سمیرا سلیم کا بلاگ
سپریم کورٹ کی میزبانی میں جیل اصلاحات سے متعلق ایک قومی کانفرنس ہوئی، جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے شرکت کی، جو ایک مثبت پہلو ہے۔ اس کانفرنس میں چیف جسٹس صاحب نے ایک قیدی کا قصہ بیان فرمایا۔ غور کریں تو یہ ایک قصہ ہی ہمارے نظامِ عدل کی رسوائی کے لیے کافی ہے، کیونکہ قیدی کو سہولیات نہیں بلکہ انصاف چاہیے۔ قیدی اپنی زندگی کا بڑا حصہ انصاف کی آس میں پسِ زنداں گزار دیتے ہیں اور اکثر انصاف کی امید لیے دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ انصاف میں تاخیر بھی انصاف کا قتل ہے۔
مگر بڑا سوال یہ ہے کہ جلد انصاف ملے گا کیسے؟ یہاں جج کم ہیں اور مقدمات کا انبار لگا ہوا ہے۔ لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں ججوں کی تعداد 3 ہزار 142 ہے، جن میں اعلیٰ عدلیہ کے 126 جج بھی شامل ہیں۔ ان ججوں پر زیرِ التوا مقدمات کا بوجھ سنگین صورتحال اختیار کر چکا ہے۔ ملک بھر کی عدلیہ کو 23 لاکھ زیرِ التوا مقدمات کا سامنا ہے، جن میں سب سے زیادہ بوجھ ضلعی عدلیہ پر ہے، جہاں تقریباً 18 لاکھ 60 ہزار مقدمات زیرِ التوا ہیں۔
عدلیہ پر اس بوجھ کی بنیادی وجوہات میں ایک عدالتی آسامیوں کا خالی رہنا ہے، جبکہ دوسری جانب سیاسی وجوہات کی بنا پر ججوں کے بار بار تبادلے بھی اس مسئلے کو بڑھاتے ہیں۔ آئی ایم ایف کی ایک رپورٹ میں بھی ایک تشویش ناک رجحان کی نشاندہی کی گئی ہے، جس کے مطابق ہمارے عدالتی ڈھانچے میں بدعنوانی پنپ رہی ہے۔ سوچیں، اگر انصاف فراہم کرنے والے ادارے ہی کرپشن کی آماج گاہ بن جائیں تو عام آدمی کے لیے تیز ترین انصاف صرف ایک خواب بن کر رہ جاتا ہے۔ تیز تر انصاف کے لیے نیشنل جوڈیشل پالیسی اور ماڈل کورٹس کے قیام جیسی اصلاحات کے باوجود پیش رفت محدود ہے، اور مقدمات کا یہ بوجھ بدستور برقرار ہے۔
اب جہاں تک جیل اصلاحات کی بات ہے تو پاکستان جیسے سیاسی، سماجی اور معاشی زوال کے شکار ملک میں اس کی اشد ضرورت ہے۔ جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں اور بنیادی سہولیات کا بحران سنگین نوعیت اختیار کر چکا ہے۔ ملک کی جیلیں کھچا کھچ قیدیوں سے بھری ہوئی ہیں، جہاں حفظانِ صحت کے اصولوں کو یکسر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ان جیلوں میں 5 ہزار سے زائد قیدی ایڈز اور ہیپاٹائٹس جیسی مہلک بیماریوں سے جنگ لڑ رہے ہیں۔
اب اس کانفرنس کا حال ہی دیکھ لیجیے، جس میں مریم نواز کی جیل اصلاحات سے متعلق تقریر تو میڈیا پر لفظ بہ لفظ نشر کی گئی، مگر سہیل آفریدی کی تقریر کو سنسر کر دیا گیا۔ یوں عدالتِ عظمیٰ اپنے مہمان مقررین کے اظہارِ رائے کی آزادی کا تحفظ بھی نہ کر سکی۔
مریم نواز صاحبہ نے جیل میں فرائنگ پین سے کپڑے استری کرنے کے بعد ایک نئی جیل کہانی سنائی ہے کہ جیل میں ان کا بلڈ پریشر گر جاتا تھا، تو وہ گڑ والی بوتل سے گڑ کھاتی تھیں۔ بالآخر ایک دن ان کی بوتل ٹوٹ گئی تو انہیں کانچ ملا گڑ کھانا پڑا۔
ہمارے ہاں سیاست دان جیل جاتے ہی اکثر بیمار پڑ جاتے ہیں۔ جو لوگ آج اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں، جب زیرِ حراست تھے تو ان کا زیادہ وقت جیل کے بجائے اسپتالوں میں گزرتا تھا۔ روزانہ عوام کو کسی نہ کسی نئے مرض کے بارے میں بتایا جاتا تھا، مگر آج نظر دوڑائیں تو وہ ایسے ہشاش بشاش دکھائی دیتے ہیں، گویا انہیں کبھی کوئی بیماری لاحق ہی نہ تھی۔ پاکستان میں اقتدار ایک ایسا جادوئی طریقۂ علاج ہے جو کمبخت بیماروں کو بھی جوان کر دیتا ہے۔
اگر مریم نواز کی باتوں کو تسلیم کر لیا جائے کہ انہوں نے انتہائی سخت جیل کاٹی، جہاں فرائنگ پین سے کپڑے استری کیے جاتے تھے، اور بیٹی ملنے آتی تو روتے ہوئے واپس جاتی، تو پھر سوال یہ ہے کہ کیا اس سختی سے یہ سبق سیکھا گیا کہ عمران خان، جو ملک کے سابق وزیراعظم ہیں، انہیں سات بائی آٹھ فٹ کی کال کوٹھری میں رکھا جائے؟ نہ بچوں سے بات کرنے کی اجازت ہے، نہ خاندان کے دیگر افراد سے ملاقات کی۔ بدلے کی شدت اس قدر زیادہ ہے کہ قیدی کو اپنی مرضی کے ڈاکٹر سے علاج کرانے کی اجازت بھی نہیں۔
کیا نواز شریف کے ساتھ بھی یہی سلوک روا رکھا گیا تھا؟ کیا انہیں 50 روپے کے اسٹامپ پیپر پر، سزا یافتہ قیدی ہونے کے باوجود، ملک سے باہر علاج کے لیے جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی؟ اس ملک میں حالات کیسے بدلتے ہیں اور اقتدار کا پہیہ یکایک کیسے گھومتا ہے، یہ شریف اور زرداری خاندان سے بہتر شاید ہی کوئی جانتا ہو۔
اڈیالہ جیل اور کوٹ لکھپت جیل میں نہ جانے کتنے سیاسی اسیر انصاف کے منتظر ہیں، مگر بدقسمتی سے انصاف کسی طاقتور کی ہاں یا نہ پر منحصر دکھائی دیتا ہے۔ ایسے وقت میں، جب عدلیہ کو ایگزیکٹو کے ماتحت قرار دیا جا رہا ہے، سوال یہ ہے کہ کون سی عدالتی اور جیل اصلاحات اس ملک میں کامیاب ہو سکتی ہیں؟
کل ہی ایک خبر سامنے آئی کہ اڈیالہ جیل میں ایک قیدی بیمار ہے، جسے 14 مئی کو ڈاکٹروں نے اسپتال منتقل کرنے کی سفارش کی، لیکن جیل حکام 24 جون تک بھی پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ کے جواب کے انتظار میں بیٹھے ہیں کہ قیدی کو علاج کے لیے اسپتال بھیجنا ہے یا جیل میں ہی رہنے دینا ہے۔ اور ہم ہیں کہ جیل اصلاحات کا کھیل کھیل رہے ہیں۔
جیل اصلاحات پر قومی کانفرنس کے بعد مریم نواز نے جیلوں میں ویلفیئر ریفارمز کا حکم بھی جاری کیا، جس کے تحت قیدیوں کی بسیں ایئرکنڈیشنڈ ہوں گی اور جیلوں کو جدید طرز پر استوار کیا جائے گا۔ صحت اور تعلیم جیسی بنیادی ضروریات تو پہلے ہی ٹھیکے پر دی جا رہی ہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ جیلوں میں ان ویلفیئر اصلاحات کے کیا نتائج سامنے آتے ہیں۔
گزشتہ روز ایک اجلاس میں مریم نواز کو بتایا گیا کہ پنجاب کی جیلوں میں قیدیوں کے لیے آڈیو اور ویڈیو کالز کی سہولت موجود ہے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب نے یہ نہیں پوچھا کہ اگر ایسی سہولت دستیاب ہے تو اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم اس سے مستفید کیوں نہیں ہو رہے؟
بات وہی ہے کہ ہمارے حکمرانوں کا ظرف اتنا وسیع نہیں۔ جب وہ خود جیلوں میں ہوتے ہیں تو خود پر گزری چھوٹی سی تکلیف بھی انہیں پہاڑ جیسی محسوس ہوتی ہے، لیکن اقتدار میں آتے ہی انتقام کے اسیر بن جاتے ہیں۔ کیا ایسا نظام اور منفی جبلتوں کے اسیر حکمران انصاف کی فراہمی یقینی بنا سکتے ہیں؟ فیصلہ آپ خود کریں۔
