائے۔ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ ھم سب اچھی اچھی باتیں بڑھ چڑھ کر کرتے ہیں۔لیکن مل کر اس معاشرے میں کوئی تبدیلی نہیں لاسکتے۔نا سیاسی نہ معاشرتی۔ آخر تو یہ سب ڈاکٹر ۔ پولیس والے اور تمام سرکاری ملازمین ھم میں سے ھیں۔ اللہ ھمیں ھدایت عطا فرمائے

  14. اللہ آپ کو صبر عطا فرمائے۔ اور آپ کے والد گرامی (آپ کے بچہ) کو مولا امام حسین علیہ السلام کے قدموں میں جگہ عطا فرمائے۔ اور قبر میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مولا کائنات علی علیہ السلام کا دیدار نصیب ہو۔ آپ کا پہلا فیصلہ ہی راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی جانا ہونا چاہیے تھا۔ معروف ہسپتال، قائداعظم ہسپتال وغیرہ صرف نارمل بخار چیک کروانے کی جگہ ہے ۔ یہ بڑے ہسپتال صرف چمک دھمک بیچتے ہیں ۔ اندر سے کھوکھلے ہیں۔ بڑے ہسپتالوں میں شفا انٹرنیشنل بہتر ہسپتال ہے۔ لیکن میرے ذاتی تجربے کے مطابق آر آئی سی، اے ایف آئی سی کا کوئی مقابلہ نہیں۔ کاش حکومت کسی طرح دوبارہ ڈاکٹر جنرل کیانی کی خدمات لے سکتی۔ اعزازی ہی کیوں نہ سہی یا سپیشل آرڈیننس کے ذریعے ہی سہی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button