Uncategorized

ایک منٹ جج صاحب، آپ مجھے سن تو لیں، مجھے بات کرنے کا موقع دیں، عمران خان کی آج سپریم کورٹ میں پیشی کا احوال

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے سپریم کورٹ میں کہا ہےکہ ملک میں کوئی مقدس گائے نہیں لہٰذا سپریم کورٹ حکم دے ہم ایکشن لیں گے۔ وزیراعظم عمران خان سانحہ اے پی ایس کیس میں عدالت کے طلب کرنے پر سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔ سماعت سے قبل وزیراعظم عمران خان فواد چوہدری سے گفتگو کرتے رہے، جب سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ وزیراعظم صاحب آپ آئیں۔ جسٹس اعجاز نے کہا کہ والدین کو مطمئن کرنا ضروری ہے، والدین چاہتے ہیں اس وقت کے حکام کے خلاف کارروائی ہو۔ وزیراعظم عمران خان نے کیس کی سماعت کےدوران روسٹرم پر آکر کہا کہ میں قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتا ہوں۔ وزیراعظم نے عدالت سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ملک میں کوئی مقدس گائے نہیں ہے، آپ حکم کریں ہم ایکشن لیں گے۔ وزیراعظم نے عدالت کو بتایاکہ واقعہ کے دن ہی پشاور گیا تھا، اسپتال جا کر زخمیوں سے بھی ملا، واقعہ کے وقت ماں باپ سکتے میں تھے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت جو بھی مداوا کرسکتی تھی کیا، والدین کہتے ہیں ہمیں حکومت سے امداد نہیں چاہیے، سانحہ کے بعد نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا، دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتی۔ چیف جسٹس پاکستان نے وزیراعظم سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ وزیراعظم ہیں، جو اب آپ کے پاس ہونا چاہیے جس پر وزیراعظم نے کہا کہ ایک منٹ جج صاحب، آپ مجھے سن تو لیں، مجھے بات کرنے کا موقع دیں۔ عمران خان نے عدالت کو بتایا کہ بچوں کے والدین کو اللہ صبر دے گا، ہم معاوضہ دینے کے علاوہ اور کیا کر سکتے تھے، میں پہلے بھی ان سے ملا تھا، اب بھی ان سے ملوں گا، یہ پتہ لگائیں کہ 80 ہزار افراد کس وجہ سے مارے گئے؟ یہ بھی پتہ لگائیں کہ 480 ڈرون حملوں کا ذمہ دار کون ہے؟ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ سب پتہ لگانا آپ کا کام ہے، آپ وزیراعظم ہیں، بطور وزیراعظم ان سارے سوالوں کے جواب آپ کے پاس ہونے چاہئیں۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اے پی ایس لواحقین کا دکھ ہے تو 80 ہزار لوگوں کا بھی ہمیں دکھ ہے۔ عدالت نے 20 اکتوبر کے حکم نامے پر عملدرآمد کی ہدایت کی جس پر وزیراعظم عمران خان نے سپریم کورٹ کو انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ وزیراعظم نے کہا کہ اے پی ایس لواحقین کا دکھ ہے تو 80 ہزار لوگوں کا بھی ہمیں دکھ ہے، آپ اے پی ایس معاملے پر اعلیٰ سطح تحقیقاتی کمیشن بنادیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button