انتخابپاکستانتازہ ترین

انگریز خاتون نے شیخ رشید کو ڈوبنے سے بچا لیا

ملک کے معروف سیاستدان اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید اپنے تجزیوں اور بیانات کی وجہ سے خبروں کی زینت بنے رہتے ہیں۔ اس بار انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ یورپی خاتون نہ ہوتی تو وہ پانی میں ڈوب چکے ہوتے۔

اپنی ایک حالیہ کتاب میں انہوں نے اس حوالے سے ذکر کیا ہے کہ ایک مرتبہ سارے محلے والوں کے ساتھ ایوب پارک گیا جو ان دنوں نیا نیا بنا تھا۔ ایوب پارک بھی ایوب خان کے زمانے کی یادگار ہے۔ پہلے یہ علاقہ ” ٹوپی رکھ ”  کہلاتا تھا۔ خدا خدا کر کے میرے بھائی مجھے ساتھ لے جانے پر راضی ہوئے اور میری والدہ نے دوپہر کا کھانا بھی بنا کر دیا۔ ان دنوں لوگ وہاں تیراکی بھی کرتے تھے اور مجھے تیرنا نہیں آتا تھا۔

 شیخ رشید نے مزید لکھا کہ میں مصنوعی جھیل کے کنارے سیڑھیوں کو پکڑ کر پانی میں جا رہا تھا ساتھ ہی نہانے والوں کو دیکھ رہا تھا۔ اتنے میں میرا ہاتھ پھسل گیا اور میں دھڑام سے پانی میں چلا گیا۔ ہر طرف شور مچ گیا میرے بھائی نے بھی چھلانگ لگا دی لیکن میں گہرے پانی میں چلا گیا تھا۔ اسے بھی اتنا تیرنا نہیں آتا تھا۔ ایسے میں ایک انگریز خاتون جو سب کچھ دیکھ رہی تھی اور اپنی بیٹی کے  ساتھ سیر کو آئی ہوئی تھی اس نے پانی میں چھلانگ لگا دی اور جلد ہی مجھے پانی سے نکال لائی۔

شیخ رشید اس خاتون کے بارے میں لکھتے ہیں کہ خدا جانے وہ فرشتہ صفت عورت کون تھی جبکہ کئی تیراک منہ دیکھ رہے تھے اور اس نے  میری جان بچائی۔ جب مجھے میدان میں لٹایا گیا تو کافی دیر مجھے ہوش نہ آیا۔ پیٹ سے پانی نکالا گیا، جب آنکھیں کھلیں تو سینکڑوں لوگ میرے اردگرد موجود تھے۔ سارا راستہ میری کسی سے بات نہ ہوئی۔ گھر پہنچے تو بڑے بھائی نے سارا قصہ والدہ کو سنایا۔ والدہ نے اسی وقت بچوں میں میٹھے چاول تقسیم کیے اور شکرانے کے نوافل ادا کیے۔

خودکشی کی کوشش

اپنی کتاب میں انہوں نے لکھا ہے کہ میں نے بچپن میں خودکشی کی کوشش کی جو بہرحال ناکام رہی۔ وہ لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ بچپن میں جب مری پہنچا تو 14 اگست کو ہمیشہ کی طرح بے پناہ رش کی وجہ سے بس رات دیر گئے ملی اور چھت پر بیٹھ کر آنا پڑا۔ گھر رات دو بجے پہنچا توسارا گھر منتظر تھا۔ بڑے بھائی شیخ رفیق احمد نے داخل ہوتے ہی مجھے پکڑ لیا۔ تختی ان کے ہاتھ لگ گئی، مجھے اتنا مارا کہ تختی ٹوٹ گئی۔ گھر کا کوئی آدمی چھڑانے کے لیے نہ آیا بلکہ دکھ اس بات کا تھا کہ والدہ بھی ” مار مار ہور مار” کہتی رہیں۔

شیخ رشید لکھتے ہیں کہ مجھے زندگی میں اتنی مار کبھی نہیں پڑی تھی کسی نے مجھے صفائی کا موقع نہ دیا بلکہ گھر کا کوئی فرد ایسا نہ تھا جس نے  دو ہاتھ مجھ پر نہ چلائے ہوں۔ تمام اہل خانہ نے غصہ مجھ پر اتارا۔ میری جلد بہت نازک تھی صبح اٹھا تو منہ سوجا ہوا تھا۔

رات سوتے ہی فیصلہ کر لیا کہ اپنے آپ کو ختم کرلینا ہے، یہ زندگی بیکار ہے کسی نے مجھ غریب کو صفائی کا موقع ہی نہ دیا۔ میرے گھر کے نیچے بھابڑا بازار میں برتنوں کی دکانیں تھیں اور وہاں تانبے کے سکے بھی ہوتے تھے  مجھے سکے جمع کرنے کا شوق تھا۔ میں نے صبح اٹھتے ہی تمام سکے بیچ دیے اور مرنے کے لییے نیلا تھوتھا دہی ملا کر کھانے کا فیصلہ کیا۔

محلے میں بشیر گلکٹا کی دکان تھی۔ اس سے کہا کہ نیلا تھوتھا چاہیے۔ مقدار کا مجھے اندازہ نہ تھا، اسے شک گزرا۔ اس نے پوچھا کہ کیا کرنا ہے۔ میں گھر کی طرف دیکھا۔ اتنے میں میرا بھائی پاس سے گزرا۔اس نے پوچھا کیا گھر والوں نے نیلا تھوتھا منگوایا ہے۔ بھائی نے جواباً کہا کہ پوچھ کر بتاتا ہوں۔ جب گھر والوں کو پتہ چلا تو وہ بھی گھر سے آگئے اور رات کی مار میں اور اضافہ کیا حالانکہ رات کافی مار پیٹ ہوچکی تھی لیکن اب زرا کم مارا گیاتاہم میں نے اپنے آپ کو مارنے کا فیصلہ کر لیا تھا اس لیے میں ہار ماننے والا نہیں تھا۔

دوسرے دن میں نے کمرے کو اندر سے کنڈی لگائی  بستر کی چادر کو گلے میں ڈالااور کرسی پر کھڑے ہو کر پنگھے کے کنڈے پر اسے باندھ دیا ابھی چند ہی سیکنڈ گزرے ہونگے کہ آنکھوں میں تارے چمکنے لگے، میں نے خود ہی شور کر دیا۔ مجھے آج تک یاد ہے کہ کس طرح محلے میں شور پڑا اور میرے بھائیوں نے درواز توڑ کر مجھے اتارا۔ اس وقت میری والدہ بال نوچ نوچ کر برا حال کر چکی تھیں اور میں بھی اپنا شوق پورا کر چکا تھا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button