سمیرا سلیم کا بلاگ
ایک طرف شہر اقتدار میں لاک ڈاؤن سے بھی بدتر صورتحال نے جہاں اشیاء ضروریہ کی قلت پیدا کر دی ہے تو وہیں مہنگائی بھی آسمان چھونے لگی ہے۔ اسلام آباد میں غیر ملکی وفود کی آمد کے پیش نظر راستوں کی بندش نے زندگی مفلوج کر رکھی ہے۔ سیکیورٹی کے نام پر پورا شہر ہفتوں سے بند کر رکھا ہے۔امریکہ ایران امن مذاکرات کی میزبانی کی امید میں حفاظتی پابندیاں برقرار رکھی گئیں ، مگر اب کاروباری حضرات اور رہائشی شہر کی سڑکوں، اسکولوں اور دفاتر کے ہفتوں طویل لاک ڈاؤن سے تنگ آ چکے ہیں۔ ابھی لوگ مایوسی کی حالت میں ہی تھے کہ حکومت نے ایک بار پھر پیٹرولیم مصنوعات میں بڑا اضافہ کر کے جلتی پر تیل چھڑکنے کا کام کیا ہے۔
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 27 روپے سے زائد اضافہ کر کے عوام کو بڑے معاشی بوجھ تلے دبا دیا ہے۔ حالانکہ پیٹرول کی قیمت پہلے ہی بہت زیادہ تھی، قیمتوں میں اتنا بڑا اضافہ ضروری نہیں تھا، مگر وزیراعظم شہباز شریف نے27 روپے فی لیٹر مزید ٹیکس عائد کر دیا ہے۔ پٹرول کی قیمت میں اصافہ بین الاقوامی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث نہیں بلکہ پیٹرول اور ڈیزل کی لیوی کی مد میں اضافہ کیا گیا ہے۔ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں پٹرول کی لیوی میں 26.77 روپے اضافہ کے بعد نئی لیوی 107.38پیسے ہوگئی ہے۔ پٹرول صارفین کا خون نچوڑنے پر حکومت تلی ہوئی ہے۔ عوام ایک لیٹر پیٹرول پر 107 روپے صرف ٹیکس کی مد میں ادا کر رہی ہے۔اس سے قبل وزیراعظم نے پیٹرول پر لیوی 160 روپے کر کے پھر 80 روپے کم کر دی، کریڈٹ بھی لے لیا، داد بھی سمیٹ لی، لیکن چند دن بعد پھر ٹیکس شارٹ فال کو پورا کرنے کے لئے عوام پر پٹرول بم گرا دیا، کیونکہ آئی ایم ایف ایسا چاہتا ہے۔ ابھی تو مزید ٹیکس لگنے کا بھی خدشہ ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے سے پہلے ہی مہنگائی 14 فیصد تک جا پہنچی ہے، انرجی کرائسس نے گھریلو صارفین پر بدترین معاشی دباؤ ڈالا ہے۔ اب مزید مہنگائی کا طوفان آئے گا، بجلی ، گیس ،پٹرول، اجناس ، سبزیاں اور پھل سب کچھ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم سٹون ایج میں واپس جا رہیں ہیں۔ ابھی گندم کسان نے اونے پونے داموں بیچی ہے۔ مہنگائی کا عالم دیکھیں اور فصل پر لاگت کو کیلکولیٹ کریں تو معلوم پڑے کہ کسان پر کیا بیت رہی ہے۔
شہباز رانا کی خبر کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے ٹیکس میں مزید 53 روپے فی لیٹر اضافے کی شرط ابھی باقی ہے، جس کا فیصلہ حکومت آئندہ ہفتے کرے گی کہ باقی 53 روپے فی لیٹر ٹیکس ڈیزل سے وصول کیا جائے یا پیٹرول استعمال کرنے والوں سے۔ عوام بس مزید بوجھ اٹھانے کے لئے تیاری پکڑ لے۔ کیونکہ ایف بی آر کی نالائقیوں ، قرضوں کی واپسی ، نئے اور پرانے قرضوں پر سود اسی عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال کر ہی ادا کیا جانا ہے۔ حکومت کے پاس متبادل راستہ کوئی نہیں کیونکہ عوام خاموشی سے ان کا کام کر دیتی ہے تو پھر متبادل تلاش کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ حکومت نے رواں مالی سال کے پہلے نو مہینوں کے دوران پیٹرولیم لیوی کی مد 1.2 ٹریلین روپے سے زائد رقم جمع کر لی ہے، اور یہ رقم ٹیکس کے سالانہ ہدف 1.468 ٹریلین روپے کا 82 فیصد بنتا ہے۔ اس کے باوجود حکومت نے پٹرولیم مصنوعات میں بڑا اضافہ کر کے زیادہ تر غریب اور درمیانی آمدن والے طبقے پر بوجھ ڈال دیا ہے۔ عوام کو بھی چاہیے کہ کم ازکم شہر کے اندر سائیکل کو اپنی سواری بنا لیں، احتجاجاً کچھ مثبت ردعمل دیں تاکہ باقی لوگ بھی اس کو فالو کریں، اور حکومت اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کرے، مگر عوامی ردِعمل کا اندیشہ بہت کم ہے۔ہائبرڈ پلس نظام میں عوام زیر عتاب ہے مگر اسی میں ہی خوش ہے۔
ہوتی نہیں جو قوم حق بات پہ یکجا
اس قوم کا حاکم ہی فقط اسکی سزا ہے
