سمیرا سلیم کا بلاگ
ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں بھی پاکستان کی طرح کرپشن institutionalized ہو چکی ہے۔ دونوں ممالک میں سیاستدانوں کی کرپشن کی داستانیں سننے کو ملتی تھیں مگر اب وہاں کے بابوز کی بھی عجب کرپشن کی غضب کہانیاں منظر عام پر آ رہی ہیں۔ اس میں سوشل میڈیا کا بڑا کردار ہے۔منفی پہلو اپنی جگہ مگر سوشل میڈیا کے مثبت پہلو سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سوشل میڈیا کے زریعے ہمسایہ ملک کے پبلک سرونٹس کی لوٹ مار منظر عام پر آنے لگی ہے۔ پولیس اور فوج کے محکمہ سے لیکر بیوروکریسی تک، کرپشن کی نت نئی واردات سامنے آ رہی ہے۔ابھی دو روز قبل ہی بھارت کے ایک انسپکڑ جس کی تنخواہ 60 ہزار روپے ماہانہ تھی،وہ 100 کروڑ بھارتی روپے مالیت کی جائیداد کا مالک نکلا اور اس کو گرفتار بھی کر لیا گیا۔ مگر 50 بھارتی زکوٹا جنوں نے جو دلچسپ واردات ڈالی ہے، اس کی کہانی پڑھیں۔
بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش میں 50 بیوروکریٹس جو مہاراشٹر ، تلنگانہ، ہریانہ اور دہلی میں تعینات ہیں، نے ایک ہی دن میں زرعی زمین خریدی، پھر اراضی کے حصول کے سال بعد ہی اس مخصوص علاقے کے لئے 3200 کروڑ روپے کے بائی پاس پروجیکٹ کو منظور کیا، کابینہ نے بھی بڑے آرام سے 3200 کروڑ انڈین روپے مالیت کے پروجیکٹ کی منظوری دے دی۔ پروجیکٹ کی منظوری کے 10 ماہ بعد زمین کی دوبارہ درجہ بندی کرتے ہوئے اسے رہائشی علاقہ قرار دے دیا گیا، جس سے زمین کی قیمتوں میں 11 گنا اضافہ ہو گیا۔ ذاتی مفادات کے تحفظ کے لئے ایسے ایسے کارنامے یہ سرکاری بابوز انجام دیتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جائے، بس عوام کی بھلائی کے لئے ہی ان کے دماغ کی بتی بجھی رہتی ہے۔
خیر سے زرعی زمین پر رہائشی کالونیاں کا کلچر صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ ہندوستان میں بھی عروج پر ہے، اور اس کام میں وہاں کے زکوٹا جن بھی کافی مال پانی بنا رہے ہیں۔ یہ بیوروکریٹس قوم کی خدمت کا بیڑا اٹھائےملک کا ایک مشکل ترین امتحان پاس کر کے آتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے اکثریت عوام کی خدمت نہیں بلکہ سیاستدانوں کے ساتھ گٹھ جوڑ سے کرپشن اور کک بیکس کے ذریعے ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے اندرون اور بیرونِ ملک جائیدادیں اور ور بزنس ایمپائر کھڑے کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں تو زکوٹا جنوں کے بارے میں خواجہ آصف بتا چکے ہیں کہ کیسے ہماری آدھی سے زیادہ طاقتور بیوروکریسی پرتگال میں جائیدادیں خرید چکی ہے۔
بھارت میں سال 2022 میں جس 5 ایکڑ زمین کی مالیت چند کروڑوں میں تھی اب اربوں روپے کی ہو گئی۔ 2024 میں 5 ایکڑ زمین کی مالیت 1 ارب 21 کروڑ 31 لاکھ 4 ہزار چھو سو روپے ہو گئی۔ یہ کارنامہ سر انجام دیا ہے بھارتی بیوروکریٹس نے جس کے بعد بھارت میں ایک بھونچال آیا ہوا ہے۔ بی جے پی حکومت کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جس کے بعد ایک بڑی خبر یہ آئی ہے کہ مرکز حرکت میں آ گیا ہے۔
مودی حکومت نے 2003 بیچ کے AGMUT کیڈر کی خاتون افسر پدما جیسوال کو بدعنوانی کے الزام میں ملازمت سے ہٹا دیا ہے۔ جیسوال، جو دہلی حکومت کے انتظامی اصلاحات کے محکمے میں اسپیشل سکریٹری ہیں۔ ان کے اوپر کیس عوامی فنڈز کے غلط استعمال، خوردبرد اور اختیارات سے تجاوز سے متعلق تھا۔ ان کے خلاف کرپشن کی مبینہ کارروائیاں 2007-2008 میں کی گئیں، جب وہ اروناچل پردیش کے ایک مغربی ضلع میں ڈپٹی کمشنر تھیں۔ مگر ان کو ہٹانے میں حکومت کو 18 سال کے گئے۔ پاکستان کی طرح انڈیا میں بھی سیاستدان اور بابوز کے گٹھ جوڑ نے انتظامی بدعنوانی کی راہ ہموار کی۔
مودی سرکار نے اب ایک حاضر سروس آئی اے ایس آفیسر کو ہٹا کر دوسروں کے لئے ایک غیر معمولی مثال قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے علاؤہ ایک سابق آئی اے ایس افسر سبودھ اگروال، جو راجستھان میں جل جیون مشن (جے جے ایم) اسکینڈل میں ملوث تھے، اور مفرور ہوئے ہوئے تھے ان کو بھی بھارتی انسداد بدعنوانی بیورو نے گرفتار کر لیا ہے، تاکہ کرپشن کے باعث عوامی ردعمل سے بچا جا سکے۔ لیکن پاکستان میں تو 22 ہزار بیوروکریٹس دوہری شہریت کے مالک ہیں مگر کوئی پوچھنے والا نہیں ، خواجہ آصف ان بیوروکریٹس کا نام تک نہ لے سکے جو پرتگال میں جائیدادیں بنا رہیں ہیں۔ اسی طرح خواجہ آصف نے ایک بیورو کریٹ کی بیٹی کی شادی میں ایک ارب بیس کروڑ روپے کی سلامی ملنے کا انکشاف بھی کیا تھا۔ یہ بیوروکریٹ TK کے نام سے مشہور ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ عمران خان 2018 میں وزیراعظم بنے تو پنجاب میں کرپشن کے الزام میں سب سے پہلے معطل ہونے والے افسران میں TK سرفہرست تھے۔ مگر ان کی طاقت اور پہنچ کا اندازہ لگائیں کہ یہیTK بعد ازاں سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے ساتھ پرنسپل سیکرٹری کے طورپر کام کرتے ہوئے مبینہ کرپشن کے تمام ریکارڈ توڑ تے پائے گئے۔ اب کرپشن کے پیسوں پر بیرون ملک مزے میں ہے۔ ہمارے ہاں اربوں روپے کی کرپشن میں بیوروکریٹس، سیاستدانوں اور ٹھیکیداروں کی فہرستیں تیار تو کی گئی مگر عملدرآمد تک بات نہ پہنچی۔
کرپشن اور کک بیکس کا سلسلہ تو اب امریکا تک پہنچ چکا ہے۔ امریکا کے جسٹس ڈیپارٹمنٹ نے سرمایہ کاری کی انوکھی پیشکش پر گوتم اڈانی کے خلاف چارجز ختم کرنے کی پلاننگ شروع کر دی ہے۔ یہ واقعات بتاتے ہیں کہ طاقتور اشرافیہ ہر جگہ ڈان کی حیثیت رکھتی ہے۔ بھارت اور پاکستان میں آپ کو ایک جیسی کرپشن کی کہانیاں ملیں گی، اب دونوں ممالک کی بیوروکریسی میں بھی فرق نہیں رہا۔ مال بنانے میں سوچ اور کام ایک جیسے ہی ہیں۔ بیوروکریسی عوامی خدمت کی بجائے سیاستدانوں کے ساتھ حاکم بن کر بیٹھی ہے۔ یہ سیاستدان اور زکوٹا جن اس تبدیلی کا خود حصہ نہیں بننا چاہتے جس کا درس عام عوام کو دیتے ہیں۔ نہ سیاستدان قربانی دینے کو تیار ہیں اور نہ ہی بابوز۔ سرحد کے دونوں اطراف سیاستدانوں کی سرپرستی میں پروان چڑھنے والی افسر شاہی غریب عوام کی جڑوں میں بیٹھ گئی ہے۔
