انتخابتازہ تریندنیاکورونا وائرس

‘اواخر جولائی تک دلی میں کورونا مریضوں کی تعداد 5 لاکھ سے بڑھ سکتی ہے’

بھارتی دارالحکومت دلی میں کورونا وبا کی صورتحال خراب تر ہو رہی ہے، نائب وزیراعلیٰ نے خبردار کیا ہے کہ جولائی کے آخر تک مریضوں کی تعداد 5 لاکھ سے بڑھ سکتی ہے۔

دلی میں کورونا سے بری طرح متاثر ہونے والے مریضوں کے لیے اسپتال میں بیڈز کی کمی ہے اور خوفناک تفصیلات سامنے آ رہی ہیں، کئی افراد کا کہنا ہے کہ ان کے پیاروں نے اسپتال کی سیڑھیوں پر آخری سانس لیا کیونکہ انہیں داخل کرنے سے انکار کر دیا گیا تھا۔

بھارت کے امیر ترین شہر ممبئی میں کورونا کی تباہی کا آنکھوں دیکھا حال

52 سالہ شخص نے 36 دن وینٹی لیٹرز پر گزار کر کورونا کو شکست دے دی

کورونا وبا کے پھیلاؤ میں 80 فیصد کردار ‘سپر سپریڈر’ کا ہے، نئی تحقیق

عالمی خبررساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ملک میں دو ماہ کے لاک ڈاؤن کے باوجود بھارت میں وبا کے پھیلاؤ کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے، لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد اس میں مزید تیزی آ رہی ہے۔

اب تک بھارت میں 2 لاکھ 66 ہزار سے زائد مریض سامنے آ چکے اور اگلے چند روز میں یہ تعداد برطانیہ سے بڑھ جانے کا خدشہ ہے۔

دارالحکومت دلی میں اب تک 29 ہزار مریض رپورٹ ہوئے ہیں، نائب وزیراعلیٰ منیش سسوڈیا نے رپورٹرز کو بتایا ہے کہ جولائی کے آخر میں یہ تعداد 5 لاکھ سے بڑھ سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت دلی کے اسپتالوں میں 9 ہزار کے قریب بیڈز موجود ہیں، جولائی کے آخر میں 80 ہزار بیڈز کی ضرورت پڑ سکتی ہے، دلی کے علاوہ ممبئی دوسرا بڑا شہر ہے جو کورونا وبا سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔

دلی میں بحران

دلی کی ایک یونیورسٹی کے طالب علم انیکر گوئیل نے رائٹرز کو بتایا کہ گزشتہ ہفتے اس کے دادا کو 6 حکومتی اسپتالوں نے داخل کرنے سے انکار کر دیا تھا، انہیں کورونا کا مرض لاحق تھا۔

انہوں نے کہا کہ اسپتالوں نے انہیں بیڈز نہ ہونے کا عذر پیش کیا حالانکہ حکومتی ایپ کے مطابق بیڈز موجود تھے، پرائیویٹ اسپتالوں میں جا کر انہیں معلوم ہوا کہ ان کے اخراجات اتنے زیادہ ہیں جن کی ادائیگی ان کے بس سے باہر ہے۔

انیکر کے خاندان نے عدالت میں درخواست دائر کی اور انہیں سماعت کے لیے اگلے ہفتے کی تاریخ ملی جس دوران ان کے دادا کا انتقال ہو گیا۔

اس نے بتایا کہ ہمارا 78 سالہ دادا ہماری نظروں کے سامنے لمحہ بہ لمحہ موت کے منہ میں جاتا رہا اور ہم اس کے لیے کچھ بھی نہیں کر سکتے تھے۔

ایک اور خاتون نے ٹویٹ کیا کہ اس کے والد کو تیز بخار اور سانس کی تکلیف ہے لیکن کوئی اسپتال انہیں داخل کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، ایک گھنٹے بعد اس نے ایک اور ٹویٹ میں اپنے والد کی موت کی اطلاع دی۔

دلی سرکار کی ایپ کے مطابق 2 کروڑ کی آبادی کے لیے صرف 8814 بیڈز موجود ہیں جن میں سے آدھے سے زیادہ مریضوں سے بھر چکے ہیں، 96 اسپتالوں میں سے 20 میں کوئی بیڈ فارغ نہیں تھا۔

ایپ کے مطابق اسپتالوں میں کل 519 وینٹی لیٹرز موجود ہیں جن میں سے 260 زیراستعمال ہیں۔

کانگریس کے ممبر پارلیمنٹ منیش تیواڑی کا کہنا ہے کہ دلی کا نظام صحت ٹوٹ پھوٹ چکا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button