Uncategorized

سیاست اور روسیات

تحریر : ڈاکٹر عاصم صہبائی

آجکل پاکستانی سیاست میں بڑی گہما گہمی اور ہلچل ہے ، اپوزیشن کے لیڈروں نے Covidکے رخصت ہونے کو اچھا شگن سمجھا ہے اور ایسے پرتپاک اور والہانہ انداز میں ایک دوسرے سے ملاقاتیں اور تجدید عہد وفا کررہے ہیں کہ تمام عوام اور خلقت ہکا بکا ہے ۔ یہ لوگ ماضی کی تمام لڑائیاں ، تلخیاں اور بد کلامیوں کو فراموش کرکے ایسے مل رہے ہیں بچھڑے بھائی کافی عرصہ کے بعد ملتےہیں ۔یہ لوگ تمام سیاسی اور Ethicalمعاملات کو بالائے طاق رکھ کر لگتا ہے گدھے کو بھی باپ بنالینے کی کوشش میں ہیں مگر ابھی تک یہ میوزیکل چیئرز والا گیم کھیل رہے ہیں۔ انہوںنے یہ طے نہیں کیا کہ ان میں گدھا کون ہوگا جس کو باقی سب باپ مانیں گے ۔
ان کا مشترکہ مقصد ہے عمران خان کا بوریا بستر گول کرنا ۔ انگریزی کا محاورہ ہے All is fair in love and war۔ توWarتو ان سب کی عمران کیخلاف ہے مگر کیا ان کا آپس کا Loveبھی سچا ہے؟ لگتا نہیں ہے ۔
شہباز شریف کو ہر روز NABایک اژدھے کی مانند دکھائی دیتا ہے جو اپنا گھیرا ان کے گرد تنگ کر رہا ہے اور ان قلفی والوں ، چپڑاسیوں اور چھابڑی والوں کے نام سب کو ازبر ہو گئے ہیں جو بلیک منی کو وہائٹ کرنے میں استعمال ہوئے اور اب شہباز شریف کا نام تاریخ میں ان لوگوں اور کرپشن کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔ مریم نواز آج کل بیک فٹ پر بیٹنگ کر رہی ہیں البتہ آزادی صحافت والے معاملہ میں انہوں نے جتنی پھرتیاں دکھائی ہیں لگتا ہی نہیں ہے کہ یہ وہ خاتون ہیں جو چند ماہ پہلے اپنی فون کالز میں صحافیوں اور اخبارات کا گلہ گھونٹ رہی تھیں ۔ بلاشبہ ہمارے صحافی اور عوام الناس کھلے دل کے مالک ہیں اور چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو معاف کردیتے ہیں ۔ اگر کسی کو فیک نیوز پھیلانے کی بے تاج ملکہ کہا جا سکتا ہے تو یہ اعزاز یقیناً مریم نواز کے حق میں جائے گا۔
جہاں تک بلاول کی ٹریننگ کا معاملہ ہے وہ اس وقت تک چلے گی جب تک آصف علی زرداری زندہ ہیں اور بلاول کی سیاست کا صرف ایک ہی اصول ہے اور وہ ہے ، جی پاپا ، جی پاپا اور بس جی پاپا ۔
مولانا فضل الرحمٰن بھی ہماری سیاست کا ایک عجیب و غریب کردار ہے ۔ جب تختہ الٹ جانے کی فضا بنتی ہے تو وہ متحرک ہو جاتے ہیںاور سیاسی ملاقاتوں اور جوڑ توڑ کا نیا سلسلہ شروع کردیتے ہیں ۔ عوا م میں اور بالخصوص پڑھے لکھے لوگوں میں ان کا مجموعی تاثر ایک 2 نمبر اور فراڈیہ سیاستدان کا ہے جو اپنے طلبا کی فوج کو ہمیشہ منہ بولی قیمت کے عوض اسلام آباد بھیجنے کیلئے تیار ہوتا ہے ۔
ایم کیو ایم اور مسلم لیگ (ق) بھی عدم اعتماد کے دنوں میں اپنا سیاسی کردار کھیل رہے ہیں اور سیاست کے میلہ مویشیاں میں سج دھج کر آگئے ہیں کہ جو زیادہ اونچی بولی لگائے گا ، جو وزارتیں دے گا وہ اس کے لیے حاضر ہیں ۔ دونوں پارٹیوں کو عمران خان کے وژن اور ملک کی ترقی سے کوئی خاص سروکار نہیں ہے بس شخصی اور خاندانی سیاست میں زیادہ دلچسپی ہے ۔
نواز شریف جو پہلے ہی میڈیسن میں ایک Mystery اور Miracle سمجھے جاتے ہیں ، جن کی ایک فلائٹ سے پلیٹ لٹس بالکل ٹھیک ہو گئی ہیں ، آجکل بروکن ہارٹ سینڈروم کے شکار ہیں اور ان کا دل زرا سی بھی ٹھیس اور بری خبر برداشت نہیں کر سکتا ہاں البتہ جب معاملہ ہو سیاسی جعل سازیوں اور عمران خان کی حکومت کو رفو چکر کرنے کا تو ان کا دل اور ان کی پلیٹ لٹس دونوں ساتھ دیتی ہیں ۔ بقول شاعر ۔۔!
بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو اک قطرۂ خوں نہ نکلا
اور میرا میڈیکل اوپینیئن ہے کہ یہ قطرہ خون یقیناً وہ پلیٹ لٹس ہی ہیں جو سٹاک مارکیٹ کے گراف کی مانند اوپر اور نیچے جا سکتی ہیں ۔
عمران خان کو کیا کہوں ، وہ تو میرے آئیڈیل لیڈر ہیں اور میں ان کی بہت زیادہ عزت کرتا ہوں ۔ بحرحال جب روس نے یوکرائن پر حملہ کیا اور عمران خان اور صدر پیوٹن آمنے سامنے بیٹھے تھے تو مجھے تو وہ بالکل اخروٹ لگ رہے تھے ۔ دونوں کے اندر کچھ مسئلہ ہے کچھ پنگا ہے اور جوں جوں عمران خان کا اور عوام الناس کا بھی اس پارلیمانی نظام حکومت سے جی بھر رہاہے عمران خان کو اب شاید چینی اور روسی  ماڈلز زیادہ اچھےلگنے لگے ہیں ۔ ڈنڈہ اور لاٹھی کی سیاست اور پریس کی بھی شامت ، بحر حال آجکل سیاسی طور پر چاولوں کی بہت سی دیگیں چڑھی ہوئی ہیں اور یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ اس میں سے زرداری کیلئے پلائو تیار ہوتا ہے ، نواز شریف کیلئے بریانی تیار ہوتی ہے ، فضل الرحمٰن کیلئے کھچڑی تیار ہوتی ہے یا MQMاور ق لیگ کیلئے زردہ تیار ہوتا ہے ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس میں سے صرف خیالی پلائو نکلے جسے ساری اپوزیشن پارٹیاں مل جل کر کھائیں ۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button