• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
منگل, مئی 12, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home بلاگ

ابھی حکمران اشرافیہ اور آئی ایم ایف کے نخرے اٹھانا باقی ہیں

by ویب ڈیسک
مئی 12, 2026
in بلاگ
0
آئی ایم ایف سے نئے پروگرام کیلئے 30 لاکھ ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے اقدامات شروع
0
SHARES
10
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

سمیرا سلیم کا بلاگ

پہلی بار میرا ذہن بہت الجھا ہوا ہے، سمجھ نہیں آ رہی کہ بات کو کہاں سے شروع کیا جائے۔ پاکستانیوں کو درپیش ان گنت مسائل کا رونا رویا جائے یا بنوں میں دہشتگردی کا نشانہ بننے والے 14 پولیس والوں کی شہادت کا نوحہ لکھا جائے ۔ماہر معاشیات فرخ سلیم کے اس انکشاف پر لکھوں کہ کس طرح بھوکی ننگی عوام کے بدن سے نچوڑا گیا ٹیکسوں کا پیسہ ایم این ایز میں بانٹا گیا، عوام کی جیب خالی کر کے ایم این ایز کی جبیں بھری گئیں۔ فرخ سلیم کے مطابق ایک ایک ایم این اے کو 100 کروڑ روپے اسٹریٹیجک ڈیولپمنٹ فنڈ کی مد میں بانٹے گئے۔ پنجاب میں بھی بیوروکریٹس اور ارکان اسمبلی کو نوازنے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ غریب علاج کے لئے در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ اور ایک ہم ہیں کہ لوٹ کھسوٹ، دہشتگردی ، مہنگائی ،بے روزگاری، زراعت کی تباہی، خودکشیوں اور سیاسی و معاشی افراتفری کے سائے میں جشن مناتے رہے۔ مجھے تو لگتا ہے کہ جون ایلیا نے پاکستانیوں کے لئے ہی کہا تھا کہ

 میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں 

عوام پر عید قربان سے پہلے ایک اور پٹرول بم گرا کر رہی سہی کسر بھی پوری کر دی گئی ہے۔ وزراء کے بیانات سن آپ کو اندازہ ہو گا کہ اب وہ بڑے آرام سے اپنی حکومت کی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے بتا رہے ہیں کہ  ایف بی آر ٹیکس کا ہدف پورا نہیں کر سکا تو آئی ایم ایف نے جو ٹارگٹ سیٹ کیا تھا اس کو پورا کرنے کے لئے عوام کے گلے پر چھری پھیری گئی ہے ۔ خواجہ آصف صاحب فرماتے ہیں کہ مسئلہ نوٹوں کا ہے، اخراجات پورے کرنے کے لئے جس مرضی طریقے سے اکھٹے کیے جائیں۔ ایک اور وزیر احسن اقبال بولے کہ عوام ٹیکس نہیں دیتی تو مجبوراً پٹرول اور بجلی پر ٹیکس لگانا پڑتا ہے۔  پیٹرولیم لیوی بڑھانا مجبوری نہیں نااہلی ہے۔ اس لئے اپنی نااہلی عوام پر ڈالنے سے پہلے انھیں سوچ لینا چاہیے کہ پاکستانی قوم تو صاف پانی کیلئے بوتل پر بھی ٹیکس ادا کر رہی ہے۔ صرف پٹرول اور بجلی کے صارفین سے کھربوں روپے اکھٹا کرنے والی حکومت کے وزراء کو ایسی باتیں سجتی نہیں۔ ذرا دیکھیں کہ حکومت نے رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں صرف پیٹرولیم لیوی کی مد میں 1.2ٹریلین جبکہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 35 ارب روپے اکھٹے کیے، یہی نہیں بجلی صارفین سے ٹیکسوں کی مد میں 1.9ٹریلین اکھٹا کیا جا چکا ہے۔ جنگ کے بعد سے ڈیزل 48 اور پیٹرول 56 فیصد مہنگا ہوا ہے۔ ابھی بجلی اور گیس کی مزید مہنگا ہونے کی باری ہے۔ 

 آئی ایم ایف نے 1.2 ارب ڈالر قرض کے ساتھ جو نئی شرائط عائد کی ہیں اس کے مطابق آئی ایم ایف نے گیس اور بجلی پر سبسڈی ختم کر کے اسے مزید مہنگا کرنے کا ٹاسک حکومت کو دے رکھا ہے۔ حالانکہ آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات جس طرح دیگر جنوبی ایشیائی ممالک پر پڑے ہیں، پاکستان پر اس کے اثرات ابھی نہیں ائے، ایل این جی بھی پاکستان کو مل رہی ہے، تین جہاز آ چکے ہیں، پٹرول بھی ایران کی اجازت سے ہرمز عبور کر کے پاکستان آرہا ہے،  پھر بھی آپ کو پٹرول ، بجلی، گیس مہنگی ہی ملے گی۔ آئی ایم ایف نے بھی پاکستانی حکمران اشرافیہ کو کھلی چھوٹ دے دی، ان کو بھی معلوم ہے کہ خون کس کا نچوڑنا ہے۔ لہذا آئی ایم ایف کو ابھی خوش کرنا باقی ہے۔ بقول اچکزئی جس پارلیمنٹ کو اربوں روپے میں سیھٹوں کو بیچا گیا ہو اس پارلیمنٹ اور حکومت سے عوام کی فلاح کی امید بھی کیسے کی جا سکتی ہے، جن کا اقتدار میں آنے کا مقصد ہی محض اپنی کرپشن اور کاروبار بچانا ہو۔ عدلیہ آخری امید ہوتی تھی اسے بھی ایگزیکٹو کے ماتحت کر دیا گیا۔ حکمرانوں کے لئے وہ سر تسلیم خم کئے ہوئے ہیں۔ مریم نواز کو چوہدری شوگر ملز کیس سے نیب کی جانب سے کلین چٹ ملنے کے بعد اب مزید ریلیف دینے کے لئے لاہور ہائی کورٹ کی انٹری ہوئی ہے۔ ادھر نیب نے کیس بند کیا ادھر لاہور ہائی کورٹ نے 7 کروڑ روپے مریم نواز کو واپس کرنے کا حکم دے دیا۔ غریب اپنی زمین کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے کے لئے انصاف کی امید لئے انہی عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹا کھٹکھٹا کر دنیا سے رخصت ہوگئے مگر انصاف نہ ملا۔ اقتدار والوں کیلئے یہاں جھٹ پٹ حق میں فیصلے ہو جاتے ہیں۔ عوام تو بس اشرافیہ اور آئی ایم ایف کے نخرے اٹھانے کے لئے ہے۔

ویب ڈیسک

ویب ڈیسک

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In