• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
بدھ, اگست 26, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home بلاگ

پاکستان میں حکومتوں کی کمی نہیں بلکہ اچھی حکمرانی کی کمی ہے

by ویب ڈیسک
اگست 25, 2026
in بلاگ
0
نئے صوبے، پرانے اصول؟ ایک ہی ناکامی کو دہرانے کا نسخہ
0
SHARES
21
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

تحریر : تنویر احمد

آرٹیکل 140-اے کہتا ہے کہ ہر صوبے کو اختیارات منتخب بلدیاتی نمائندوں کو منتقل کرنے چاہئیں لیکن یہ شق بس اتنا ہی کہتی ہے؛ اس میں بلدیاتی حکومتوں کی مقررہ مدت، انتخابات کی کوئی آخری تاریخ اور فنڈز کی کوئی ضمانت موجود نہیں۔ یہ ایک ایسا وعدہ ہے جو دھوئیں پر لکھا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ایک دستخط سے بلدیاتی حکومت ختم کی جا سکتی ہے، انتخابات غیر معینہ مدت تک ملتوی کیے جا سکتے ہیں اور مقامی بجٹ راتوں رات صفر کیا جا سکتا ہے۔

جب قوانین اتنے کمزور ہوں تو حکمرانی تقریباً ناممکن ہوجاتی ہے۔ ایسا میئر جسے ایک آرڈیننس کے ذریعے برطرف کیا جاسکتا ہو، سڑک بنانے کا طویل مدتی معاہدہ کیسے کرسکتا ہے؟ ایسی کونسل جو اگلے سال موجود ہی نہ ہو، اسپتال چلانے کے لیے کسی ماہر کو ملازمت کیسے دے سکتی ہے؟ اور ایسا بجٹ جو صرف اس وقت ملے جب صوبائی وزیر خزانہ کا موڈ اچھا ہو، وہ درسی کتابوں اور ویکسین کی ادائیگی کیسے کرسکتا ہے؟

اس مسئلے کا حل پیچیدہ نہیں۔ آرٹیکل 140-A کو مضبوط بنا کر اس میں تین ضمانتیں شامل کرنا ہوں گی۔

ہر منتخب بلدیاتی حکومت کو صوبائی اسمبلی کی مدت کے ساتھ ہم آہنگ مکمل پانچ سالہ مدت دی جائے۔ اسے آرڈیننس یا انتظامی حکم کے ذریعے ختم نہ کیا جاسکے۔ اسے ہٹانے کا واحد راستہ صوبائی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کا ووٹ ہو، تاکہ وسیع سیاسی اتفاقِ رائے ضروری ہو جب مدت محفوظ ہوگی تو مقامی نمائندے اگلے سیاسی موسم سے آگے کی منصوبہ بندی کرسکیں گے۔

بلدیاتی انتخابات صوبائی اسمبلی کے انتخابات کے عین اسی روز ہونے چاہئیں۔ جب آپ اپنے ایم پی اے کے لیے ووٹ دیں تو اسی بیلٹ پر اپنے مقامی کونسلر کے لیے بھی ووٹ دیں۔ اس کے بعد میئر کا انتخاب وہی کونسلرز کریں۔ فرق صرف یہ ہو کہ انتخابات واقعی وقت پر، ہر پانچ سال بعد، بغیر کسی تاخیر یا حکومتی صوابدید کے ہوں۔

صوبائی ترقیاتی فنڈز کا ایک مقررہ فیصد شفاف فارمولے کے تحت اضلاع کو منتقل کیا جائے، جس میں آبادی، پسماندگی اور کارکردگی کو مدنظر رکھا جائے۔رقم خودکارطور پر بلدیاتی حکومت کے اکاؤنٹ میں منتقل ہو کسی اضافی منظوری کی ضرورت نہ ہو اور تاخیر کی اجازت نہ دی جائے۔

ان تین ضمانتوں کے ساتھ ضلع وہ کردار ادا کرسکتا ہے جس کے لیے اسے بنایا گیا تھا: وہ مقام جہاں حقیقی حکمرانی ہو۔ حقیقی بجٹ اور مکمل مدت رکھنے والا میئر آپ کی گلی کا سیوریج ٹھیک کرسکتا ہے، کیونکہ پانچ سال بعد اسے دوبارہ آپ کے ووٹ کی ضرورت ہوگی۔ محفوظ مدت رکھنے والی کونسل صوبائی سیکریٹریٹ میں فائل کے چلنے کا انتظار کرنے کے بجائے اسکول کی چھت کی مرمت کے لیے انجینئر بھرتی کرسکتی ہےاور خودکار طور پر ملنے والا صحت کا بجٹ دیہی مرکزِ صحت میں ہفتے کے چھ دن ڈاکٹر کی موجودگی یقینی بنا سکتا ہے۔

یہ معاملہ ملک بھر میں موجود ہزاروں یونین کونسلوں اور سیکڑوں تحصیل و میونسپل اداروں کے لیے اہم ہےجو صوبائی بلدیاتی قوانین کے تحت پہلے ہی قائم ہیں؛ بڑی میٹروپولیٹن کارپوریشنز سے لے کر چھوٹی ٹاؤن کمیٹیوں تک ان میں سے ہر ادارہ ایسے شہریوں کی نمائندگی کرتا ہے جن کے پاس فی الحال ووٹ تو ہے، مگر آواز نہیں؛ نمائندہ تو ہے، مگر وسائل نہیں۔

جن اضلاع میں یہ نظام کامیاب ہوگا، جہاں سڑکیں تعمیر ہوں گی، اسکولوں کی چھتیں مرمت ہوں گی، مراکزِ صحت کو ادویات ملیں گی اور مالی حسابات عوام کے سامنے پیش کیے جائیں گے، وہاں شہری پہلی بار ایک ایسی حکومت دیکھیں گے جو اس لیے کارکردگی دکھاتی ہے کہ وہ ان کی بات سننے کے لیے قریب اور ان سے جواب دہ ہونے کے لیے کافی ذمہ دار ہےاور جن اضلاع میں یہ نظام ناکام ہوگا، جہاں پیسہ غائب ہوجائے گا، منصوبے رک جائیں گے اور مالی حسابات سامنے نہیں آئیں گے، وہاں شہریوں کو واضح طور پر معلوم ہوگا کہ ناکامی کا ذمہ دار کون ہے، کیونکہ میئر کا نام بیلٹ پر ہوگا اور آڈٹ رپورٹ ویب سائٹ پر موجود ہوگی۔

مستحکم جمہوریتوں میں حکمرانی اسی طرح بہتر ہوتی ہے۔ جو ادارہ پہلے سے موجود ہے اسے بااختیار بنایا جاتا ہے، اسے اپنی صلاحیت ثابت کرنے کا موقع دیا جاتا ہے اور پھر عوام کو فیصلہ کرنے دیا جاتا ہےاگر کوئی ضلع اپنے بچوں کو بہتر تعلیم دے سکتا ہے، اپنے مریضوں کا بہتر علاج کرسکتا ہے اور دور بیٹھے صوبائی دارالحکومت کے مقابلے میں اپنی سڑکیں بہتر بنا سکتا ہے تو پھر دلیل خود سامنے آجاتی ہے۔

پاکستان نے کئی دہائیاں چند ہاتھوں میں اختیارات مرکوز کرنے اور پھر ان کے نتائج پر شکایت کرنے میں گزار دی ہیں۔ نئے صوبے بنیں یا نہ بنیں، حل کا آغاز اسی مقام سے ہوتا ہے،ان اضلاع سے جو پہلے ہی موجود ہیں۔ انہیں موقع دیں کہ وہ ثابت کریں کہ بہتر حکمرانی کیا ہوتی ہے۔

آرٹیکل 140-اے میں ترمیم کریں،ضلع کو اس کا پیسہ، اس کی مدت اور اس کا انتخاب دیں،عوام ایسے وعدوں سے بہتر کے مستحق ہیں جو ایک دستخط کے ساتھ ختم ہوجائیں۔ انہیں ایسی حکومت کا حق ہے جو نتائج فراہم کرکے اپنا اختیار حاصل کرےاور اس کا آغاز وہیں سے ہو جہاں وہ خود رہتے ہیں۔

نوٹ : تنویراحمد امریکا میں مقیم معروف پاکستانی کاروباری شخصیت اور سماجی خدمت گار ہیں۔ وہ ہلالِ امتیاز اور پرائیڈ آف پاکستان کے اعزازات کے بھی حامل ہیں

ویب ڈیسک

ویب ڈیسک

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In