سمیرا سلیم کا بلاگ
دو روز قبل سپریم کورٹ نے ایک ہائی پروفائل سیاسی قیدی کی بگڑتی صحت کے باعث ایک آرڈر جاری کیا، جس میں 48 گھنٹوں کے اندر اندر پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کو الشفاء ہسپتال منتقل کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔ مگر یہ فیصلہ آتے ہی سازش کرنے والوں کو اپنے خلاف سازش ہوتی محسوس ہونے لگی، جو 4 ہفتوں کے لیے لندن گئے اور چار سال بعد ڈیل کے تحت لوٹے، ان کو سپریم کورٹ کا فیصلہ ڈیل نظر آنے لگا۔ پروپیگنڈا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔
حکمران جماعت کو اتنی فکر لاحق ہوئی کہ انہوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ خان کو کسی صورت نجی ہسپتال میں شفٹ نہیں کرنا۔ جب اس فیصلے کے خلاف نظرثانی اپیل میں بھی کچھ نہ بنا تو پلان بی پر عمل کیا گیا۔
پھر کل رات کچھ ایسا ہوا، جیسا شاید فلموں میں بھی نہ ہوتا ہو۔ موجودہ نظام نے 25 کروڑ عوام کے ساتھ خطرناک مذاق کیا، ان کے جذبات کے ساتھ کھیلا۔
جو مصدقہ خبر ہے اور بہت سارے مقامی ٹی وی چینلز اور عالمی میڈیا رپورٹ کر رہا ہے، اس کے مطابق عمران خان اس وقت تو اڈیالہ جیل میں اپنے سیل میں ہیں۔ لیکن رات کو کیا ہوا؟ خان کی چند گھنٹوں کے لیے شفاء کی بجائے پمز ہسپتال منتقلی کی یہ کہانی سنسنی اور سسپنس سے بھرپور ہے۔
جس طرح امریکا میں ہالی وڈ ایران امریکا جنگ کے دوران اپنے پائلٹس کو بحفاظت ریسکیو کرنے پر فلم بنا سکتا ہے، اور ممکن ہے اس پر کام بھی جاری ہو، اسی طرح پاکستان میں خان کی ہسپتال منتقلی پر حکومتی ڈرامے بازی اور عوام کو چکمہ دینے کی منصوبہ بندی پر بھی فلم بن سکتی ہے۔ حکومت نے فلم کی کہانی کے سارے لوازمات پیش کر دیے ہیں۔
جو اطلاعات منظرِ عام پر آ رہی ہیں، اس کے بعد اگر ڈائریکٹر اور پروڈیوسر اچھا ہو تو ایکشن سے بھرپور سپر ہٹ فلم ضرور عوام کی خدمت میں پیش کی جا سکتی ہے۔ حکومت نے جس طرح میڈیا اور عوام کو چکمہ دیا ہے، اس کی مثال حالیہ تاریخ میں تو نظر نہیں آتی۔
صحافتی حلقوں سے یہ خبریں آنا شروع ہو گئی ہیں کہ عمران خان کو شفاء ہسپتال لے جایا ہی نہیں گیا، اور کچھ اطلاعات کے مطابق عمران خان نے خود شفاء ہسپتال منتقل ہونے سے انکار کر دیا۔ خبریں یہ آ رہی ہیں کہ شفاء کی بجائے خان کو پمز ہسپتال لے جایا گیا، جہاں انہیں انجیکشن لگانے کے بعد فوراً واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔
جو اب تک کی اطلاعات ہیں، ان کے مطابق دو قافلوں کا پلان ترتیب دیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا۔ ایک قافلہ عوام کو چکما دینے کے لیے شفاء ہسپتال کی جانب روانہ ہوا، جبکہ دوسرا پمز کی جانب، جہاں عوام اور صحافیوں کی سوچ نہیں پہنچ سکی۔
سپریم کورٹ کے احکامات کے باعث کسی نے سوچا بھی نہیں کہ نظام کوئی اور روٹ بھی اختیار کر سکتا ہے۔ نظام نے بڑی مہارت سے میڈیا اور عوام کو بیوقوف بنا لیا اور یہ تاثر دیا گیا کہ خان کو شفاء منتقل کر دیا گیا ہے۔
لاکھوں پاکستانیوں کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اس ڈرامے میں الجھایا گیا تاکہ جب عوام اپنے لیڈر کی ہسپتال منتقلی کا جشن منا رہی ہوگی تو حکومت اپنا کھیل آسانی سے کھیل سکے گی۔
اگر تو یہ خبریں مصدقہ ہیں تو موجودہ حکومت نے جو 25 کروڑ پاکستانیوں کے ساتھ ایک خطرناک پرینک کیا ہے، اس کے قانونی اور سیاسی نتائج ان کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ عوام تو ویسے ہی ان پر بھروسہ نہیں کرتی اور کل رات کے بعد تو عوام میں ان کی ذرہ برابر بھی عزت نہ بچی۔
ہو سکتا ہے کہ توہینِ عدالت سے بچنے کے لیے حکومت نے ہسپتال منتقل کیا، مگر وہاں نہیں جہاں کے احکامات تھے۔ کورٹ میں سیکیورٹی کو بہانہ بنا کر یہ توجیہ پیش کر دی جائے گی کہ سیکیورٹی کی وجہ سے شفاء نہیں بلکہ پمز ہسپتال لے جایا گیا۔
کھیل تو حکومت نے کھیلا ہے اور وہ بھی بڑی چالاکی سے۔ اب دیکھتے ہیں کہ عمران خان کی بہن ان کی مکاری کو ایکسپوز کرتی ہیں یا نہیں۔ ڈاکٹر عظمیٰ کا کیا ردعمل آتا ہے، وہ بہت اہم ہے، کیونکہ وہ عمران خان کے ساتھ تھیں۔ حقیقت وہی بتا سکتی ہیں کہ اس سنسنی خیز ڈرامے کا کلائمکس کیا تھا۔
تاہم، ڈیل کا تاثر ضرور زائل ہو چکا ہے۔
