انتخابپاکستانتازہ ترینمعیشت

5 ہزار ارب روپے قرض ادا نہ کرنا پڑتا تو عوام کو بہت سہولتیں دے سکتے تھے، حفیظ شیخ

کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ سرپلس ہو گیا

وزیراعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ جب تحریک انصاف کی حکومت آئی تو کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20 ارب ڈالر تھا جسے پہلے دو سال میں کم کرکے 3 ارب ڈالر کیا گیا اور اب یہ سر پلس ہو چکا ہے۔

حفیظ شیخ کے مطابق ہمارے اخراجات آمدنی سے زیادہ تھے جس کی وجہ سے تاریخی سطح پر مقروض ہو چکے تھے، اسی لیے موجودہ حکومت کو 5 ہزار ارب روپے قرض کی مد میں ادا کرنے پڑے۔

انہوں نے کہا کہ اگر 5 ہزار ارب روپے قرض کی مد میں ادا نہ کرنے پڑتے تو عوام کو بہت کچھ دے سکتے تھے۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ آٹوموبائل سمیت دیگر شعبہ جات کی گروتھ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

ڈاکٹر حفیظ شیخ کے مطابق ہم بجٹ کے علاوہ کوئی سپلمنٹری گرانٹ نہیں دے رہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بیرون ملک سے پاکستان میں جولائی سے اکتوبر کے درمیان سرمایہ کاری کی مد میں 735 ملین ڈالر آئے ہیں۔

حفیظ شیخ کے مطابق پوری دنیا نے تسلیم کیا کہ پاکستان نے 250 ارب روپے کے ٹیکس ری فنڈ کئے جبکہ ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ سب جانتے ہیں جب حکومت آئی تب بحرانی کیفیت تھی اسی وجہ سے ہمیں عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے پاس جاناپڑا۔

انہوں نے کہا کہ شروع ہی سے کوشش رہی کہ بحرانی کیفیت سے نکلیں اور کورونا وائرس سے پہلے استحکام کی جانب پہنچ گئے تھے۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ ٹیکسز میں 17 فیصد اضافہ ہوا، اخراجات کو کم کیا اور پرائمری بیلنس سرپلس کیا گیا۔

حفیظ شیخ کے مطابق ایکسپورٹ بڑھائی گئیں اور کاروباری افراد کو مراعات دی گئیں تاکہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 8 سے 10 سال میں انکم ٹیکس ری فنڈ نہیں دیئے گئے جبکہ ہم نے فیصلہ کیا کہ ری فنڈ کو بچت سے ادا کئے جائیں تاکہ کوئی عذر برقرار نہ رہے۔

اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ برآمد کی گئی چینی مارکیٹ میں 83 روپے فروخت ہو رہی ہے جبکہ حکومت اشیائے خور ونوش کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے کیلئے کوشاں ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button