راجیہ سبھا کے رکن اور معروف سیاسی رہنما جان برٹاس نے اتراکھنڈ کے شہر کوٹدوار میں پیش آنے والے فرقہ وارانہ واقعے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے دیپک کمار کو ہندوتوا فرقہ پرستی کے خلاف جدوجہد میں امید کی روشن کرن قرار دیا ہے۔ جان برٹاس نے اپنے ٹوئٹ میں دیپک کمار کے اقدام کو بھارتی آئین میں درج بھائی چارے، مساوات اور سیکولر اقدار کی عملی مثال قرار دیا۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب یومِ جمہوریہ کے دن بجرنگ دل کے کارکنوں نے محمد نامی ایک بزرگ مسلمان شہری کو ہراساں کرنا شروع کیا۔ ایسے موقع پر دیپک کمار، جو پیشے کے لحاظ سے جم ٹرینر ہیں، بزرگ شہری کے دفاع کے لیے ڈٹ گئے اور تنِ تنہا تقریباً 150 افراد پر مشتمل ہجوم کا سامنا کیا۔ جب ہجوم کو دیپک کی جسمانی طاقت اور جرات کا اندازہ ہوا تو وہ پیچھے ہٹ گیا، تاہم جاتے ہوئے اس سے اس کا نام پوچھا گیا۔
دیپک کمار نے کسی ہچکچاہٹ کے بغیر جواب دیا:
“میرا نام محمد دیپک ہے”
جان برٹاس کا کہنا تھا کہ ایک ہندو ہوتے ہوئے ایک بے سہارا بزرگ مسلمان کی حفاظت پر فخر کرنا دراصل بھارت کی مشترکہ تہذیب اور سیکولر روح کی عکاسی ہے۔
جان برٹاس نے اپنے ٹوئٹ میں یہ بھی بتایا کہ وہ خود کیرالہ سے کوٹدوار گئے تاکہ دیپک کمار، اس کے دوست وجے، اس کی والدہ، بیوی اور بچے سے ملاقات کر کے یکجہتی کا پیغام دے سکیں۔ انہوں نے دیپک کی والدہ کے ہاتھ کی بنی گرم ادرک والی چائے پی، جو روزگار کے لیے چائے فروخت کرتی ہیں، اور دیپک کے جم کا دورہ بھی کیا، جو فرقہ پرست عناصر کی دھمکیوں کے باعث اس وقت ویران پڑا ہے۔ دیپک کے جم میں جہاں 150 ممبر تھے ایک مسلمان بزرگ کوبچانے کی وجہ دیپک کو بائیکاٹ کا سامنا کرنا اور جم میں صرف دس ممبر رہ گئے۔ ممبر پارلیمنٹ نے جہاں دیپک کے جم کا دورہ کیا وہیں اظہار یکجہتی کیلئے فیس بھر کر اس کے جم کے ممبر بھی بن گئے ۔
جان برٹاس نے متاثرہ بزرگ محمد بابا سے بھی ملاقات کی اور ان کی کپڑے کی دکان سے خریداری بھی کی اور کوٹدوار پولیس اسٹیشن جا کر سخت احتجاج ریکارڈ کرایاکہ پولیس نے فسادی عناصر کے خلاف کارروائی کے بجائے دیپک کمار کے خلاف مقدمہ درج کیا، جو انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔
راجیہ سبھا کے رکن کا کہنا تھا کہ بطور عوامی نمائندہ آئین کا تحفظ اور اس کی اقدار پر عمل کرنے والوں کے ساتھ کھڑا ہونا ان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ 150 سے زائد افراد کے ہجوم کے سامنے ڈٹ جانے والے دیپک کمار اور محمد بابا کی ثابت قدمی میں بھارت کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ نفرت کے مقابلے میں انسانیت، بھائی چارہ اور آئینی اقدار آج بھی زندہ ہیں۔
محمد دیپک کو جہاں اپنی انسان دوستی کی وجہ سے اپنے جم کے کاروبار میں نقصان اٹھانا پڑا وہیں کیرالہ سے ممبر پارلیمنٹ اور متعدد اہم شخصیات کے اظہار یکجہتی اور دیپک کے جم کی ممبر شپ لینے کے بعد امید کی ایک نئی کرن پھوٹ پڑی ہے ۔ لوگ نہ صرف دیپک کی ہمت و بہادری کو سراہ رہے ہیں بلکہ دوسری ریاستوں سے اس کے جم کی ممبر شپ حاصل کرکے بتا رہے ہیں کہ وہ انسانیت کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ دوسری طرف بزرگ شخصیت محمد بابا جن کی کپڑے کی دوکان ہے انہیں بھی دھمکیوں کا سامناتھا مگر جان برٹاس کی آمد اور ان کے ساتھ کھڑے ہونے پر انہیں بھی ایک نیا عزم ملا ہے ۔
