• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
منگل, جولائی 14, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home بلاگ

تعلیم اور صحت سے محروم لوگ 

by ویب ڈیسک
جولائی 14, 2026
in بلاگ
0
تعلیم اور صحت سے محروم لوگ 
0
SHARES
5
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

سمیرا سلیم کا بلاگ

پاکستان میں اس وقت تعلیم ہو یا صحت، دونوں شعبوں کے مسائل سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ بچوں میں ایچ آئی وی جیسی خطرناک بیماری کے کیسز میں اضافہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ ان معاملات پر حکمران بھی خاموش ہیں اور پارلیمان کو بھی اس مسئلے میں کوئی دلچسپی نہیں۔

عوامی طاقت سے پارلیمنٹ میں پہنچنے کے دعوے داروں کی ساری توجہ خود کو تاحیات بلیو پاسپورٹ کا حق دلانے میں لگی ہوئی ہے۔ نئی نسل تعلیم سے محروم رہے یا ایڈز کا شکار ہو، یہ ان کا مسئلہ نہیں۔ حکمرانوں کو بس بلیو پاسپورٹ چاہیے تاکہ ان کے اہلِ خانہ عام پاکستانیوں کی طرح ایئرپورٹس پر قطار میں کھڑے ہونے کی اذیت سے محفوظ رہ سکیں۔

حال ہی میں تعلیم سے متعلق سول سروسز اکیڈمی کی رپورٹ سامنے آئی، جس میں انکشاف کیا گیا کہ دہائیوں سے ڈھائی کروڑ بچے اسکول سے باہر ہیں۔ دو سالہ تعلیمی ایمرجنسی کے باوجود تعلیمی نظام اور اعدادوشمار میں بہتری نہیں آ سکی، جس کی بڑی وجہ ناقص حکمرانی اور فنڈز کی عدم دستیابی کو قرار دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق تعلیمی ایکشن پلان کے تحت روڈ میپس تو بنا لیے گئے، مگر ان پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔

آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 25-اے تمام شہریوں کو مفت اور لازمی تعلیم کی آئینی ضمانت دیتا ہے، مگر حقائق اس سے کوسوں دور ہیں۔ آئین کی اس قدر سنگین خلاف ورزی پر منتخب نمائندوں کی بے حسی، تعلیم سے متعلق ان کی غیر معمولی بے رغبتی کو عیاں کرتی ہے۔

اب مغربی یا اسکینڈے نیوین ممالک کی مثالیں دینے کے بجائے اگر ہمسایہ ممالک کے چند اعدادوشمار دیکھ لیے جائیں تو ہمارے حکمرانوں کی ترجیحات کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔ ہمارا ہمسایہ ملک ایران، جو اس وقت جنگ کی لپیٹ میں ہے، تعلیم پر سالانہ فی کس 160 ڈالر خرچ کرتا ہے۔ اسی طرح ڈیڑھ ارب آبادی والا بھارت تعلیم پر فی کس 45 ڈالر خرچ کرتا ہے اور شرحِ خواندگی 87 فیصد ہے جبکہ پاکستان صرف 11 ڈالر فی کس تعلیم پر خرچ کرتا ہے، اس لئے 63 فیصد شرح خواندگی کے ساتھ ہی خوش ہیں۔ ایران میں شرح خواندگی 99 فیصد ہے جو 1976 میں صرف 42 فیصد تھی۔

جس پنجاب میں ایک کروڑ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، وہاں سے خبر آئی ہے کہ پنجاب حکومت نے اسکولوں کی 30 ہزار سے زائد آسامیاں ختم کر دی ہیں۔ محکمہ اسکول ایجوکیشن کی تنظیمِ نو کے نام پر صوبہ بھر میں بنیادی پے اسکیل گریڈ 1 سے 18 تک کی 30 ہزار سے زائد خالی آسامیوں کو ختم کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے، اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس پر فوری عملدرآمد بھی شروع ہو گیا ہے۔

سارا زور قرض لے کر غیر تعمیری منصوبوں پر ہے، جبکہ تعلیم، صحت اور روزگار کے لیے ان کے پاس کچھ نہیں۔ اگر ان آسامیوں کو ختم کرنے کے بجائے اساتذہ کی بھرتی کی جاتی تو اسکولوں میں اساتذہ کی کمی بھی پوری ہو جاتی اور روزگار کے مواقع بھی میسر آتے۔

افسوس کہ جہازوں پر اربوں روپے لٹانے کے لیے وسائل میسر ہیں، مگر عوام کے پیسوں پر راج کرنے والے عوام پر پھوٹی کوڑی خرچ کرنے کا بھی حوصلہ نہیں رکھتے۔

پنجاب کے اپنے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی 2026 کی بنیادی رپورٹ کے مطابق 64 لاکھ بچوں نے کبھی اسکول میں داخلہ ہی نہیں لیا، جبکہ مزید 31 لاکھ 60 ہزار بچے تعلیم ادھوری چھوڑ چکے ہیں۔ ظاہر ہے جب روزگار نہیں ہوگا اور گھر کا کچن چلانے کے لالے پڑے ہوں گے تو والدین بچوں کو اسکول چھڑوانے پر ہی مجبور ہوں گے۔ ہم چاہے جتنے بھی خوش نما نعرے لگا لیں کہ "ریاست ہوگی ماں کے جیسی”، ان سے غریب کا پیٹ نہیں بھرتا۔

دوسری جانب صحت کی سہولیات کسی بھی صوبے میں ایسی نہیں کہ جن کی مثالیں دی جا سکیں۔ سندھ کے کئی اضلاع ایچ آئی وی/ایڈز کا گڑھ بن گئے ہیں۔ کراچی کے ایک ہی خاندان کے 4 بچوں میں ایڈز کے کیسز سامنے آئے ہیں۔ شفا خانے پنجاب کے ہوں یا سندھ کے، بچوں میں ایڈز منتقل ہونے کا ایک بڑا ذریعہ بنتے جا رہے ہیں۔

تونسہ کے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کا ذکر ہو، نشتر ہسپتال کا یا پھر سندھ کے اینٹی ریٹرو وائرل ٹریٹمنٹ سینٹر اور ولیکا ہسپتال کا، ان کے پاس ہر مریض کے لیے الگ الگ ڈسپوزیبل سرنج بھی دستیاب نہیں۔ ظاہر ہے جس ملک کی جی ڈی پی کا صرف ایک فیصد صحت کے شعبے کے لیے مختص ہو، وہاں اس سے زیادہ امید بھی کیا کی جا سکتی ہے۔

حکومتی سنجیدگی کا فقدان اس بحران کو ایک ناقابلِ تلافی انسانی المیے میں تبدیل کر رہا ہے۔ افسوس کہ حکومت کے ساتھ قوم بھی گہری نیند میں ہے۔

ویب ڈیسک

ویب ڈیسک

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In