Uncategorized

برائی کا محور

ڈاکٹر عاصم صہبائی

جارج بش سینئر نے 2002 میں تین ملکوں کو ایکسز آف ایول قرار دیا تھا جس میں ایران ، عراق اور شمالی کوریا شامل تھے ۔پاکستان کی موجود سیاست کے تناظر میں اگر ہم تین سیاستدانوں کو یہ اعزاز کا حقدار سمجھ سکتے ہیں تو وہ ہونگے آصف علی زرداری ، مولانا فضل الرحمان اور نواز شریف ۔

آصف علی زرداری نے پاکستان کو لوٹ کھسوٹ کر اتنی دولت کمائی ہے کہ جائیدادوں کے انبار لگا دیے ۔ اپنی سیاست کے ابتدائی دنوں ہی سے مسٹر ٹین پرسنٹ کے نام سے جانے جاتے ہیں ۔ اگر کسی کو کرپشن کے موضوع پر PHDکرنی ہو تو ان سے بہتر رول ماڈل نہیں ملے گا ۔ لوٹی ہوئی دولت کو دبئی ، نیویارک ، سویٹذرلینڈاور کئی دوسرے ٹیکس ہیونز میں جمع کیا ہے ۔ بے نظیر بھٹو کوبھی اپنے شوہر کی لالچ اور طمع کا بخوبی علم تھا اور انہوں نے کوشش بھی کی کہ آصف علی زرداری کو سیاسی سرگرمیوں سے دور رکھیں مگر ان کی وفات کے بعد جس طرح زرداری نے پاکستان پیپلز پارٹی کو ہائی جیک کیا وہ بھی صرف ان کاہی کمال وصف تھا ۔ جتنا بھی ذہن پر زور ڈالیں ، زرداری کے حوالہ سے کوئی اچھی بات ذہن میں نہیں آتی ۔ وہ مکاروں کے مکار ہیں ، عیاروں کے عیار ہیں اور عیاشوں کے عیاش ہیں ۔ کہتے ہیں مجرم چاہے جتنا بھی چالاک ہو کبھی نہ کبھی قانون کی گرفت میں آتا ہے مگر زرداری اس چیز میں بھی ماہر ہیں کہ اپنے تمام کرتوتوں اور جرائم کے ثبوت کو ختم کردیتے ہیں ۔ ان کو یقینی طور پر کرپشن کا بے تاج بادشاہ کہا جاسکتا ہے ۔ ان کے بارے میں یہ بھی مشہور ہے کہ ایک زرداری سب پہ بھاری ۔ اس میں ان کی قابلیت کا کوئی عمل دخل نہیں ہے بلکہ اس میں انکے مکر و فریب اور عیاری کا اہم عمل دخل ہے ۔ یہ شعر یقیناً زرداری کیلئے ہی کہا گیا ہوگا کہ
عقبیٰ کی باز پرس کا جاتا رہا خیال
دنیا کی لذتوں میں طبیعت بہل گئی

اس سریز کا دوسرا بڑا کردار فضل الرحمان ہیں ، وہ بھی سیاسی جوڑ توڑاور مک مکا کے ماہر سمجھے جاتے ہیں ۔ ان کی دیرینہ خواہش ہے کہ وہ کسی طریقہ سے ملک کی وزارت اعلیٰ یا صدارت کا قلمدان سنبھالیں ۔ وہ دین اور اسلام کا کارڈ اپنے ذاتی فوائد کے لیے بخوبی استعمال کرنا جانتے ہیں ۔ عامر لیاقت کی طرح ان کی شخصیت بھی لوگوں کو دین سے متنفر کرتی ہے ۔ کشمیر کمیٹی میں سالہا سال کے مزے کیے مگر لگتا نہیں ہے کہ کشمیری چائے پینے کے علاوہ انہوں نے کشمیر کیلئے کچھ کیا ہو ۔ یہ موصوف بھی رنگین مزاج ہیں۔ یہ مولانا ڈیزل بھی کہلاتے ہیں ۔ یہ مدرسہ کے معصوم بچوں کو اپنے مذموم سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں اور ایسے سیاستدانوں کو دیکھ کر سیاست سے نفرت ہوتی ہے ۔
تیسرا کردار ہیں میاں نواز شریف ۔ میاں صاحب فنون لطیفہ میں اپنے آپ کو بہت ماہر سمجھتے ہیں چاہے وہ اداکاری ہو یا گلوکاری ۔ اگر کرکٹ کھیلتے رہتے تو اس میں بھی ملک کا نام ضرور ڈبوتے ۔ بڑے بڑے جعلسازوں اور کرپشن کے کیسز میں ملوث ہیں مگر  معصوم شکل کر کے اکثر پوچھتے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا ۔ آج تک لندن کے فلیٹس کا حساب نہیں دے سکے ۔ اس بات پر بھی بہت فخر کرتے تھے کہ اگر ہم کھاتے ہیں تو کچھ لگاتے بھی تو ہیں ۔ مری، بھوربن اور نتھیا گلی جیسے مقامات سے خاص محبت ہے اور وہاں پر اکیلے میں گنگناتے بھی ہیں ۔
میں نے پوچھا چاند سے کہ دیکھا ہے کہیں مجھ سا حسیں 
چاند نے کہا چاندنی کی قسم نہیں نہیں 
ان کی طبیعت میں بھی رنگا رنگی ہے ، گوری چمڑی سے بہت جلد متاثر ہوتے ہیں ۔ لوگ ان کو پاکستان کا نیلسن منڈیلا کہتے ہیں لیکن کیونکہ مینڈلا کا رنگ گورا نہیں تھا لہذا اس ریفرنس کو اتنا پسند نہیں کرتے ۔ اس عمر میں آکر جمہوریت کی بھی الف بے سمجھ آگئی ہے اور خلائی مخلوق کو ہر مسئلہ کی جڑ قرار دیتے ہیں ۔ آجکل بروکن ہارٹ (ٹوٹے ہوئے دل ) کی بیماری کا شکار ہیں ۔ اپنی پلیٹلٹس کو بھی اپنے دماغ سے کنٹرول کرتے ہیں ۔
اگر عدم اعتماد تحریک میں ان کو ناکامی ہوئی تو میرا مشورہ تو یہ ہوگا کہ ان کو خبر نہ دی جائے ورنہ ہو سکتا ہے کہ
اس دل کے ٹکڑے ہزار ہوئے
کوئی یہاں گرا کوئی وہاں گرا
ان کی بیٹی کمال کی جانشین ہے اور مریم نواز میں وہ تمام خوبیاں بدرجہ اتم موجود ہیں جو کہ والد میں ہیں ۔ ہمارے اداروں میں یہ اتنی خرابیاں کر چکے ہیں کہ ان کو ٹھیک کرنا بھی ایک مشکل عمل ہے ۔
آخر میں یہی کہوں گا کہ کسی شخص کے ایماندار اور راہ راست پہ ہونے کیلئے اتنا ثبوت ہی کافی ہے کہ جب یہ تین سیاسی کردار اس کے خلاف اکٹھے ہو جائیں ۔ میں امید کرتا ہوں کہ ہماری عوام اور اسٹیبلشمنٹ ملک کو دوبارہ ان لٹیروں کے ہاتھوں میں نہیں جانے دے گی ۔ اگر یہ تینوں احباب لوٹی دولت کا ایک تہائی بھی ملکی خزانے میں جمع کرا دیں تو پاکستان کی معیشت سنبھل سکتی ہے ۔ بقول شاعر
نواز شریف، فضل الرحمان اور زرداری
ایک سے بڑھ کر ایک بیماری

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button