انتخابتازہ تریندنیا

آرمینیا نے شکست تسلیم کر لی، جنگ ختم کرنے کا معاہدہ طے ہو گیا

آرمینیا نے آذربائیجان سے اپنی شکست تسلیم کرلی ہے، روس کی جانب سے ثالثی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جنگ ختم کرنے کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔

آرمینیا کے وزیراعظم نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ ہمارے لیے بہت تکلیف دہ ہے، چند روز میں قوم سے خطاب میں اس کی تفصیلات بیان کروں گا۔

ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کا فیصلہ زمینی حقائق کا جائزہ لینے اور فوجی ماہرین سے مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قوم کے وسیع ترمفاد اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے امن معاہدہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ کوئی فتح نہیں ہے تاہم یہ ہار بھی نہیں ہے جب تک کہ آپ اسے ہار تسلیم نہ کر لیں۔

روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے اس کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آرمینیا اور آذر بائیجان کی سرحدوں پر روسی امن فورس کے لوگ پہرا دیں گے۔

آذربائیجان اور روس نے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ روسی صدر پیوٹن نے آذربائیجان اور آرمینیا میں جنگ ختم کرنے معاہدے کی تصدیق کر دی ہے۔

روس نے قیام امن کیلئے امن دستے روانہ کردئیے ہیں۔ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد آج رات سے شروع ہو گا۔

پیوٹن نے کہا کہ امید ہے  معاہدے سے دونوں ممالک کے درمیان تنازع کے دیرپا حل کی شرائط طے کرنے میں مدد ملے گی۔

آذر بائیجان نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ اس نے آرمینیا کے علاقے میں پرواز کرتے روس کے ایک ملٹری ہیلی کاپٹر کو بھی غلطی سے مارگرایا ہے جس میں دو پائلٹ ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا تھا۔

آذربائیجان کے بیشتر علاقے پر 1993 سے آرمینیا نے قبضہ کیا ہوا ہے۔ سابق ​​سوویت یونین نے 1921 میں آرمینیائی علاقہ آذربائیجان کے ساتھ ضم کر دیا تھا۔ 1991 میں سویت یونین کے ٹوٹ جانے کے بعد آرمینیائی علیحدگی پسندوں نے اس پر قبضہ کر لیا۔

جس میدان یا علاقوں میں یہ جنگ لڑ جا رہی ہے تاریخی حوالوں سے یہ جگہ آذر بائیجان کی ہے مگر 1994 کے بعد جب آرمینیا نے آذر بائیجان سے یہ جگہ ہتھیا لی۔

تنازعہ کے آغاز سے اب تک دونوں فریقین کے دمیان کوئی درجن بھر کے قریب امن معاہدے ہو چکے ہیں مگر ان میں سے کوئی بھی کامیاب نہیں ہوا اور تھوڑا عرصہ گزرتے ہی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دونوں ایک دوسرے کے خلاف ہتھیار اٹھا لیتے ہیں۔

تاہم اب کی بار اس جنگ میں آرمینیا نے بڑی تیزی سے اپنا علاقہ گنوایا ہے اور آذریوں نے پے در پے فتوحات حاصل کرنے کے بعد دوسرا بڑا شہر شوشا بھی اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button