• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
منگل, مئی 5, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home بلاگ

ون کانسٹیوٹوشن ایلیٹ بمقابلہ محسن نقوی

by ویب ڈیسک
مئی 5, 2026
in بلاگ
0
ون کانسٹیوٹوشن ایلیٹ بمقابلہ محسن نقوی
0
SHARES
18
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter


سمیرا سلیم کا بلاگ

ایک طرف جنگ ایران میں لگی ہے تو دوسری طرف شہر اقتدار اسلام آباد میں قدیم گاؤں سید پور اوربری امام کے سی ڈی اے کے ہاتھوں مسمار محلے جنگ جیسا منظر پیش کر رہے ہیں۔ شہباز سرکار نے بری امام کے علاقے میں گھروں کو ملیامیٹ کرنے کے بعد ایک سویپنگ آپریشن میں بری امام، نور پور شاہان کی 350 سالہ پرانی بستی میں واقع ایک کلومیٹر طویل تاریخی مرکزی بازار کو بھی مٹا دیا ہے۔ غریبوں کی بستیاں اجڑ گئیں مگر عدالت نے مداخلت کی اور نہ ہی وزیراعظم شہباز شریف نے مگر ون کانسٹیٹیوشن ایونیو والوں کے لئے دن چڑھنے سے پہلے ہی کمیٹی بن گئی۔ پسماندہ طبقات کو متبادل مقام فراہم کئے بغیر راتوں رات بے دخلی پر سب سوئے رہے۔ غریب کی آہ و بکا اقتدار کے ایوانوں نے سنی ان سنی کردی ۔ اخباری اطلاعات کے مطابق بری امام کے علاقے سے تجارتی سرگرمیوں کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے جس کے بعد مزار پر حاضری دینے والے زائرین کو بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ابھی تو کلئیرنس آپریشن کا دوسرا مرحلہ بھی شروع ہونے والا ہے۔ سی ڈی اے نے اب تک آپریشن کے دوران 13 محلوں میں 17 ہزار 640 مکانات مسمار کر کے ایک ہزار ایکڑ اراضی دوبارہ حاصل کر لی ہے، جبکہ 8 علاقے ابھی باقی ہیں جن کو عید سے قبل گرانے کا پلان سامنے آیا ہے۔ ایک طرف سی ڈی اے زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپناتے ہوئے غریب غرباء کے روزگار اور گھروں کو اجاڑ رہی ہے تو دوسری طرف ایک غیر قانونی عمارت کانسٹیوٹوشن ون کو بلڈوز کرنے سے گریزاں ہے۔ 

1997 سے شروع ہونے والے گرینڈ حیات ہوٹل اسکینڈل کے پیچھے بڑی واردات کارفرما تھی۔ 1997 میں نواز شریف حکومت نے اسلام آباد ماسٹر پلان تبدیل کرنے کی منظوری دی تھی،ماسٹر پلان تبدیل کر کے فائیو اسٹار ہوٹل اور شاپنگ مال تعمیر کرنے کی منظوری دی گئی۔ مگر بی این پی گروپ کو 9 مارچ 2005 میں 13.5 ایکڑ زمین نیلامی میں 4.88 بلین روپے کی کامیاب بولی کے عوض دی گئی۔ مگر سی ڈی اے کے بورڈ نے صرف 800 ملین روپے وصول کرنے کے بعد اسی سال پلاٹ کا قبضہ دے دیا۔ ون کانسٹیوٹوشن بلڈنگ بننے کے پیچھے سی ڈی اے کا بہت بڑا ہاتھ رہا ہے۔ 

2018 میں سی ڈی اے سپریم کورٹ کی تنقید کی زد میں بھی آئی جب چیف جسٹس ثاقب نثار نے نوٹ کیا کہ زمین کی لیز سے متعلق شرائط کی متعدد بار خلاف ورزیوں کے باوجود سی ڈی اے کارروائی کرنے کے بجائے عمارت کو انتظامی طور پر رعایت دیتا رہا۔ جنوری 2019 میں سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیئے تھے کہ جب پلاٹ کی نیلامی کو چیلنج کیا گیا تھا تو سی ڈی اے نے کیس کا دفاع کیا تھا۔ اسی دوران سی ڈی اے کے وکیل نے شہری اداروں کے ملازمین کی مبینہ بے ضابطگیوں کا ذکر کیا تو جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ سی ڈی اے نے گزشتہ 13 سالوں میں یہ معاملہ کیوں نہیں اٹھایا۔ کوئی شک نہیں کہ اس غیر قانونی عمارت کے بننے میں سی ڈی اے سہولت کاری کرتا آیا ہے۔ سی ڈی اے جسے سفید ہاتھی کہا جاتا ہے ، میں کرپشن کی داستانیں رقم ہیں۔ عام لوگوں کی تعمیر کردہ ناجائز تجاوزات کو بلڈوز کرنے کے بعد اب اس اسکینڈل زدہ بلندو بالا عمارت کے خلاف محسن نقوی میدان میں آ گئے ہیں۔ سمجھ نہیں آتا جس عمارت کو سی ڈی اے استشنی دیتا آیا ہے، اب محسن نقوی اپنی وزارت کے ماتحت اسی سی ڈی اے سے اس عمارت کو گرانے کا کام کیسے لیں گے۔ محسن نقوی کی سربراہی میں سی ڈی اے اس ٹاور کے طاقتور مالک اور مکینوں کے سامنے بظاہر سرنڈر کرتے نظر تو نہیں آ رہے، مگر جس طرح یہ عمارت بلند و بالا ہے اسی طرح اس عمارت میں رہنے والے مکینوں کی رسائی بھی بہت اوپر تک ہے، اسی لئے گرینڈ حیات میں بسنے والے فی الحال مظلوم بن کر ریلیف لیکر بیٹھے ہیں، اگرچہ آسلام آباد ہائی کورٹ نے لیز کینسل کر دی ہے اور 21 سال کے بعد اس ٹاور کو متنازع قرار دے دیا ہے۔ 

وزیر داخلہ پہلے ہی کانسٹیوٹوشن ون، جس میں بیوروکریٹس ، ججز، سیاستدان اور دیگر بڑی شخصیات کے کروڑوں مالیت کے فلیٹس ہیں، کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کا عندیہ دے چکے تھے تاہم اب اسلام ہائی کورٹ نے راستہ صاف کر دیا ہے۔ مگر سوال پھر وہی ہے کہ اس سب کے باوجود جن لوگوں کے فلیٹس ہیں کیا وہ ایسا ہونے دینگے؟ اس وقت طاقت کا مقابلہ طاقت سے ہے دیکھتے ہیں کہ جیت اب ون کانسٹیوٹوشن بلڈنگ کی ایلیٹ کی ہوگی یا محسن نقوی حاوی رہیں گے۔

ویب ڈیسک

ویب ڈیسک

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In