سمیرا سلیم کا بلاگ
پنجاب میں 5.9 کھرب روپے (21 ارب ڈالر) کا بجٹ پیش کر دیا گیا ہے۔ پاکستان کا پنجاب آبادی کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے جس کی آبادی 12 کروڑ 70 لاکھ ہے۔ اس بڑے اور اہم صوبے میں عوام الناس پر کیا خرچ ہونے جا رہا ہے، اس کا بھارتی پنجاب سے تقابل کریں تو سوچنے سمجھنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔ ہم اکثر ہندوستان پر تنقید کرتے ہیں مگر یہ حقیقت ہمیں تسلیم کرنا ہوگی کہ سیاسی نظام ہو یا معاشی میدان، ان کی کارکردگی ہم سے کہیں آگے ہے۔ ہمارے ہمسایہ بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے جس طرح اپنی عوام کے مسائل کی درست نشاندہی کرتے ہوئے پالیسیاں ترتیب دیں، اس سے ہمارے صوبائی حکمرانوں کو کچھ سیکھنا چاہیے۔ بجلی کی ناقابل برداشت قیمتوں نے جو حشر ہماری عوام کا کیا ہے، ایسی ہی صورتحال ان کو بھی درپیش تھی۔ بھارتی وزیر اعلیٰ نے اپنی عوام کو آئی پی پیز کے ظلم سے نجات دلانے کے لیے گوانڈوال تھرمل پاور پلانٹ 1080 کروڑ میں خریدا جو 549 میگاواٹ بجلی پیدا کرتا ہے۔ پھر اس پاور پلانٹ سے عوام کے لیے 600 یونٹ تک بجلی مفت کر دی۔ اسی طرح اب بھارتی پنجاب، جس کی آبادی 3 کروڑ سے کچھ زیادہ ہے، وہاں کا بجٹ تقریباً 32 ارب ڈالر ہے جو پاکستانی پنجاب سے زیادہ ہے اور وہاں کا کامیڈین وزیر اعلیٰ بھی بے مثال ہے۔
دوسری جانب مریم نواز کا پنجاب جس میں مالی سال 2026-27کے بجٹ میں ایک فرد کی ترقی اور نشوونما پر 166 امریکی ڈالر (41,000 روپے) خرچ ہوں گے جبکہ بھگونت سنگھ مان کے پنجاب میں ایک فرد کی ترقی کے لیے 1 ہزار امریکی ڈالر (2 لاکھ 78 ہزار 350 پاکستانی روپوں میں) خرچ کیا جائے گا۔ بجٹ کے اس کھیل میں اہم نقطہ یہ بھی ہے کہ بھارتی پنجاب میں عوامی بجٹ بھگونت سنگھ مان کی برینڈنگ، لگژری طیارے خریدنے اور ان کی دیکھ بھال پر خرچ نہیں ہوگا اور نہ ہی بجٹ میں لگژری طیاروں کی مینٹیننس اور وی آئی پی فلائٹس کے لیے اضافی فنڈنگ مانگی جائے گی۔
اب ذرا ایک نظر ہمارے پنجاب بجٹ پر ڈالتے ہیں، جہاں لاہور کے ترقیاتی بجٹ اور جنوبی پنجاب کے ترقیاتی بجٹ میں واضح فرق ہے، وہیں یہ بجٹ پنجاب کا نہیں بلکہ عوامی پیسے پر ایک خاندان کی ذاتی تشہیر کا گرینڈ منصوبہ نظر آتا ہے۔ حکمرانوں کی ترجیحات کا اندازہ لگائیں کہ ایک صوبہ اپنے فی طالب علم پر صرف 21 ڈالر خرچ کرے گا جبکہ ہمسایہ ملک کا صوبہ پنجاب اپنے فی طالب علم پر 124 ڈالر خرچ کرے گا۔ پاکستانی پنجاب میں جتنا ایجوکیشن کا بجٹ رکھا گیا ہے اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس قوم کو تعلیم سے آراستہ کرنا شریف خاندان کی ترجیحات میں نہیں۔ ڈر ہے کہ تعلیم و شعور کہیں اس لولی لنگڑی عوام کو یہ کہنے پر مجبور نہ کر دیں کہ "ساڈا حق ایتھے رکھ”۔ بجٹ کو دیکھیں تو لگتا ہے کہ شریف خاندان کے نزدیک صرف لاہور ہی پنجاب ہے۔ عوامی منصوبوں میں عوام کی کم اور شریف فیملی کی مارکیٹنگ کی جھلک زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ مریم نواز شریف نے دل و جان سے کوشش کی ہے کہ کوئی پروجیکٹ رہ نہ جائے جس پر ان کا یا پھر ان کے والد نواز شریف اور ان کی والدہ کلثوم نواز کا نام نہ ہو۔ تخت لاہور میں 50 ارب لاگت سے مریم نواز اسپورٹس سٹی ہو یا لاہور ہی میں 26 ارب 22 کروڑ 10 لاکھ روپے سے نواز شریف کینسر انسٹی ٹیوٹ، 5 ارب 78 کروڑ 40 لاکھ سے اربن مریم نواز ہیلتھ کلینکس کے قیام کے منصوبے سب مغلیہ حکمرانوں کی یاد تازہ کرتے ہیں۔
بات یہیں تک نہیں رکتی، گوجرانوالہ میں 6 ارب روپے کلثوم نواز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ پھر ہیلتھ سیکٹر میں 169 ارب مالیت کا ایک اور میگا پراجیکٹ نواز شریف میڈیکل ڈسٹرکٹ لاہور کے ایل ڈی اے سٹی اور پائن ایونیو میں بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بجٹ میں 40 ارب روپے کی لاگت سے مریم نواز شریف سینٹر آف اکیڈمک لیڈرشپ اور نواز شریف سینٹر آف ایکسیلنس کی تجویز دی گئی ہے۔ خیر، اربوں روپے مالیت کے شریف خاندان کے تشہیری منصوبوں کی فہرست کافی طویل ہے۔ مجھے تو یہ سب دیکھ کر زیادہ حیرانی نہیں ہوئی کیونکہ ان کا ماضی بھی یہی بتاتا ہے کہ ٹیکس دہندگان کے پیسے کو انہوں نے اپنا ہی سمجھا، اور جیسے چاہا خرچ کیا، پھر چاہے اربوں کا لگژری جہاز خریدنا ہی کیوں نہ ہو۔ ایک ایسا انوکھا ملک جس کے حکمران لگژری کاروں پر ٹیکس چھوٹ دیتے ہوں اور بچوں کی کاپی و پینسل پر ٹیکس لگاتے ہوں، ان کے حالات پھر ایسے ہی رہتے ہیں جو ہم بھگت رہے ہیں۔ پنجاب کا بجٹ شریف خاندان کے نام سے شروع ہو کر اسی پر ختم ہو جاتا ہے، گویا یہ سب عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ نہیں بلکہ ذاتی خزانے سے عوام پر احسانِ عظیم کیا جا رہا ہے۔ قوم کو ایسے حکمران مبارک ہوں۔
