اسلام آباد ( احمد ارسلان ) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں کراچی کے علاقے صدر میں واقع “ال عمران جیمز، جیولز اینڈ واچز” پر ایف آئی اے کے متنازع چھاپے اور مبینہ تشدد کے معاملے پر اہم پیش رفت سامنے آگئی ۔
اجلاس میں ایف آئی اے اعلیٰ حکام نے بتایا کہ 14 مئی 2026 کو اینٹی کرپشن سرکل (ACC) کراچی نے انکوائری نمبر 69/2026 کے تحت کارروائی کی تھی، جو غیر دستاویزی لین دین اور مبینہ اسمگل شدہ چاندی سے متعلق خفیہ اطلاعات پر مبنی تھی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ کارروائی کے بعد سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز وائرل ہوئیں جن میں ایف آئی اے اہلکاروں پر دکانداروں سے بدسلوکی اور تشدد کے الزامات لگائے گئے، جس کے بعد 19 مئی 2026 کو فیکٹ فائنڈنگ انکوائری شروع کی گئی۔
انکوائری کے نتیجے میں 9 افسران و اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر علی مردان، جو قائم مقام ڈپٹی ڈائریکٹر ACC تھے، انہیں ایف آئی اے ہیڈکوارٹر اسلام آباد رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی، جبکہ ایڈیشنل ڈائریکٹر رباب قاضی کا تبادلہ ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی میں کر دیا گیا۔
انسپکٹر ذیشان حسیب اور سب انسپکٹر محمد اقبال کو معطل کرکے ایف آئی اے زونل آفس کراچی سے منسلک کر دیا گیا ہے اور ان کے خلاف مزید محکمانہ انکوائری جاری ہے۔
اسی طرح انسپکٹر اشرف جان، انسپکٹر ڈاکٹر شیخ سہیل محمود، سب انسپکٹر عدنان دلاور، اے ایس آئی غلام مجتبیٰ اور ہیڈ کانسٹیبل سید احسن علی کے خلاف بھی محکمانہ انکوائری کی سفارش کی گئی ہے۔
اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل (CCC) کراچی نے ایک نجی شخص بلال کے خلاف ایف آئی آر نمبر 12/2026 بھی درج کر لی ہے۔
قائمہ کمیٹی کے ارکان نے شہریوں کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک اور اختیارات کے غلط استعمال پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
