سمیرا سلیم کا بلاگ
عالمی سطح پر سفارتی سبکی کے بعد بھارت کی اندرونی سیاست میں آجکل بھونچال آیا ہوا ہے۔بھارت کے شہر ممبئی اور پنجاب میں شدید سیاسی تناؤ اور ہلچل کی وجہ بھارتی اداکارہ پرینیتی چوپڑا کے شوہر اور عام آدمی پارٹی کے رکن راگھو چڈھا گروپ کا نریندر مودی کی پارٹی بی جے پی کو جوائن کرنا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے 7 سیاسی لیڈر بھارتی جنتہ پارٹی کو پیارے ہو گئے ہیں، جس کے بعد بھارتی سیاست میں طوفان آیا ہوا ہے۔ سمجھا جاتا تھا کہ صرف پاکستان میں ہی موسمی پرندوں کی بھرمار ہے جو اشارہ ملنے پر گھونسلا بدل لیتے ہیں۔ اب بھارتی سیاست میں بھی یہ کلچر عام ہونے لگا ہے، یوں یوں کہہ لیں کہ بھارتی سیاست بھی پاکستانی سیاست کے نقشِ قدم پر چل نکلی ہے۔ پاکستان میں پیپلز پارٹی کے مشہور زمانہ روٹی ،کپڑا ، مکان کے نعرے کی طرح بھارت میں بھی جمہوریت صرف نعروں تک محدود ہو گئی ہے۔ تاہم بھارت میں وفاداری بدلنے پر کارکنان راگھَو چڈھا اور ہربھجن سنگ کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ گروپ بنا کر فلور کراسنگ کرنے والے عام آدمی پارٹی کے رہنماؤں کو کارکنان نے نہ صرف غدار ڈیکلیئر کر دیا ہے، بلکہ راگھو چڈھا اور سابق کرکٹر ہربھجن سنگھ کے گھر باہر تو "غداری” کے اشتہار چسپاں کر دئیے ہیں۔ نوجوان سیاست دان راگھو چڈھا کی مقبولیت کو زبردست دھچکا لگاہے، انسٹاگرام فالوورز کی تعداد 14.6 ملین سے کم ہو کر تقریباً 12.7 ملین رہ گئی ہے۔ لگتا ہے بھارت اور پاکستان میں اپنی اپنی پارٹی کو لیکر جذبات ایک جیسے ہی ہیں۔
پاکستان میں تو اکثر و بیشتر ایسا ہوتا آیا ہے کہ اقتدار میں رہنے کے لئے ایم پی ایز اور ایم این ایز وفاداریاں بدلتے رہیں ہیں، یہاں وفاداری بدلنے کی قیمت بھی دی جاتی ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اب یہ سلسلہ جمہوری ہندوستان میں بھی شروع ہو گیا ہے، بھارتی ایوانوں میں بھی وفاداریاں بکنے لگیں ہیں۔ گزشتہ برس نوجوت سنگھ سدھو کی اہلیہ نے انکشاف کیا تھا کہ پنجاب کا وزیر اعلیٰ بننے کے لئے 5 سو کروڑ درکار ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں اکثر یہ شور ڈالا جاتا تھا کہ خفیہ ایجنسیاں وفاداریاں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، لیکن تعجب کی بات ہے کہ اب یہ آوازیں پڑوسی ملک سے بھی اٹھنے لگیں ہیں۔ عام آدمی پارٹی میں بغاوت کے بعد پارٹی نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ ای ڈی اور سی بی آئی جیسی تحقیقاتی ایجنسیوں کا استعمال کر کے دوسری پارٹی کے ارکان کی وفاداری کو بدلتی ہے۔ اراکین اسمبلی کو خریدنے اور توڑنے کے اس عمل کو عام آدمی پارٹی نے "آپریشن لوٹس” کا نام دیا ہے۔
اے اے پی نے الزام لگایا کہ بی جے پی پنجاب میں وزیر اعلی بھگونت مان کی حکومت کی طرف سے کئے جا رہے عوامی بھلائی کے کاموں کو روکنا چاہتی ہے، پارٹی چھوڑنے والے 7 ممبران پارلیمنٹ کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پارٹی اور پنجاب نے ان ممبران پارلیمنٹ کو سب کچھ دیا اور پھر بھی انہوں نے پنجاب کے لوگوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا۔ تاہم راگھو چڈھا نے کیجریوال کی پارٹی پر الزام لگایا کہ پارٹی اپنے بنیادی اصولوں، اقدار اور نظریات سے مکمل طور پر ہٹ چکی ہے، اب راگھو چڈھا خود کو درست سمجھتے ہوئے پارٹی کے ساتھ 15 سالہ رفاقت کو بلائے طاق رکھتے ہوئے خلاف کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔پارٹی چھوڑنے والے افراد نے کیجریوال کی قیادت کے ماڈل پر بھی سخت سوالات اٹھائے۔
فلور کراسنگ کا یہ پہلا واقعہ تو نہیں ہے، ماضی میں بھی ٹی ڈی پی کے سی ایم رمیش نے اپنی پارٹی کے دو تہائی ارکان کے ساتھ پارٹی کو بی جے پی میں ضم کردیا تھا اور چیئرمین نے انضمام کی منظوری دی تھی۔ بھارتی آئین کے 10ویں شیڈول میں دو تہائی انضمام کی شق کے مطابق چڈھا کا گروپ راجیہ سبھا سے نااہل ہونے کے خطرے کے بغیر قانونی طور پر پارٹی وابستگی کو تبدیل کر سکتا ہے۔ حالانکہ فلور کراسنگ کو روکنے کے لئے دو تہائی ممبران کی شق رکھی گئی تھی۔ بھارتی آئین میں انسداد انحراف قانون یا 52 ویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ میں سیاستدانوں کی انحراف کی صلاحیت کو محدود کرتی ہے۔ بھارتی پارلیمنٹ نے 1985 میں ہندوستانی آئین کی 52 ویں ترمیم کے دسویں شیڈول کو لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں طویل بحث کے بعد منظور کیا تھا۔انسداد انحراف قانون کے تحت، پارٹی وابستگی کو تبدیل کرتے وقت نشستیں کھونے سے بچنے کا واحد آئینی طریقہ یہ ہے کہ کسی پارٹی کے کم از کم دو تہائی ارکان پارلیمنٹ کسی دوسری پارٹی میں ضم ہو جائیں۔ اسی طرح راگھو چڈھا کے ساتھ عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا کے دو تہائی ممبران کی بی جے پی میں شمولیت قانونی طور پر درست ہے، اور وہ نااہلی سے بھی بچ گئے ہیں۔ عام آدمی پارٹی جس طرح تقسیم ہوئی ہے، اور راجیہ سبھا میں تعداد کا صرف 3 ارکان تک محدود ہونا پارٹی کے لیے بڑا جھٹکا ہے۔
چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کی انضمام کی منظوری کے بعد عام آدمی پارٹی کے سات باغی باضابطہ طور پر بی جے پی کا حصہ بن گئے ہیں، جس کے بعد بی جے پی راجیہ سبھا میں تعداد 106 سے بڑھ کر 113 ہو گئی ہے۔ جن افراد نے نااہلی سے بچنے کے لئے گروپ بندی کر کے پارٹی کی دو تہائی اکثریت نے مودی سے ہاتھ ملایا ہے، ان میں سے راگھو چڈھا کے خلاف چھوٹی موٹی انکوائریاں بھی چل رہی ہیں، اب جو کیسز کو چل رہے تھے وہ ختم ہو جائیں گے، جیسا کہ پاکستان میں ہوتا ہے۔ آہستہ آہستہ بھارت اور پاکستان کی جمہوری اقدار میں جو واضح فرق تھا وہ مٹتا جا رہا ہے۔ وہاں کبھی پاکستان کی طرح مارشل لا نہیں لگا ، اس کے باوجود حالات اس نہج پر آ گئے ہیں تو ایسا بھی ممکن ہے کہ آنے والے دور میں بھارت پر بھی کوئی فوجی حکومت کر رہا ہو۔

