سمیرا سلیم کا بلاگ
سہیل آفریدی جب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا بنے تو خان کے سپورٹرز نے ان سے خان کی رہائی کے ساتھ ساتھ صوبے میں بہترین گورننس کی بھی امیدیں باندھ لیں۔ مگر ان کی وزارتِ اعلیٰ میں Powers, Immunities & Privileges Act 2026 اور اسمبلی کے وقار کے خلاف رپورٹنگ یا تقریر شائع کرنے پر صحافیوں کو قید اور سزا دینے کا ایکٹ منظور ہونے کے بعد لگتا نہیں کہ وہ عمران خان کی رہائی کا بھاری پتھر اٹھا سکیں گے۔ سہیل آفریدی، جنہیں خان کا ٹرمپ کارڈ سمجھا جا رہا تھا، اب وہ عمران خان کی بجائے وزارتِ اعلیٰ کی کرسی کے عشق میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ خیبرپختونخوا اسمبلی میں ممبران کے استحقاق، پروٹوکول اور مراعات کا بل جس نے بھی پیش کیا، اس پر نہ اپوزیشن نے شور کیا اور نہ ہی حکومتی بینچوں سے کوئی آواز اٹھی۔ عوام کے ٹیکسوں کے پیسوں سے شاہانہ مراعات کی بات آئے تو یہ سب یک جان و یک زبان ہو جاتے ہیں۔ تحریک انصاف بھی ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے نقشِ قدم پر چل نکلی ہے۔ اس بل کی منظوری سے تحریک انصاف کا دوہرا معیار بھی ایکسپوز ہو گیا ہے۔
پارٹی کا بانی پسِ زنداں ہے اور یہ مراعات کے حصول کے لیے قانون سازی میں مصروف ہیں۔ مراعات سے متعلق بل پاس کرنے کی ایسی ہی ایک کوشش 2019 میں بزدار حکومت نے بھی کی تھی، جسے اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے ناکام بنا دیا تھا۔ عمران خان نے پنجاب کے گورنر کو اراکینِ پنجاب اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کی سمری پر دستخط نہ کرنے کی ہدایت جاری کی تھی۔ خان نے وزیراعلیٰ کو دی گئی تاحیات مراعات کے فیصلے پر بھی نظرِ ثانی کرنے کو کہا تھا، اور وہ وزیراعلیٰ کو تاحیات گھر دینے کے فیصلے کے بھی خلاف تھے۔ خان نے لائف ٹائم کے بجائے مراعات کا دورانیہ زیادہ سے زیادہ تین ماہ تک رکھنے کی تجویز دی تھی۔ سہیل آفریدی حقیقتاً نظریاتی نکلے اور وہ کام کر دکھایا جو عثمان بزدار نہ کر سکا۔
بل کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں، ان میں مراعات سے متعلق ایکٹ کے سیکشن 14 کے تحت ایم پی اے آٹھ غیر ممنوعہ ہتھیاروں کے لائسنس کے حقدار ہوں گے، جن میں سے چار لائسنس تاحیات بغیر کسی فیس کے رکھنے کے حقدار ہوں گے۔ اسی سیکشن میں پانچ نئی مراعات بھی شامل کی گئی ہیں، جن میں اراکین کی اہلیہ کے لیے بلیو پاسپورٹ کے علاوہ اسمبلی شناختی کارڈ کا اجرا بھی شامل ہے۔ اسی طرح ایم پی ایز ملک کے تمام ہوائی اڈوں پر وی آئی پی لاؤنجز استعمال کرنے کے بھی حقدار ہوں گے۔
اس قانون کے منظرِ عام پر آتے ہی سوشل میڈیا پر بھی تنقید کا ایک طوفان برپا ہو گیا، جس میں تحریک انصاف کے کارکنان اور ہمدردی رکھنے والے پیش پیش تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کریڈٹ انہیں جاتا ہے کہ وہ اپنی پارٹی کے غلط کاموں کا دفاع کرنے کے بجائے بھرپور تنقید کرتے ہیں۔ اسی تنقید نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو متنازع بلوں پر نظرِ ثانی کرنے پر مجبور کیا۔
تنقید جائز بھی ہے کہ اگر آپ نے دوسرے صوبوں کی دیکھا دیکھی خود کو تاحیات استثنا اور مراعات دینی ہیں تو پھر آپ میں اور عوام کے پیسوں سے لگژری جہاز خریدنے والوں میں کیا فرق رہ جائے گا؟ اور سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ تحریک انصاف کو آخر اس کی ضرورت کیوں پیش آ گئی؟ جس بندے کے نام پر ووٹ لے کر اس اسمبلی میں آئے ہیں، وہ جیل میں قیدِ تنہائی کاٹ رہا ہے اور یہاں ایم پی ایز اپنی بیویوں کے لیے بلیو پاسپورٹ دلوانے میں لگے ہوئے ہیں۔
ایسی قانون سازی کے بعد بھی خیبرپختونخوا کے وزیرِ اطلاعات شفیع جان ڈھٹائی سے وفاقی حکومت سے 54 ہزار بلیو پاسپورٹس کے اجرا پر پوچھ گچھ کی بات کر رہے تھے۔ بھئی، اگر وفاقی حکومت نے غلط کام کیا ہے تو ضروری نہیں کہ عمران خان کی پارٹی کی حکومت بھی وہی روش اختیار کرے۔
اچھی بات یہ ہوئی کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے شدید عوامی ردِعمل کے بعد دونوں متنازع بلوں پر نظرِ ثانی کا اعلان کر دیا ہے۔ خیبرپختونخوا بری طرح دہشت گردی کا شکار ہے، مہنگائی اور غربت نے پورے پاکستان میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں، عوام کے لیے ریلیف نام کی کوئی چیز نہیں، اور عوامی نمائندوں کو ٹول ٹیکس سے بھی استثنا چاہیے۔
انتخابات کا جو طریقۂ کار رائج ہو گیا ہے، اس کے بعد عوام کی حقیقی نمائندگی تو محض ایک خواب بن کر رہ گئی ہے، تاہم خود کو عوام کی حقیقی جمہوری نمائندگی کا دعویٰ کرنے والوں کو تو احتیاط برتنی چاہیے تھی۔ وفاقی حکومت کی جانب سے آزادیٔ اظہار کو محدود کرنے کے لیے پیکا ایکٹ کیا کافی نہیں تھا کہ اب مزید زبان بندی کے لیے تحریک انصاف بھی صوبے میں ایسی قانون سازی میں پیش پیش ہے؟ ہر لمحہ ایک دوسرے پر تنقید کی بوچھاڑ کرنے والی یہ پارٹیاں اپنے ذاتی فوائد کے لیے ایک ہو جاتی ہیں، اور جب عوام کی بات کی جائے تو خزانہ خالی ہونے کی رٹی رٹائی کہانی سننے کو ملتی ہے۔
