• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
ہفتہ, جولائی 18, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home بلاگ

دائروں کا سفر

by ویب ڈیسک
جولائی 18, 2026
in بلاگ
0
پاکستان کا ہر شہری 2 لاکھ 80 ہزار روپے کا مقروض ہوگیا
0
SHARES
19
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

سمیرا سلیم کا بلاگ

سمجھ نہیں آ رہی کہ ملک میں چل کیا رہا ہے۔ پالسی سازوں کی ناکامیاں کھل کر عیاں ہو رہی ہیں۔ رواں سال گندم کی ریکارڈ فصل ہوئی مگر ہر سال کی ایک بار پھر بحران کا سامنا ہے۔ گندم کی کٹائی کو چوتھا مہینہ ہے اور فلور ملز مالکان نے حکومت کو خبردار کر دیا ہے کہ جلد از جلد گندم درآمد کر لیں ورنہ آٹے کی قلت سر پر کھڑی ہے۔ پروگریسو فلور ملز گروپ کی جانب سے مقامی اخبار میں میں بڑا اشتہار بھی دیا گیا ہے جس میں حکومت سے گندم امپورٹ کرنے کی اپیل کی گئی ہے.

دوسری طرف شوگر ملز مالکان حکومت پر دباؤ ڈالے ہوئے ہیں کہ انھیں فری طور پر 6 لاکھ ٹن چینی ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دی جائے۔ بات یہیں تک نہیں رکی بلکہ ستمبر/ اکتوبر میں نئے کرشنگ سیزن کے آغاز پر مزید ساڑھے 5 لاکھ میٹرک ٹن چینی ایکسپورٹ کرنے کی اجازت بھی مانگ لی ہے۔ ہمیشہ کی طرح یہ مافیا اس بار بھی ملک میں چینی کی وافر مقدار کا رونا رو رہے ہیں، تاکہ چینی ایکسپورٹ کر کے ملکی سطح پر بھی نرخ بڑھائے جا سکیں، اور عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ جائے۔ یہی کام 2024-25 میں بھی شوگر ملز مالکان نے کیا تھا جب 112 ارب روپے کی چینی ایکسپورٹ کی،نتیجے میں ملکی سطح پر چینی کا مصنوعی بحران پیدا کیا اور نرخ بڑھا کر اضافی 300 ارب روپے منافع کمایا گیا۔یہ دھندہ ہر سال ہوتا ہے اور حکومت عوام کی بجائے ہمیشہ شوگر ملز مالکان کے ساتھ کھڑی ہو جاتی ہے۔

اس میں ان کا قصور بھی نہیں کہ آدھی سے زیادہ شوگر ملز ان کے اپنے خاندانوں یا قریبی یار دوستوں کی ہیں۔ شوگر ملز ایسا کامیاب دھندہ ہے کہ اب ہر طاقتور شوگر مل لگانا چاہتا ہے۔ وہ کسان جو سارا سال گرمی سردی کی پرواہ کئے بغیر اس امید پر کھیت میں جتا رہتا ہے کہ فصل اچھی ہوگئی تو پرانے قرض اتر جائیں گے اور بہن بیٹی کی شادی اچھے طریقے سے ہوپائے گی ساتھ میں گھر بھی چل جائے گا۔ اس ملک کا سرمایہ کار مگر ہر بار کسان کی امیدوں سے کھیلتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کسان کو کھیتی باڑی کے سوا کچھ نہیں آتا اور اس نے یہی کرنا ہے۔فصل اچھی ہو جائے تو صحیح نرخ نہیں دیئے جاتے۔ کسان کے ساتھ ایک اور کھیل بھی کھیلا جاتا ہے کہ جب بھی کسی نقدآور فصل کی برداشت کا موقع آتا ہے تو اس سے کچھ وقت پہلے وہ جنس امپورٹ کر لی جاتی ہے تاکہ مقامی منڈی میں نرخ کو گرایا جاسکے اور پھر اسی بنیاد پر کسانوں سے اپنی مرضی کے نرخوں پر اس کی سال بھر کی محنت کی کمائی کوڑیوں کے بھاؤ خرید لی جاتی ہے۔ حالات یہ ہیں کہ زیادہ تر شوگر ملز مالکان نے اس سال کسانوں کو مکمل ادائیگیاں تک نہیں کیں۔ کسان زیادہ شور مچائے تو ملز مالکان کسانوں کو کرشنگ سیزن کے آخر میں مارکیٹ کی قیمت سے بھی زیادہ نرخوں پر چینی تھما حساب برابر کر دیتے ہیں۔۔ کسان یہ چینی مارکیٹ کے جا کر بیچتا ہے تو اسے 5 سے 10 روپے فی کلو نقصان ہوتا ہے۔ اسی طرح سے گندم کے ساتھ جو کھلواڑ کیا گیا، کہ کسان کو پیداواری لاگت بھی نصیب نہ ہوئی۔ کسان سے گندم 28 سو روپے سے 32 سو روپے کے درمیان خریدی اور 3 ماہ نہیں گزرے کہ وہی گندم اب 4 ہزار 500 روپے میں فروخت کی جا رہی ہے۔

اب ہم گندم امپورٹ کریں گے اور قیمتی زرمبادلہ اس پر خرچ کریں گے۔ پھر ہم چینی ایکسپورٹ کی جائے گی بعد ازاں وہی چینی دوبارہ امپورٹ کریں گے ۔ اندازہ کریں کہ زرعی ملک کا فوڈ امپورٹ بل 9.1 ارب ڈالرز سے زیادہ ہے، اس اضافے کی بڑی وجہ چینی اور خوردنی تیل کی درآمد میں سال بہ سال اضافہ ہے۔
مالی سال 26 کے دوران اپریل تا جولائی کے عرصے میں غذائی اشیاء کی برآمدات 32 فیصد کم ہو کر 4.19 ارب ڈالر رہ گئیں ہیں، جبکہ چینی کی امپورٹ میں 10 ہزار فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔ اب اندازہ لگائیں کہ ادھر چینی ایکسپورٹ ہوتی ہے تو ساتھ ہی وہی چینی حکومت ڈالرز کی شکل میں قیمتی زرمبادلہ خرچ کر کے درآمد کر لیتی ہے۔ اس کاروبارِ کا تقریباً نصف سے بھی زیادہ حصہ سیاستدانوں، حکمران اشرافیہ اور ان کے قریبی کاروباری شراکت داروں کی ملکیت ہیں اس لئے ان کے کاروبار کبھی خسارے میں نہیں جاتے۔ خسارے میں صرف عام آدمی ہے۔

موجودہ سیٹ اپ میں عوام کی گردن مہنگائی، غربت اور بےروزگاری کی تیز دھاری تلوار کے نیچے ہے۔ اگر کسی کو نقصان ہوا ہے تو وہ عام آدمی کا ہوا ہے۔ عمران خان کی حکومت سے پہلے اور بعد میں کئی شوگر اور گندم اسکینڈلز آئے، عمران خان کے دور اقتدار میں بھی بڑا شوگر اسکینڈل منظر عام پر آیا جس کی انکوائری ہوئی مگر بات اس سے آگے سزا تک نہ بڑھ سکی۔ یہ لوگ عوام کے لئے نہیں بلکہ اپنے کاروبار کو تحفظ دینے کے لئے ہی تو ایوانوں میں بیٹھے ہیں۔ اس لئے حکمران اشرافیہ کے چینی اور گندم اسکینڈلز بھی آج تک ان کا کچھ نہ بگاڑ سکے۔ چینی اور گندم کا یہ گورکھ دھندہ جاری ہے، یا یوں کہیں کہ ایک دائروں کا سفر ہے جو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔

ویب ڈیسک

ویب ڈیسک

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In