• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
جمعہ, اپریل 17, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home بلاگ

خلیج کی جنگ عالمی بقا کا مسئلہ بن گئی ، آبنائے ہرمز ناکہ بندی فوڈ سیکیورٹی ٹائم بم ، لاکھوں لوگوں کے شدید بھوک افلاس کا نشانہ بننے کا خدشہ

by ویب ڈیسک
اپریل 15, 2026
in بلاگ
0
قطر اور سعودی عرب میں موساد ایجنٹس کی گرفتاری،مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال، ٹرمپ فیل ،اب کون کرے گا ثالثی؟
0
SHARES
3
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter


سمیر اسلیم کا بلاگ

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والا مذاکرات کا پہلا اور انتہائی اہم راؤنڈ بغیر کسی ڈیل کے ہی ختم ہو گیا، جس کے بعد دنیا میں ایران-امریکا جنگ بندی سے متعلق تشویش کی لہر دوڑ گئی، اور تیل کی فی بیرل قیمت میں بھی 7 ڈالر کا اضافہ ہو گیا۔ اب ٹرمپ نے ایک بار پھر اسلام آباد میں مذاکرات کی دوسری نشست کا ذکر کیا ہے، اور امید ہے کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کا اختتام کسی ڈیل پر ہو۔ مذاکرات کا کامیاب ہونا جہاں امریکا اور ایران کے لیے ضروری ہے وہیں مشرق وسطیٰ سمیت عالمی دنیا کی بقا کے لیے بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ آبنائے ہرمز کی مکمل ناکہ بندی سے فوڈ سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ لاحق ہو گیا ہے جو عالمی سطح پر بھوک اور افلاس کا باعث بنے گا۔ بین الاقوامی ریسکیو کمیٹی کے سربراہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے ناکہ بندی کو ایک "فوڈ سیکیورٹی ٹائم بم” قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی کہا ہے اگر تنازعات جاری رہے تو ریکارڈ تعداد میں لوگوں کو شدید بھوک اور افلاس کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ٹرمپ جو دو چار دن میں ایران کی سلطنت کا خاتمہ کر کے اس جنگ سے نکلنے کا سوچ رہا تھا، ویسا نہیں ہو سکا۔ افغانستان کی جنگ سے بھی امریکا کچھ نہ سیکھ سکا، اب خلیج کی یہ جنگ خطرناک حد تک عالمی دنیا کی بقا کا مسئلہ بن گئی ہے، جس کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز ہے۔ دنیا کو اب عالمی توانائی کے بہاؤ کے لیے آبنائے ہرمز کی اہمیت کا بخوبی علم ہو گیا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے امریکی بھی جنگ کی شدت کو محسوس کر رہے ہیں۔ امریکی عوام کا کہنا ہے کہ روزمرہ کی اشیاء خریدنے پر جو رقم وہ پہلے ادا کرتے تھے اب انھیں 20 سے 30 ڈالر زیادہ ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور بندش سے امریکا کو سیاسی طور پر دھچکا لگے گا تو دوسری طرف ایران کی ڈولتی ہوئی معیشت مزید خطرات سے دوچار ہو جائے گی، مگر ان دو ممالک کے علاوہ آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی سطح پر فوڈ سیکیورٹی کے خطرات کو بڑھا دیا ہے۔ ایک طرف تیل کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی بڑھا رہا ہے تو دوسری جانب تیل کی کمی اور قیمت کھاد کی منڈی پر منفی اثرات ڈال رہی ہے۔ کھاد کا مسئلہ شدت اختیار کر رہا ہے جس پر فصلوں کا انحصار ہے۔ کھاد بنانے کے لیے خام مال (انڈسٹریل کیمیکل، سلفر، گیس اور تیل) اور عالمی تجارت کا ایک تہائی حصہ سمندری راستے آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے، جو قدرتی گیس کی 20 فیصد ترسیل کا راستہ بھی ہے۔ خلیج دنیا کی سب سے بڑی کھاد بنانے والی فیکٹریوں کا بھی گھر ہے، لمبے عرصے تک ٹرانسپورٹ بند ہونے سے کھاد کی پیداوار میں کمی اور لاگت میں اضافہ متوقع ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق 2024 میں خطے سے تقریباً 16 ملین ٹن کھاد سمندر کے ذریعے منتقل کی گئی۔ روس، مصر اور سعودی عرب کے بعد ایران یوریا کا چوتھا سب سے بڑا عالمی ایکسپورٹر ہے۔ اس کے علاوہ ایران مشرق وسطیٰ میں سلفر کی عالمی تجارت کا تقریباً 45 فیصد ذریعہ بھی ہے، جو کھاد کی تیاری کے لیے ایک اہم خام مال ہے۔ قطر فرٹیلائزر کمپنی QAFCO جو دنیا کو 14 فیصد یوریا فراہم کرتی ہے، گیس پلانٹ پر ایرانی حملوں کے باعث تقریباً ایک ماہ سے بند پڑی ہے۔ دوحہ کے پاس آبنائے ہرمز کے علاوہ یوریا کی برآمد کے لیے کوئی متبادل راستہ بھی نہیں ہے۔

لہٰذا یہ جنگ خطے کے کسانوں کے لیے دوہرے عذاب سے کم نہیں۔ کسان تو پہلے ہی توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے پریشان تھے، اب کھاد ملی بھی تو کئی گنا مہنگے داموں ملے گی۔ 2008 میں بھی تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے کھاد کا عالمی بحران آیا تھا، اس کے بعد 2022 میں روس-یوکرین جنگ بھی تیل اور کھاد کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنی۔ پاکستان، سری لنکا، بنگلہ دیش اور ہندوستان سمیت کئی افریقی ممالک کی زراعت خلیجی ممالک سے کھاد کی درآمد پر انحصار کرتی ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش اور مکمل ناکہ بندی سے کھاد، تیل اور خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتیں گھریلو بجٹ اور ملکی معیشتوں پر شدید دباؤ ڈال رہی ہیں۔ اس لیے ٹرمپ کی جانب سے ناکہ بندی مسائل کو مزید گھمبیر بنا دے گی۔ آبنائے ہرمز تاریخ میں پہلے بھی بند کی گئی، جب ایران کے وزیر اعظم محمد مصدق نے تیل انڈسٹری کو نیشنلائز کیا تھا، تب 1950 کے اوائل میں برطانیہ نے ناکہ بندی کی تھی۔ اس کے بعد 1980 کی دہائی میں ایران-عراق جنگ میں بھی آبنائے ہرمز میں سمندری آمد و رفت میں خلل پڑا، مگر کسی دور میں آبنائے ہرمز کا معاملہ اتنا پیچیدہ نہیں رہا جیسی صورتحال اب ابھر کر سامنے آ رہی ہے۔ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور بندش دونوں صورتیں عالمی خوراک کی فراہمی سمیت عالمی بقا کو خطرے سے دوچار کر دیں گی، جس سے عالمی جنگ کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ دنیا کو مزید تکلیف اور تباہی سے بچانے کے لیے ایران اور امریکا کو ڈیل کر لینی چاہیے۔ لبنان میں اسرائیلی حملے بھی بند ہونے چاہئیں۔ جنگ نہ تو ٹرمپ کے فائدے میں ہے اور نہ ہی ایران کے، جو ٹاپ لیڈرشپ سے محروم ہو چکا ہے۔

ویب ڈیسک

ویب ڈیسک

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In