• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
منگل, فروری 10, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home Uncategorized

بھارت میں ہر طرف ” محمد دیپک ” کے نام کی گونج ، ہندو مسلم نام سے پورے بھارت میں مشہور ہونے والا یہ نوجوان دپیک کمار عرف محمد دیپک کون ہے ؟

by ویب ڈیسک
فروری 10, 2026
in Uncategorized
0
بھارت میں ہر طرف ” محمد دیپک ” کے نام کی گونج ، ہندو مسلم نام سے پورے بھارت میں مشہور ہونے والا یہ نوجوان دپیک کمار عرف محمد دیپک کون ہے ؟
0
SHARES
26
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

راجیہ سبھا کے رکن اور معروف سیاسی رہنما جان برٹاس نے اتراکھنڈ کے شہر کوٹدوار میں پیش آنے والے فرقہ وارانہ واقعے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے دیپک کمار کو ہندوتوا فرقہ پرستی کے خلاف جدوجہد میں امید کی روشن کرن قرار دیا ہے۔ جان برٹاس نے اپنے ٹوئٹ میں دیپک کمار کے اقدام کو بھارتی آئین میں درج بھائی چارے، مساوات اور سیکولر اقدار کی عملی مثال قرار دیا۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب یومِ جمہوریہ کے دن بجرنگ دل کے کارکنوں نے محمد نامی ایک بزرگ مسلمان شہری کو ہراساں کرنا شروع کیا۔ ایسے موقع پر دیپک کمار، جو پیشے کے لحاظ سے جم ٹرینر ہیں، بزرگ شہری کے دفاع کے لیے ڈٹ گئے اور تنِ تنہا تقریباً 150 افراد پر مشتمل ہجوم کا سامنا کیا۔ جب ہجوم کو دیپک کی جسمانی طاقت اور جرات کا اندازہ ہوا تو وہ پیچھے ہٹ گیا، تاہم جاتے ہوئے اس سے اس کا نام پوچھا گیا۔

دیپک کمار نے کسی ہچکچاہٹ کے بغیر جواب دیا:

“میرا نام محمد دیپک ہے”

جان برٹاس کا کہنا تھا کہ ایک ہندو ہوتے ہوئے ایک بے سہارا بزرگ مسلمان کی حفاظت پر فخر کرنا دراصل بھارت کی مشترکہ تہذیب اور سیکولر روح کی عکاسی ہے۔

جان برٹاس نے اپنے ٹوئٹ میں یہ بھی بتایا کہ وہ خود کیرالہ سے کوٹدوار گئے تاکہ دیپک کمار، اس کے دوست وجے، اس کی والدہ، بیوی اور بچے سے ملاقات کر کے یکجہتی کا پیغام دے سکیں۔ انہوں نے دیپک کی والدہ کے ہاتھ کی بنی گرم ادرک والی چائے پی، جو روزگار کے لیے چائے فروخت کرتی ہیں، اور دیپک کے جم کا دورہ بھی کیا، جو فرقہ پرست عناصر کی دھمکیوں کے باعث اس وقت ویران پڑا ہے۔ دیپک کے جم میں جہاں 150 ممبر تھے ایک مسلمان بزرگ کوبچانے کی وجہ دیپک کو بائیکاٹ کا سامنا کرنا اور جم میں صرف دس ممبر رہ گئے۔ ممبر پارلیمنٹ نے جہاں دیپک کے جم کا دورہ کیا وہیں اظہار یکجہتی کیلئے فیس بھر کر اس کے جم کے ممبر بھی بن گئے ۔

"Deepak Kumar, now known as 'Muhammad' Deepak… is a beacon of hope in the struggle against the Hindutva communalism .

Deepak Kumar entered the scene in Kotdwar, in the foothills of the Himalayas, when Bajrang Dal activists began harassing an elderly man named Muhammad. This… pic.twitter.com/ZVuA5VwgGb

— John Brittas (@JohnBrittas) February 8, 2026

جان برٹاس نے متاثرہ بزرگ محمد بابا سے بھی ملاقات کی اور ان کی کپڑے کی دکان سے خریداری بھی کی اور کوٹدوار پولیس اسٹیشن جا کر سخت احتجاج ریکارڈ کرایاکہ پولیس نے فسادی عناصر کے خلاف کارروائی کے بجائے دیپک کمار کے خلاف مقدمہ درج کیا، جو انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔

When a British court asked Udham Singh his name after he avenged the Jallianwala Bagh massacre, he declared: “Ram Mohammad Singh Azad.”

Today, those echoes of secular resistance resonate through Deepak Kumar of Kotdwar, who stood before a mob and proudly said, “Mohammad… pic.twitter.com/jy58jgYRUh

— John Brittas (@JohnBrittas) February 9, 2026

راجیہ سبھا کے رکن کا کہنا تھا کہ بطور عوامی نمائندہ آئین کا تحفظ اور اس کی اقدار پر عمل کرنے والوں کے ساتھ کھڑا ہونا ان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ 150 سے زائد افراد کے ہجوم کے سامنے ڈٹ جانے والے دیپک کمار اور محمد بابا کی ثابت قدمی میں بھارت کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ نفرت کے مقابلے میں انسانیت، بھائی چارہ اور آئینی اقدار آج بھی زندہ ہیں۔

محمد دیپک کو جہاں اپنی انسان دوستی کی وجہ سے اپنے جم کے کاروبار میں نقصان اٹھانا پڑا وہیں کیرالہ سے ممبر پارلیمنٹ اور متعدد اہم شخصیات کے اظہار یکجہتی اور دیپک کے جم کی ممبر شپ لینے کے بعد امید کی ایک نئی کرن پھوٹ پڑی ہے ۔ لوگ نہ صرف دیپک کی ہمت و بہادری کو سراہ رہے ہیں بلکہ دوسری ریاستوں سے اس کے جم کی ممبر شپ حاصل کرکے بتا رہے ہیں کہ وہ انسانیت کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ دوسری طرف بزرگ شخصیت محمد بابا جن کی کپڑے کی دوکان ہے انہیں بھی دھمکیوں کا سامناتھا مگر جان برٹاس کی آمد اور ان کے ساتھ کھڑے ہونے پر انہیں بھی ایک نیا عزم ملا ہے ۔

ویب ڈیسک

ویب ڈیسک

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In