انتخابپاکستانتازہ ترین

انڈسٹریل ہیمپ اور بھنگ میں کیا فرق ہے؟ اس کا کاروبار کسقدر نفع بخش ہے؟

سینیٹ کمیٹی برائے انسداد منشیات کے اجلاس میں انڈسٹریل ہیمپ کی پیداوار کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات کیے گئے۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اندسٹریل ہمپ ایک میڈیسن ہے اوراس کا بھنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ قانون کے مطابق یہ بالکل جائز ہے اور اس کے اوپر کوئی پابندی نہیں ہے۔

اگر اس کی ٹی ایس سی ویلیو 0.3 فیصد سے زیادہ ہو تو پھر یہ نارکوٹکس ہے شال ہو جاتی ہے۔ پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر آئی سی سی بی ایس اور پی سی ایس آئی آر ڈیپارٹمنٹ کو اجازت دی گئی ہے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ یہ بڑا کار آمد پودا ہے۔ کپڑا بنانے میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ گاڑیوں اور جہازوں میں بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ ہیمپ کا فائبر، کاٹن کے مقابلے میں 300 گنا زیادہ مضبوط ہے۔ پروفیسر اقبال چوہدری نے کمیٹی کو بتایا کہ انڈسٹریل ہمپ نشہ آور پودا نہیں ہے چاہے کوئی اک کلو بھی کھا لے اس کو نشہ نہیں ہو گا جبکہ بھنگ نشہ آور پودا ہے۔

پروفیسر اقبال نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان میں کوئی انڈسٹریل ہیمپ نہیں ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اردو ڈکشنری میں اس کے لیے الگ لفظ دیا جائے، یہ بھنگ نہیں ہے۔

پروفیسر اقبال چوہدری نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ پودا 8 فٹ تک چلا جاتا ہے۔ اس پودے کو کم پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسے کھاد اور سپرے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ یہ پودا کسی بھی صورت نشہ آور نہیں ہو سکتا۔ جب چاہیں لگائیں۔ یہ بڑا منافع بخش پودا ہے۔

سیکرٹری انسداد منشیات کنٹرول شعیب دستگیر نے بتایا کہ یہ پائلٹ پروجیکٹ ہے۔ پہلے اس کو اگائیں گے پھر ٹیسٹ کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کو اگانے کے لیے کھلی اجازت دینے کے حوالے سے بعد میں فیصلہ کیا جائے گا۔

سینیٹر صابر شاہ نے کہا کہ پہلے ساری چیزیں سامنے آ جائیں اس کے بعد فیصلہ کریں گے، کہیں ایسا نہ ہو کہ بارش سے بھاگتے بھاگتے پرنالے کے نیچے آ جائیں۔

سیکرٹری انسداد منشیات کنٹرول شعیب دستگیر نے کہا کہ اس کے بیج کی قیمت 250 ڈالرز ہے اور عام کسان یہ بیج اس قیمت پر نہیں خرید سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس بات کا بھی خیال رکھنا پڑے گا کہ انڈسٹریل ہیمپ کے درمیان بھنگ نہ اگا لیں۔ اجازت دینے سے پہلے بہت ساری چیزوں کے لیے میکانزم تیار کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ مانیٹرنگ یہ ہو گی کہ انڈسٹریل ہیمپ کاشت کی گئی ہے کیونکہ انڈسٹریل ہیمپ اور بھنگ کے پودے میں کوئی فرق نہیں ہے۔

رکن کمیٹی سینیٹر عبدالقیوم نے کہا کہ ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ بڑی وسیع فیلڈ ہے۔ لوگ تھوڑی سی جگہ پر منوں کے حساب سے ٹماٹر اگا لیتے ہیں۔ ہیمپ کی کاشت کے حوالے سے انٹرنیشنل قوانین کو دیکھنا ہو گا۔ اس کا پہلے تجربہ کرنا چاہئے تھا اس کے بعد اعلان کرتے۔ اپوزیشن اور لوگ اب یہ کہنے لگ گئے ہیں کہ پہلے مرغی، کٹے اور اب بھنگ۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button