• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
بدھ, جون 24, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home بلاگ

درندے رقص کناں ہیں

by ویب ڈیسک
جون 24, 2026
in بلاگ
0
درندے رقص کناں ہیں
0
SHARES
11
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter


سمیرا سلیم کا بلاگ

ابھی تو چند روز ہی گزرے تھے کہ جھنگ کی ایشال فاطمہ کے پراسرار قتل کے بعد لاہور میں ایک کم عمر گھریلو ملازمہ کو مبینہ اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنائے جانے اور پھر اسقاطِ حمل کے دوران پیچیدگیوں کے باعث لڑکی کی موت کی خبریں موضوعِ بحث بنیں، اور اب سرگودھا کی آٹھ سالہ ننھی منتہا بھی ایسی ہی درندگی کا نشانہ بن گئی ہے۔قصور کی 8 سالہ زینب کے ساتھ بھی 2018 میں وہی کچھ ہوا جو 8 سال بعد منتہا کے ساتھ ہوا۔ پاکستان میں بچیوں اور خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل کے واقعات اب معمول بنتے جا رہے ہیں۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان میں یومیہ 9 بچے جنسی تشدد اور ہوس کا شکار ہو رہے ہیں، جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ملک میں اس طرح کے سنگین واقعات اعداد و شمار کے گورکھ دھندے سے کہیں زیادہ ہیں جو رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب ایسی دل دہلا دینے والی خبریں نظر سے نہ گزرتی ہوں۔ سرگودھا کی سات سالہ منتہا کو جس طرح درندگی کا نشانہ بنایا گیا ہے، یہ انسانیت سوز واقعہ معاشرے کے لیے شرم کا مقام رکھتا ہے۔ یہ درندگی کی انتہا ہے کہ ایک معصوم بچی، جو گھر سے تقریباً 200 فٹ کے فاصلے پر ایک کریانہ اسٹور پر چیز لینے گئی، وہاں بیٹھے درندوں کی ہوس کا نشانہ بننے کے بعد بے دردی سے چھری کے وار کرکے قتل کر دی گئی۔اس واقعے کی تفصیلات پڑھنے کے بعد میرے دل و دماغ میں اسلام آباد کی نور مقدم کا واقعہ گھومنے لگا۔ وہ واقعہ بھی انتہائی خوفناک تھا، مگر قابلِ اطمینان بات یہ ہے کہ مجرم ظاہر جعفر کو سپریم کورٹ نے بھی سزائے موت سنا دی ہے۔ اب سزا پر عمل درآمد باقی ہے، جس کا انتظار پورا پاکستان کر رہا ہے۔جہاں تک سرگودھا کی منتہا کی بات ہے، اس کیس میں خبر یہ آئی ہے کہ مرکزی ملزم کو سی سی ڈی نے ماورائے عدالت قتل کر دیا ہے، جس سے مجرموں کا نیٹ ورک بے نقاب ہونے سے بچ گیا ہے۔ اگر ایسے درندوں کو عبرت کا نشان بنائے بغیر ایک گولی سے اڑا دینا ہے تو پھر ان عدالتوں کو بند کر دینا چاہیے جن پر ٹیکس دہندگان کے اربوں روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ سی سی ڈی کو اگر "لائسنس ٹو کِل” مل گیا ہے تو عدالتوں کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔والدین کے لیے اپنے بچے کی موت سے بڑھ کر کوئی صدمہ نہیں ہوتا، مگر جس حیوانیت سے منتہا کو قتل کیا گیا ہے، اس کے والدین کے کرب کا اندازہ لگانا ناممکن ہے۔ مگر یہاں سی سی ڈی اپنے تئیں انصاف کر کے بیٹھی ہے۔

بچوں سے زیادتی جیسا بھیانک جرم اب ایک عام جرم بنتا جا رہا ہے جو بچوں کے حوالے سے پاکستان کی عکاسی ایک غیر محفوظ ملک کے طور پر کرتا ہے۔ جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات کی بڑی وجہ یہاں کا کمزور اور کمپرومائزڈ نظامِ عدل ہی ہے جو معاشرے کی ضروریات اور تقاضوں پر پورا نہیں اتر رہا۔ اس ملک میں، جہاں سنگین جرائم میں سزا کا تناسب بمشکل ایک فیصد ہو، وہاں ایسے واقعات کا آئے روز ہونا اچنبھے کی بات نہیں۔منتہا کے کیس میں مجرم کو پکڑ کر تیز ترین کارروائی کرتے ہوئے بھیانک سزا دینے کی بجائے سی سی ڈی نے واردات ڈال دی۔ اگر معاشرے کی اصلاح کرنی ہے تو پھر بچوں کے مجرمان کو سرِعام چوکوں اور چوراہوں میں پھانسی دینی چاہیے۔ ان کو عبرت کا نشان بنائے بغیر ان واقعات میں کمی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، خاص طور پر ایک ایسے ملک میں جہاں چائلڈ لیبر عروج پر ہے۔اس وقت ملک بھر میں 86 لاکھ بچے انتہائی خطرناک چائلڈ لیبر کا شکار ہیں۔ ایسے معاشرے میں اگر جزا و سزا کا قانون بھی مؤثر نہ ہو تو بے لگام درندے حوا کی بیٹیوں کو ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد کاٹ کر پھینکنے کا کھیل رچاتے رہیں گے۔2019 میں عمران خان کے دورِ حکومت میں بچوں کا ریپ کرنے والوں کو سرِعام پھانسی دینے کا بل قومی اسمبلی میں پیش ہوا تھا۔

یہ بل متحدہ مجلسِ عمل کے اقلیتی نشست پر رکنِ قومی اسمبلی جیمز اقبال نے پیش کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کم عمر بچوں کا ریپ کرنے والے کی عمر 21 سال سے زائد ہو تو اسے 100 افراد کے سامنے پھانسی پر لٹکایا جائے۔اسی طرح 2020 میں قومی اسمبلی میں علی محمد کی جانب سے بھی بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے مجرمان کو سرِعام پھانسی دینے کی ایک قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کی گئی، مگر یہ قراردادیں اور بل قانون کی شکل اختیار نہ کر سکے۔علی محمد کا کہنا تھا کہ عمران خان بچوں کے تحفظ کے لیے ریپ اور پھر قتل کے مجرمان کو سرِعام پھانسی دینے کے حامی ہیں۔ تاہم علی محمد نے انکشاف کیا کہ اس قرارداد پر انہیں اپنی ہی حکومتی جماعت کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔یہ تفصیلات ہماری ذہنیت کی عکاسی کرتی ہیں کہ ہم بچوں کے معاملے میں کتنے سنجیدہ ہیں۔ یہاں سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیے فائر وال لگا دی گئی، مگر بچوں کے تحفظ کے لیے چائلڈ پورنوگرافی کی ویب سائٹس کی روک تھام کے لیے فائر وال کتنی مؤثر اور فعال ہے، اس بارے میں معلومات کم ہیں۔شیری مزاری صاحبہ نے نشاندہی کی تھی کہ بطور مسلمان ملک، پاکستان چائلڈ پورنوگرافی کے حوالے سے پہلے نمبر پر ہے، جو یقیناً بڑی شرمندگی کا باعث ہے۔آج کے حکمران بچوں کے تحفظ کو اپنی پہلی ترجیح میں شامل نہیں کرتے۔ ان کی پہلی ترجیح 11 ارب روپے کا لگژری طیارہ، شاہانہ پروٹوکول اور غیر ملکی دورے ہیں۔یہ ملک جس ڈگر پر چل نکلا ہے، یہاں نہ بچہ محفوظ ہے اور نہ ہی عورت۔ گلی کوچوں میں درندے رقص کر رہے ہیں اور نظامِ عدل خاموش تماشائی بن کر لطف اندوز ہو رہا ہے۔

ویب ڈیسک

ویب ڈیسک

Next Post

MegaCasino 2026: Análisis y visión general

dendera casino 2026 – comparar con otros sitios de online

Malina Casino 2026: ¿Vale la pena para jugadores en España?

Parhaat nettikasinot Suomessa 2026: Bonukset ja pelivalikoima

Yaass Casino 2026: seguridad, navegación y uso

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In