سمیرا سلیم کا بلاگ
پاکستانی قوم نے بھی کیا قسمت پائی ہے کہ ہر صبح آنکھ کھلتے ہی کوئی نہ کوئی نیا سانحہ ہمارا منتظر ہوتا ہے، لگتا ہے مسائل کو بھی پاک سرزمین سے محبت ہوگئی ہے، جو کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے۔ سرکار کے پمز ہسپتال میں نومولود بچوں کا آگ کی نذر ہونا ہو یا بچوں کا جنسی زیادتی کے بعد قتل، کوئی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں۔ اپنے گھر میں آگ لگی ہے اور حکمران دنیا بھر کے مسائل حل کرنے میں جتے ہیں۔ گویا یہ انسان نہیں، چیونٹیوں کی بستیاں ہیں جو مسلی بھی گئیں تو پھر نمودار ہو جائیں گی۔اسلام آباد کے دل میں 14 نوزائیدہ بچے زندہ جل گئے، یہ سوچ کر ہی دل دہل جاتا ہے۔ افسوس کہ اتنا بڑا سانحہ ہوگیا اور متعلقہ افراد میں سے کسی نے ذمہ داری قبول نہ کی، بلکہ الزام تراشی کا کھیل شروع ہوگیا۔
وزیراعظم نے بھی شہباز سپیڈ کا مظاہرہ کرتے ہوئے وفاقی سیکرٹری صحت کو فوری طور پر معطل کر دیا اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز، جس پر ہسپتال کی دیکھ بھال کی براہِ راست ذمہ داری تھی، کو انکوائری رپورٹ آنے تک کرسی پر براجمان رہنے دیا۔ جو ابتدائی انکوائری رپورٹ سامنے آئی ہے، وہ تو پمز انتظامیہ کے خلاف ایک سنگین چارج شیٹ ہے، جس کے تحت یہ تمام لوگ سخت سزا کے حقدار ہیں۔
پمز ہسپتال جیسا واقعہ دنیا کے کسی بھی ہسپتال میں ہو سکتا ہے، مگر عالمی سطح پر ایسے حفاظتی اقدامات وضع کیے گئے ہیں جو امید کی اس پناہ گاہ کو آگ کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ ہسپتالوں میں آگ لگنے کو ایک منفرد چیلنج سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہاں موجود افراد انتہائی کمزور اور اکثر چلنے پھرنے سے قاصر ہوتے ہیں، نقل و حرکت کے لیے انہیں مکمل طور پر عملے پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔مغربی ممالک میں ہسپتالوں میں فائر سیفٹی سے متعلق سخت ضوابط پر مکمل عمل درآمد کیا جاتا ہے۔ تمام یورپی ہسپتال، نقل و حرکت سے قاصر مریضوں اور زیادہ خطرے والے طبی ماحول کے تحفظ کے لیے EN اسٹینڈرڈز اور مقامی قومی ضوابط پر مبنی آگ سے تحفظ کے سخت اصولوں کی پیروی کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسا سسٹم ہے جس میں مریضوں کو بچانے کے ساتھ ساتھ آپریشن تھیٹر، آئی سی یو اور دیگر اہم اور حساس انفرا اسٹرکچر کو بھی محفوظ بنایا جاتا ہے۔طبی عملے کو پوری طرح سے ٹریننگ دی جاتی ہے کہ ایمرجنسی صورتحال میں کس طرح انہوں نے سب سے پہلے ایسے مریضوں یا بچوں کو ریسکیو کرنا ہے جو چلنے پھرنے سے قاصر ہیں یا پھر آگ کے فوری خطرے سے دوچار ہیں۔
پمز میں نوزائیدہ 14 بچوں کی جان بچانے کا پورا انحصار ہسپتال کی انتظامیہ اور نرسری میں کام کرنے والے عملے پر تھا۔ لیکن ہم نے کیا دیکھا کہ اتنے بڑے ہسپتال میں عملہ غائب تھا اور فائر الارم جیسا بنیادی حفاظتی ڈھانچہ سرے سے موجود ہی نہ تھا۔ صرف ایک نرس اپنی جان پر کھیل کر ایک بچے کو بچانے میں کامیاب ہوسکی۔ یہ ایک ایسی خوفناک کوتاہی اور لاپرواہی ہے جس کا ازالہ استعفوں سے بھی ممکن نہیں۔
اس ملک کے سرکاری ہسپتالوں کو ٹھیک کرنا ہے تو حکمرانوں، ججوں سے لے کر بیوروکریٹ تک سب کے لیے سرکاری ہسپتال کے علاوہ کہیں اور علاج پر پابندی لگانا ہوگی۔ پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج معالجے جیسی عیاشی پر پابندی لگ گئی اور حکمران طبقے کو اپنے علاج کے لیے انہی سرکاری ہسپتالوں میں داخل ہونا ہوا تو نہ کسی ہسپتال کے میڈیکل آلات خراب ہوں گے، نہ کہیں آگ بھڑکے گی۔ سب سرکاری ہسپتال ٹھیک ہو جائیں گے اور قوم کو پمز جیسے سانحات کا دوبارہ سامنا بھی نہ ہوگا۔
ملکی حالات دیکھیں تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ طاقتور اور عوامی تائید سے عاری سیاستدان اکٹھے ملک کی نیا پار نہیں کر سکتے۔ بہتر ہے کہ یہ سب مل بیٹھ کر فیصلہ کر لیں کہ ملک کو عوام کی حقیقی حمایت سے آنے والوں نے چلانا ہے یا انہوں نے۔وزیر داخلہ اور وزیرِ پلاننگ سے وزیرِ صحت تک سب اس نظام کی ناکامی کا اعلان کر رہے ہیں، مگر وزارت چھوڑنے کو کوئی تیار نہیں۔ ہائبرڈ پلس نظام اور ہارڈ اسٹیٹ فیلیور کے بعد کون سا نیا تجربہ اس ملک پر مسلط کرنا ہے، اب اس کا فیصلہ جلد ہو جانا چاہیے، ورنہ نظام کی ناکامی کا بوجھ یہ بے حس حکمران ایک دوسرے پر ڈالتے رہیں گے اور ہمارے بچے یونہی بَلی چڑھتے رہیں گے۔
