تحریر :تنویر احمد
پاکستان کے موجودہ صوبوں کو مزید چھوٹی اکائیوں میں تقسیم کرنے کی بحث اب حاشیے سے نکل کر ملکی سیاست کے مرکز میں آچکی ہے۔تقریباً ہر بڑی سیاسی جماعت نے اس معاملے پر غور کرنے کی حمایت کی ہے۔یہ بحث سنجیدہ ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ اسے عملی طور پر آگے بڑھایا جائے۔
یہ ایک تاریخی موقع ہے، لیکن اس میں ایک تاریخی جال بھی پوشیدہ ہے۔
اگر ہم صرف نئے اور چھوٹے صوبے بنا دیں، لیکن نظام کے بنیادی اصول تبدیل نہ کریں تو بہتر طرزِ حکمرانی حاصل نہیں ہوگی۔ ہمیں اسی ناکام نظام کے چھوٹے ورژن ملیں گے۔ وہی بااثر سیاسی خاندان نئی اسمبلیوں پر قابض ہوجائیں گے، وہی ’’الیکٹ ایبلز‘‘ نئی نشستوں پر کامیاب ہوں گے اور وہی سلسلہ دوبارہ شروع ہوجائے گا: وزارتیں سیاسی وفاداری اور سرپرستی کی بنیاد پر تقسیم ہوں گی، پالیسیاں ایسے لوگ بنائیں گے جنہوں نے کبھی بجٹ نہیں چلایا ہوگا اور عوام سوچتے رہ جائیں گے کہ نیا صوبہ آخر پرانے صوبے سے مختلف کیوں نہیں ہے۔
چھوٹے صوبے ہمیں ایک خالی صفحہ فراہم کرتے ہیں، لیکن اگر اس صفحے پر ہم وہی پرانا آئینی اور انتظامی نظام لکھ دیں تو یہ ایک تاریخی موقع ضائع کرنے کے مترادف ہوگا۔ہر نئے صوبے کو صرف دو بنیادی اصلاحات درکار ہیں۔ پہلی یہ کہ جس سیاسی جماعت کو اسمبلی میں اکثریت حاصل ہو، اسے ایسے وزرا مقرر کرنے کی اجازت دی جائے جو اسمبلی کے رکن نہ ہوں۔ دوسری یہ کہ ہر وزیر کو واضح اور قابلِ پیمائش اہداف پر مشتمل عوامی کارکردگی کے معاہدے کا پابند بنایا جائے، جس میں ناکامی کی صورت میں خودکار نتائج بھی طے ہوں۔
یعنی ایک آئینی ترمیم ایسے اہل افراد کو حکومت میں لانے کا راستہ کھولے گی جو سیاست دان نہیں، جبکہ دوسرا انتظامی نظام ان سے کارکردگی حاصل کرے گا۔موجودہ نظام میں کابینہ کا دائرہ منتخب ارکانِ صوبائی اسمبلی تک محدود ہے۔ انتخابات جیتنے کے لیے پیسہ اور برادری کی وفاداری ضروری سمجھی جاتی ہے، لیکن بیلنس شیٹ پڑھنے یا اسپتال چلانے کی صلاحیت ضروری نہیں۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے: وزارت اکثر اس رکنِ اسمبلی کو مل جاتی ہے جس نے انتخابی مہم پر سب سے زیادہ رقم خرچ کی ہو، نہ کہ اس شخص کو جو حقیقتاً وزارت کو بہتر انداز میں چلا سکتا ہو۔
ایک آئینی ترمیم ماہرینِ معیشت، انجینئرز، ڈاکٹروں اور ریٹائرڈ سول سرونٹس کے لیے کابینہ کے دروازے کھول سکتی ہے۔ انہیں اسمبلی میں توثیق اور سوالات کا سامنا کرنا ہوگالیکن سیاست دان ہونا ضروری نہیں ہوگا۔ ان کے لیے اصل معیار اہلیت ہونا چاہیے۔
لیکن احتساب کے بغیر اہلیت بھی آرام دہ کرسی پر بیٹھے ایک ذہین شخص سے زیادہ کچھ نہیں۔ چین گزشتہ چار دہائیوں سے اپنے مقامی حکام کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے Target Responsibility System یعنی چینی زبان میں ’’موبیاؤ زَرین ژی‘‘ استعمال کر رہا ہے۔
سال کے آغاز میں ایک سرکاری عہدیدار قابلِ پیمائش اہداف پر مشتمل ایک عوامی معاہدے پر دستخط کرتا ہے۔ سال کے اختتام پر اعداد و شمار فیصلہ کرتے ہیں: بہترین کارکردگی دکھانے والے کو ترقی، ناکام رہنے والے کو تبادلہ۔ کوئی فون کال اعداد و شمار کے فیصلے کو تبدیل نہیں کرسکتی۔ مقصد چین کی سیاست درآمد کرنا نہیں بلکہ اس کے ایک انتظامی طریقۂ کار سے استفادہ کرنا ہے۔
مثلاً ایک نیا وزیرِ صحت، جو کسی بڑے اسپتال کا سابق سربراہ ہو، یہ معاہدہ کرے کہ وہ بچوں کی شرحِ اموات میں ایک مقررہ فیصد کمی لائے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ہر دیہی مرکزِ صحت میں ہفتے کے کم از کم چھ دن ڈاکٹر موجود ہو۔
اہداف حاصل ہوں تو وزیر اپنے عہدے پر برقرار رہے اور اضافی بونس حاصل کرے۔ دو سہ ماہیوں تک اہداف پورے نہ ہوں تو خودکار طور پر عہدے سے ہٹا دیا جائے۔ کارکردگی کا اسکور کارڈ ہر ماہ عوام کے سامنے پیش کیا جائے اور اعداد و شمار کا آزادانہ آڈٹ کرایا جائے۔
اگر کوئی اعداد و شمار میں جعل سازی کرے تو اسے تین سال کے لیے سرکاری عہدوں سے بلیک لسٹ کردیا جائے۔ جب بددیانتی کی قیمت پورا کیریئر ختم ہونا ہو تو ایمانداری ہی سب سے منطقی انتخاب بن جاتی ہے۔
اسمبلی سے باہر کے ماہرین کو کابینہ میں شامل کرنا، لیکن کارکردگی کا نظام نہ بنانا، غیر منتخب منظورِ نظر افراد پیدا کرنے کے مترادف ہوگا۔ دوسری طرف، کارکردگی کا نظام بنا دینا لیکن ماہرین کو اسمبلی سے باہر سے لانے کی اجازت نہ دینا بھی بے فائدہ ہوگا، کیونکہ اسمبلی کے اندر موجود افراد میں ہر شعبے کے لیے مطلوبہ ماہرین کی تعداد موجود نہیں۔
یہ دونوں اصلاحات قینچی کی دو دھاروں کی طرح ہیں: ایک صحیح لوگوں کو تلاش کرکے حکومت میں لاتی ہے اور دوسری ناکام ہونے والوں کو ہٹاتی ہے۔
ایک نیا صوبہ نئے سرے سے آغاز کرسکتا ہے۔ اسے اصلاحات کی مزاحمت کرنے والی پرانی بیوروکریسی اور کئی دہائیوں پر مشتمل سیاسی سرپرستی کے نیٹ ورک کو توڑنے کا بوجھ نہیں اٹھانا پڑے گا۔ وہ پہلے دن سے نئے قواعد مرتب کرسکتا ہے۔
لہٰذا جو سیاسی جماعتیں نئے صوبوں کی حمایت کا دعویٰ کرتی ہیں، ان سے یہ مطالبہ ہونا چاہیے کہ دونوں اصلاحات کو ایک ہی آئینی پیکیج کا حصہ بنایا جائے۔
عوام کو صرف نیا صوبہ اور وہی پرانی ناکام کابینہ نہ دی جائے۔ انہیں نیا صوبہ اور ایک مؤثر حکومت دی جائے۔ کابینہ کے کم از کم نصف ارکان اسمبلی سے باہر کے ماہرین میں سے مقرر کیے جائیں۔ پہلے دن ہی کارکردگی کے معاہدوں پر دستخط ہوں۔ ہر ماہ کارکردگی کے اسکور کارڈ شائع کیے جائیں۔
عوام کو یہ دیکھنے کا موقع دیا جائے کہ آیا عددی اہداف رکھنے والا پیشہ ور وزیرِ صحت، ووٹ بینک رکھنے والے سیاسی وزیرِ صحت سے بہتر نتائج دے سکتا ہے یا نہیں۔
اگر یہ تجربہ کامیاب ہوتا ہے تو ثابت ہوگا کہ اچھی حکمرانی کا تعلق صوبے کے حجم سے نہیں بلکہ اسے چلانے والے لوگوں کے معیار سے ہے۔
لیکن اگر ہم نے کچھ نہ کیا، نئے صوبے بنائے اور صرف پرانے اصولوں کو نئے نقشوں پر نقل کردیا تو ہم ایک تاریخی موقع کو تاریخی مایوسی میں تبدیل کردیں گے۔دیوار پر نئے نقشے ہوں گے، مگر زمین پر پرانی ناکامیاں۔
نوٹ : تنویراحمد امریکا میں مقیم معروف پاکستانی کاروباری شخصیت اور سماجی خدمت گار ہیں۔ وہ ہلالِ امتیاز اور پرائیڈ آف پاکستان کے اعزازات کے بھی حامل ہیں
