انتخابتازہ تریندنیاکورونا وائرس

بھارت میں کورونا وبا سے ہلاکتوں کی تعداد پراسرار طور پر کم کیوں ہے؟

پہلے کیس کی تصدیق کے دو ماہ بعد  دنیا کے دوسرے سب سے زیادہ آبادی والے ملک بھارت میں کورونا مریضوں کی تعداد 27 ہزار افراد سے تجاوز کرگئی ہے جبکہ 800 سے زیادہ اموات ہوئی ہیں۔

شرح اموات کو سمجھنے کا ایک طریقہ یہ معلوم کرنا ہے کہ کل اموات کو دگنا ہونے میں کتنے دن لگتے ہیں،  بھارت میں 25 اپریل کو 825 ​​اموات کی تصدیق ہوئی۔ اس کے مقابلے میں 16 اپریل کو اس تعداد کے نصف یا اس سے زیادہ کی تصدیق ہوئی۔

ماہرین کہتے ہیں کہ یہ اچھی خبر ہے کیونکہ وبائی مرض کے اسی مرحلے پر نیویارک میں دو یا تین دن میں اموات دگنا ہونے لگی تھیں۔

بھارت میں لاک ڈاؤن سے جڑا ایک اور المیہ، 12 سالہ بچی پیدل چلتے چلتے دم توڑ گئی

دنیا کا سب سے بڑا لاک ڈاؤن، بھارتی معیشت کا ٹائی ٹینک ڈوبنے لگا

 صحت عامہ کے بہت سے پیشہ ور افراد اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بھارت میں ایک ماہ سے زیادہ عرصہ تک جاری لاک ڈاؤن کا بھی وبا کی شدت اور اموات کو قابو کرنے میں کردار ہو سکتا ہے۔

 طبی جریدے لانسیٹ کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے وبا کا پھیلاؤ روکنے میں مدد ملی ہے۔

دیگر کا خیال ہے کہ بھارت میں نوجوان طبقے کی شرح زیادہ ہونے کیوجہ سے وبا سے تباہی کم ہوئی ہے کیونکہ بڑی عمر کے افراد میں وبا سے موت کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے۔

کئی لوگوں نے اس امکان کا اظہار کیا ہے کہ بھارت میں موجود وائرس کی قسم ایسی ہے جو کم پھیلتی ہے، اس کے ساتھ ساتھ گرم موسم بھی کورونا کو ختم کر رہا ہے، تاہم ان دونوں دعووں کی حمایت میں کسی بھی قسم کے ثبوت ثبوت نہیں۔

کورونا کے تشویشناک مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وبا باقی دنیا کیطرح یہاں پر بھی اتنی ہی سنگین ہے۔

سوال یہ ہے کہ جب کورونا وائرس کی ہلاکتوں کی بات کی جاتی ہے تو کیا ہندوستان واقعی میں دوسرے ممالک سے مختلف ہے؟

 ہندوستانی نژاد امریکی ماہر آنکولوجسٹ سدھارتھا مکھرجی نے حال ہی میں صحافی برکھا دت کو بتایا کہ حقیقت یہ ہے کہ اس سوال کا جواب نہ مجھے معلوم ہے اور نہ ہی دنیا اس بارے میں کچھ جانتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ معمہ کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ ہم کافی ٹیسٹنگ نہیں کر رہے ہیں، اگر ہم نے مزید ٹیسٹنگ کی تو ہمیں اس کا جواب معلوم ہوگا۔

مکھرجی دو قسم کے ٹیسٹوں کی بات کر رہے ہیں، ایک میں معلوم ہوتا ہے کہ کونسے لوگ حال ہی میں وائرس کا شکار ہوئے ہیں اور دوسرے میں یہ پتا چلتا ہے کہ کون اس مرض سے صحتیاب ہو چکا ہے۔

دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا بھارت میں کورونا وبا سے ہونے والی اموات کی اصل تعداد معلوم ہے؟

زیادہ تر متاثرہ ممالک میں نادانستہ طور پر کم  اموات موت رپورٹ ہوئی ہیں، 12 ممالک میں اموات کے اعداد و شمار کا مطالعہ کرتے ہوئے نیویارک ٹائمز نے اخذ کیا کہ مارچ میں سرکاری اعداد و شمار سے کم ازکم 40 ہزار زیادہ اموات ہوئیں۔

ان میں متعدی بیماری سے ہونے والی اموات کے ساتھ ساتھ دیگر ممکنہ وجوہات کی وجہ سے بھی ہونے والی اموات بھی شامل ہیں۔

کورونا وائرس ایک بہانہ، بھارتی مسلمان اصل نشانہ

بھارت میں 48 سالہ ماں 14 سو کلومیٹر سکوٹری چلا کر بیٹے کو گھر لے آئی

 14 ممالک میں وبائی امراض کے دوران ہونے والی مجموعی اموات کے بارے میں فنانشل ٹائمز کے تجزیے میں بتایا گیا ہے کہ کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد سرکاری تعداد سے 60 فیصد زیادہ ہوسکتی ہے۔  دونوں مطالعات میں ہندوستان میں وبا سے ہونے والی ہلاکتوں کا ذکر نہیں ہے۔

یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے ڈاکٹر پربھات جھا کا خیال ہے کہ اس کام کو صحیح انجام دینے کے لیے ان اموات کو بھی شامل کرنا پڑے گا جو اعدادوشمار میں نہیں آئیں۔

ہندوستان میں 80 فیصد کے قریب اموات اب بھی گھر میں ہی ہوتی ہیں۔ اس میں ملیریا اور نمونیا جیسی بیماریوں سے ہونے والی اموات شامل ہیں۔

ڈاکٹر جھا کہتے ہیں کہ بہت سارے لوگ طبی امداد اسپتال میں حاصل کرتے ہیں لیکن گھر واپس جا کر فوت ہو جاتے ہیں۔

یہ بات واضح ہے کہ صرف کورونا وبا سے ہونے والی اموات کی صحیح تعداد معلوم کرنے کے لیے اسپتال میں ہونے والی اموات کی گنتی کافی نہیں ہوگی۔

 قبرستان اور تدفین کیلئے خدمات فراہم کرنے والے اداروں کے پاس بہت کم لوگ جاتے ہیں اس لیے وہاں سے تعداد معلوم کرنا بھی اتنا ہی مشکل کام ہو گا۔

پبلک ہیلتھ فاؤنڈیشن آف انڈیا کے صدر سری ناتھ ریڈی نے بتایا کہ ابھی تک اسپتالوں میں بڑے پیمانے پر اموات میں اضافے کی کوئی اطلاعات موصول نہیں ہوئیں، اسی طرح گھروں میں بھی ہلاکتوں میں بڑا اضافہ ہوا تو وہ پوشیدہ نہیں رہ سکتا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت کی نگرانی کرنے والے ایک مضبوط نگرانی کی عدم موجودگی میں موبائل فون سے مدد لی جا سکتی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا انفلوئنزا سے ہونے والی اموات میں کوئی غیر معمولی اضافہ ہوا ہے یا نہیں۔

ہندوستان میں اموات کی گنتی ہمیشہ سے ایک غلط ہوتی رہی ہے، یہاں ہر سال ایک کروڑ افراد کی موت ہوتی ہے تاہم ملین ڈیتھ اسٹڈی نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ اموات کے کم اعداد و شمار کم سامنے آئے ہیں۔

حکومت کے اپنے اعتراف کے مطابق ہندوستان میں صرف 22 فیصد اموات طبی طور پر تصدیق شدہ ہیں۔

 کچھ ڈاکٹروں نے اطلاع دی ہے کہ بہت سے ایسے لوگ ٹیسٹ یا علاج کرائے بغیر مر رہے ہیں جن میں کورونا کی علامات پائی گئی ہیں۔ بھارت میں ویسے بھی ڈاکٹرز اکثر غلط تشخیص کرتے ہیں۔

 ژاں لوئی ونسنٹ بیلجیئم کے ایرسم یونیورسٹی اسپتال میں انتہائی نگہداشت طب کے پروفیسر ہیں، ان کا کہنا ہے کہ بھارت سمیت بہت سے ممالک میں کورونا وبا سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد کم بتائی جا رہی ہیں۔

 انہوں نے کہا جب آپ کو بتایا جاتا ہے کہ اس شخص کو موت سے پہلے بخار اور سانس کی کچھ تکلیف ہوئی ہے تو آپ کورونا پر شبہ کرسکتے ہیں لیکن یہ کچھ اور بھی ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ٹیسٹ نہیں کیے جاتے تو  آپ کوویڈ ۔19 کو بہت سی اموات کا سبب قرار دے سکتے ہیں یا اس کے کردار سے یکسر انکار کرسکتے ہیں۔  یہی وجہ ہے کہ 1918 میں سپینیش فلو سے ہونے والی اموات کی شرح میں اتنا فرق تھا۔

 ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ تر حکومتیں لوگوں میں خوف پھیلانے سے گھبراتی ہیں اس لیے اموات کی صحیح تعداد نہیں بتاتیں۔

لیکن ڈاکٹر جھا کہتے ہیں کہ کوئی جان بوجھ کر اموات چھپانے کی کوشش نہیں کررہا کیونکہ بڑے پیمانے پر اموات کو چھپایا نہیں جا سکتا۔

 ہوسکتا ہے کہ ہندوستان میں کورونا سے ہونے والی کچھ اموات سامنے نہ آئی ہوں اور ہر مریض کی صحیح تشخیص نہ ہوئی ہو لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اموات کم ہو رہی ہیں۔

 ایک ماہر نے کم اموات کی وجوہات کے حوالے سے صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے بتایا کہ ہمیں ابھی تک اس بارے میں معلوم نہیں ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button