• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
اتوار, مئی 10, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home پاکستان

کیمپ ختم، مہاجر شہر میں: افغان کیمپوں کی بندش کے بعد خیبرپختونخوا میں نئی آبادیاتی تبدیلی شروع

by ویب ڈیسک
مئی 9, 2026
in پاکستان
0
کیمپ ختم، مہاجر شہر میں: افغان کیمپوں کی بندش کے بعد خیبرپختونخوا میں نئی آبادیاتی تبدیلی شروع
0
SHARES
267
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

فرزانہ علی خان کی رپورٹ 

پشاور: حکومتِ پاکستان کی جانب سے Illegal Foreigners Repatriation Plan کے تحت افغان مہاجرین کی وطن واپسی کا عمل جاری ہے، تاہم خیبرپختونخوا میں افغان ریفیوجی کیمپوں کی ڈی نوٹیفکیشن کے بعد ایک نئی اور پیچیدہ صورتحال نے جنم لے لیا ہے، جس پر اب تک کوئی واضح حکومتی پالیسی سامنے نہیں آسکی۔

2025 میں وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا اور پنجاب میں قائم افغان مہاجر کیمپوں کو باضابطہ طور پر ڈی نوٹیفائی کر دیا۔ خیبرپختونخوا میں تقریباً 43 افغان کیمپ 19 اضلاع میں قائم تھے، جن میں پشاور، نوشہرہ، کوہاٹ، ہری پور، مانسہرہ، چترال اور ڈیرہ اسماعیل خان سمیت دیگر علاقے شامل تھے۔ ان کیمپوں میں مقیم افغان مہاجرین کو یا تو افغانستان واپس جانے یا کیمپ خالی کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔

اگرچہ ہزاروں افغان شہری واپس افغانستان منتقل ہو چکے ہیں، تاہم بڑی تعداد میں افغان خاندانوں نے شہری علاقوں کا رخ کر لیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق پشاور، نوشہرہ، کوہاٹ، تیمرگرہ اور دیگر شہروں میں افغان خاندان اب عام آبادی کے اندر کرائے کے گھروں، پلازوں اور رہائشی عمارتوں میں منتقل ہو رہے ہیں، جس کے باعث ایک نئی آبادیاتی منتقلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

ماہرین اور مقامی حلقوں کے مطابق کیمپ ختم ہونے کے باوجود مسئلہ ختم نہیں ہوا بلکہ افغان آبادی اب شہروں کے اندر پھیل گئی ہے، جس سے مقامی سہولیات، سکولوں، ہسپتالوں، کرایوں اور روزگار کے نظام پر دباؤ بڑھنے لگا ہے۔

اس تمام صورتحال کے بعد سب سے بڑا سوال افغان کمشنریٹ کے مستقبل سے متعلق اٹھایا جا رہا ہے۔ جب کیمپ ختم ہو چکے، رجسٹریشن محدود ہو رہی ہے اور کئی مقامات پر انفراسٹرکچر مقامی اداروں کے حوالے کیا جا چکا ہے تو افغان کمشنریٹ کا موجودہ کردار، مینڈیٹ اور بجٹ کیا ہے؟ اس حوالے سے تاحال کوئی واضح عوامی وضاحت سامنے نہیں آئی۔

دوسری جانب مختلف مقامی اور بین الاقوامی ادارے اب بھی افغان مہاجرین کے لیے “لیگل ایڈ”، “پروٹیکشن” اور “کمیونٹی سپورٹ” کے نام پر سرگرم ہیں۔ تاہم کئی حلقے یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر ریاست خود غیر قانونی قیام ختم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے تو پھر یہ قانونی امداد کس بنیاد پر فراہم کی جا رہی ہے اور اس پورے نظام کی نگرانی کون کر رہا ہے؟

اضاخیل ریپیٹریشن سینٹر سمیت مختلف مقامات پر امدادی سرگرمیوں کے دعوے بھی کیے جا رہے ہیں، تاہم مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ زمینی سطح پر ان سرگرمیوں کے اثرات محدود دکھائی دیتے ہیں۔ بعض حلقوں نے فنڈنگ اور ground reality کے درمیان فرق پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔

ادھر عالمی سطح پر refugee funding میں کمی کے باعث پاکستان میں کام کرنے والے کئی بین الاقوامی ادارے بھی مالی دباؤ کا شکار ہیں۔ UNHCR اور دیگر عالمی اداروں کی توجہ اب غزہ، یوکرین اور سوڈان جیسے بڑے انسانی بحرانوں کی جانب منتقل ہو رہی ہے، جس کے بعد پاکستان میں قائم NGO نیٹ ورک اور فنڈنگ سسٹم میں بھی نمایاں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں اصل سوال یہ ہے کہ کیا حکومت کے پاس post-camp افغان آبادی کے لیے کوئی واضح اور جامع پالیسی موجود ہے، یا مسئلہ صرف کیمپوں سے اٹھا کر شہروں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

ویب ڈیسک

ویب ڈیسک

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In