سمیرا سلیم کا بلاگ
وطن عزیز میں غیرت کے نام پر قتل، گھریلو تشدد کے بعد قتل، جنسی زیادتی کے بعد خواتین کے قتل کے واقعات کے تسلسل کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ معاشرے میں اس ظلم کے خلاف حساسیت دھیرے دھیرے ختم ہو رہی ہے۔
لگتا ہے جیسے یہ ہماری زندگی کے معمول کا حصہ بن چکے ہیں۔ ایسے وقت پر سیاست دانوں کے وہی دو چار روایتی بیانات کہ خواتین پر مظالم کے ذمہ داروں کو کڑی سزا دلائی جائے گی، واقعہ زیادہ بڑا ہوا تو اسمبلی میں چند جذباتی تقاریر اور پھر کسی نئے سانحے تک خاموشی۔
سزاؤں کے خوف سے بے نیاز اس معاشرے میں اب بربریت کا ایک نیا سلسلہ چل نکلا ہے، جس کا نشانہ چند ماہ کی معصوم ننھی کلیاں ہیں۔ ماؤں کی گود اجاڑنے والے یہ درندہ صفت حیوان، انسانوں کا روپ دھارے، ہمارے درمیان رشتے داروں اور کہیں ہمسایوں کی شکل میں موجود ہیں۔ حالیہ ہفتے میں تین خواتین سمیت دو بچیاں سفاکیت کا شکار ہو گئیں۔ سرگودھا کی سات سالہ بچی کا غم کم نہ ہوا تھا کہ یکے بعد دیگرے بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل کے ہولناک واقعات نے روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ معاشرے کی اقدار تو زوال پذیر ہیں ہی، مگر ہماری تربیت کی کمزوری کا پول بھی کھل گیا ہے۔ خواتین اور بچوں کی ابتر حالت کی ذمہ داری حکومت اور عدلیہ سمیت ان تمام اسٹیک ہولڈرز کی ہے جو یہ سب درندگی دیکھ کر بھی خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ قوانین پر ناقص عمل درآمد کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ اب پاکستانی ماؤں کو اپنے بچوں کی بوری بند مسخ شدہ لاشیں مل رہی ہیں۔ جنھوں نے تحفظ دینا تھا، وہ معاشرے کو ہاف فرائی یا فل فرائی کی اصطلاحات متعارف کرا رہے ہیں۔ ایوانوں میں بیٹھے سیاست دان، خاص طور پر ویمنز پارلیمانی کاکس، کا کام بھی روایتی مذمت کے سوا کچھ نہیں رہا، تو پھر پاکستان میں ہوا کی بیٹیاں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کریں؟
کراچی میں تین سالہ بچی کلثوم کے ساتھ زیادتی اور قتل کے بعد قیوم آباد کی ڈیڑھ سالہ بچی ایزل اور اب پانچ سالہ آیت نور بے دردی سے نہ صرف درندگی کا شکار بنیں بلکہ پھول کی مانند ننھی کلیوں کی تشدد زدہ، بوری بند لاشیں برآمد ہو رہی ہیں۔ ڈیڑھ سال سے پانچ سال تک کی بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی خبریں دیکھ کر بھی حکمرانوں کی روح نہیں کانپتی۔ ان بچیوں کے ساتھ ساتھ تین خواتین بھی سفاکیت کا شکار ہو کر اپنی جان گنوا بیٹھی ہیں، جن میں راولپنڈی کی 45 سالہ حنا جاوید، اسلام آباد کی حنا ظریف اور سکھر کی جنت خاتون شامل ہیں۔ ان کیسز میں زیادہ تر تشدد کرنے والے کوئی اور نہیں، انتہائی قریبی رشتے دار ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا میں ہر تیسری عورت اپنے قریبی رشتے داروں کے ہاتھوں تشدد اور درندگی کا نشانہ بنتی ہے، لگ بھگ 84 کروڑ خواتین زندگی میں کبھی نہ کبھی جسمانی یا جنسی تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔ ان میں 32 فیصد خواتین اپنے شریکِ حیات یا قریبی ساتھی کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتی ہیں۔ یہ تلخ حقیقت ہمیں تسلیم کر لینی چاہیے کہ جنسی تشدد کا ناسور معاشرے میں تیزی سے پھیلنے لگا ہے، جس کا اندازہ ساحل کی 2025 کی رپورٹ سے لگایا جا سکتا ہے، جس کے مطابق ملک بھر میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں 8 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
خواتین اور بچیوں کے تحفظ کے لیے قوانین موجود ہیں، مگر عمل درآمد صفر۔ غیرت کے نام پر قتل اور زیادتی کے مقدمات میں سزا کی شرح محض 0.5 فیصد، اغوا کے واقعات میں 0.1 فیصد اور گھریلو تشدد کے معاملے میں 1.3 فیصد ہے۔ سزا سے بچ نکلنے کے اس رجحان کو ختم کرنے میں ریاست کی ناکامی کے باعث خواتین کو یہ دن دیکھنے پڑ رہے ہیں۔ احتساب کے فقدان نے تشدد کی وبا کو جنم دیا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں والدین سے التجا ہے کہ وہ خود چوکنا ہوں اور اپنے بچوں کو کسی قریبی رشتے دار یا کزن کے ہاتھوں میں نہ دیں۔ چھوٹی بچیوں کو اکیلے دکانوں اور گلی محلے میں نہ بھیجیں۔ اپنی بیٹیوں کو زبردستی سسرال اور تشدد پسند شوہر کے ساتھ رہنے پر مجبور نہ کریں۔ جس معاشرے میں کلیاں کھلنے سے پہلے ہی مرجھانے لگیں، وہاں حکومت سے توقعات نہ باندھیں، اپنی اور اپنے بچوں کے محافظ خود بنیں۔
اس ظلم کے نظام پر شاعر قیصر ملک کی نظم کا ایک مصرع یاد آ رہا ہے:
رسم یہ کیسی عام ہو رہی ہے
حوا کی بیٹی نیلام ہو رہی ہے
