• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
جمعہ, اپریل 17, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home بلاگ

لوڈ شیڈنگ میں ڈوبے پاکستان میں واپسی

by ویب ڈیسک
اپریل 17, 2026
in بلاگ
0
لوڈ شیڈنگ میں ڈوبے پاکستان میں واپسی
0
SHARES
9
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter


سمیرا سلیم کا بلاگ

پاکستان میں موسمِ گرما کی آمد آمد ہے اور ساتھ ہی پورے ملک سمیت شہرِ اقتدار میں بھی توانائی بحران کو بہانہ بناتے ہوئے گھنٹوں پر محیط لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ ملک میں وافر بجلی ہونے کے باوجود شارٹ فال 5 ہزار میگا واٹ سے بڑھ گیا ہے۔ حکومت اور پاور ڈویژن کی نااہلی نے پاکستانیوں کو 2011 کی یاد دلا دی ہے۔ پھر سے سنگین لوڈ شیڈنگ کے دور میں واپسی پر سوشل میڈیا پر بھی شور برپا ہے۔ پاور ڈویژن نے روزانہ دو گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کا اعلان کیا تھا، مگر اسلام آباد جیسے شہر میں اگر 8 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے تو ملک کے دیگر شہروں میں کیا حال ہوگا۔ گیس اور بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ نے عوام کی حالت پتلی کر دی ہے۔ اوپر سے وزیرِ توانائی اویس لغاری پریس کانفرنس میں بڑے دھڑلے سے غلط بیانی کر رہے تھے کہ دن کے وقت بجلی نہیں جا رہی، جبکہ لوڈ شیڈنگ کا سارا ملبہ آبنائے ہرمز پر ڈال دیا، کہ گیس نہیں آ رہی تو بجلی کیسے بنائیں۔ انہوں نے عوام کو بتایا کہ حالات ہمارے کنٹرول میں نہیں ہیں۔ حکومت مشکل حالات میں عوام کو ریلیف دیتی ہے، مگر ہماری حکومت کہتی ہے ہمارے بس میں کچھ نہیں۔ ہماری اشرافیہ نے اور کچھ سیکھا ہو یا نہ مگر عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے کیسے لگانا ہے، اس کے یہ ماہر ہو چکے ہیں۔

خلیج جنگ نے کسی اور ملک کو متاثر کیا ہو یا نہیں لیکن پاکستان میں اس کے اثرات سب سے پہلے رونما ہوئے، جب خطے میں کسی نے پٹرول کی قیمتیں نہ بڑھائیں، ہماری حکومت نے پہلے سے موجود پٹرول پر یک مشت 55 روپے کا اضافہ کر دیا۔ حکومت کو 70 یا 75 ڈالر فی بیرل پر جو فی لیٹر 125 روپے سے بھی کم میں پڑا تھا ، وہ پٹرول پاکستانیوں کو 321 روپے سے زائد کا پڑا۔ بجلی ،گیس، پٹرول اور خوردونوش کی اشیاء سب کچھ مہنگا ہونے کے باوجود عوام صبر سے کام لے رہی تھی کہ چلیں خیر ہے، سفارتی کامیابیوں سے دنیا میں پاکستان کا ڈنکا بج رہا ہے، اسی میں چار دن خوش ہو لیتے ہیں۔ مگر حکومت نے سوچا کہ اتنی بے حس عوام ہے تھوڑا اور بوجھ لاد دیتے ہیں کونسا اس عوام کو فرق پڑنا ہے۔ آئی پی پیز مالکان کو اربوں روپے کی ادائیگیاں بھی تو کرنی ہیں۔ عوام کی کھال اتارنے کا موقع یہ حکومت جانے نہیں دیتی، آئی پی پیز جو کہ امپورٹڈ گیس ایل این جی، فرنس آئل ، ڈیزل، اور کوئلے سے بجلی بناتے ہیں، اور جن پر قیمتی زرمبادلہ ڈالرز خرچ ہوتے ہی، ان کو کیپیسٹی پیمنٹ کی ادائیگیاں عوام کے جیبوں سے کی جاتی ہیں۔ بجلی کے بل میں کئی قسم کے چارجرز اور ٹیکسز ایڈ ہوتے ہیں۔ اتنا بجلی کا اصل بل نہیں ہوتا جتنے مختلف اقسام کے ٹیکس عوام ادا کرتی ہے۔ حیرت انگیز طور اس کے باوجود عوام کو بدترین لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے۔

جس ملک میں 45 ہزار میگا واٹ بجلی کی پیداوار کی کیپیسٹی ہو اور ضرورت صرف 20 سے 26 ہزار میگا واٹ ہو،وہاں اس وقت لوڈ شیڈنگ صرف پاور ڈویژن کی مس مینجمنٹ اور آئی پی پیز کو کیپیسٹی پیمنٹ کی وجہ سے ہو رہی ہے۔ یاد رکھیں کہ 17,000 سے 20,000 میگاواٹ بجلی اضافی موجود ہے۔ آئی پی پیز کے پاور پلانٹس زیادہ تر انھی سیاستدانوں اور اقتدار میں آنے والی اشرافیہ کی ملکیت ہیں۔ جو مہنگے ایندھن اور ایل این جی کی بچت کی وجہ سے بند پڑے ہیں، لیکن آپ کے پیسوں سے ان کی تجوریوں کو بھرا جا رہا ہے،چاہے بجلی آپ کو ملے یا نہ، پاکستانیوں کو کیپیسٹی پیمنٹ ادا کرنی ہے جو سالانہ 2 کھرب روپے تک پہنچ چکی ہے۔

2006 سے پہلے پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ تقریباً صفر تھا، پھر 2006 میں یہ 111 ارب روپے ہوا اور آج پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ تقریباً 2 ٹریلین روپے ہے ،اگر اس میں گیس کو بھی شامل کر لیں تو توانائی سیکٹر کا یہ قرض 5 ٹریلین روپے سے زائد ہو چکا ہے۔ غلط پالیسیوں کے تسلسل کی وجہ سے گردشی قرضہ سالانہ 15 فیصد کی شرح سے بڑھ رہا ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ بجلی چوری پر نہ پاور ڈویژن کنٹرول کر سکا اور نہ ہی بجلی کی ترسیل کو بہتر بنا سکا۔ 50 روپے فی یونٹ سے بھی مہنگی بجلی خرید کر عوام بجلی سے محروم ہے۔ ہر ادارے میں نااہلی اور کرپشن پنپ رہی ہے۔ ہمارے پاس 45 ہزار میگا واٹ سے زائد بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے،جس میں سے کوئلے سے ساہیوال ، جب اور پورٹ قاسم پاور پلانٹس تقریباً چار ہزار میگا واٹ بجلی پیداوار کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ تیل اور گیس سے بجلی نہیں بن رہی تو کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس کیوں شارٹ فال کو پورا نہیں کر پا رہے ہیں۔ پھر ہمارے پاس تھرمل پاور پلانٹس بھی ہیں لیکن پھر بھی لوڈ شیڈنگ کی سمجھ سے بالاتر ہے۔

عوام نے لوڈ شیڈنگ اور بھاری بھرکم بجلی کے بلوں سے بچنے کے لئے سولر پینلز لگوائے، پہلے عوام سے سولر سسٹم لگوانے پر اربوں خرچ کروائے اور پھر سستی بجلی والا سسٹم اویس لغاری صاحب کو پسند نہیں آیا تو مہنگی بجلی کو سہارا دینے کے لئے نیٹ میٹرنگ ختم کر دی۔ انہی صاحب نے کہا تھا کہ ملک میں بجلی بہت زیادہ ہے اور طلب کم ، اب وہ بجلی کہاں گئی؟ دراصل یہ لوگ کبھی بھی عوام کے مفاد میں فیصلہ نہیں کریں گے، جب تک اقتدار میں بیٹھے لوگ کاروبار کریں گے یہ ملک صیح سمت میں میں نہیں آگے بڑھ سکتا۔ غلط پالیسیوں کی وجہ سے ایک بار پھر اندھیرے میں ڈوبا پاکستان واپس آ گیا ہے۔

ویب ڈیسک

ویب ڈیسک

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In