• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
اتوار, ستمبر 6, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home بلاگ

پرانے کھلاڑی نئے لندن پلان کے ساتھ

by ویب ڈیسک
ستمبر 5, 2026
in بلاگ
0
پاکستان کا ہر شہری 2 لاکھ 80 ہزار روپے کا مقروض ہوگیا
0
SHARES
74
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter


سمیر اسلیم کا بلاگ

ایک بار پھر برطانوی دارالحکومت لندن پاکستان کے سیاستدانوں کی اہم ملاقاتوں اور پیغام رسانی کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنا ہوا ہے۔ سیاسی جوڑ توڑ سے لے کر عمران خان کی منتقلی تک کی خبریں کسی نئے لندن پلان کی طرف اشارہ دے رہی ہیں۔ آصف زرداری کی لندن یاترا اور بلاول بھٹو کے لندن پہنچتے ہی پیپلز پارٹی نے سندھ کے بٹوارے کے خلاف طبلِ جنگ بجا دیا ہے۔ سندھ اسمبلی میں فریال تالپور کی سخت، جذباتی اور ہائی وولٹیج تقریر سے لگتا ہے کہ محسن نقوی اپنے زرداری کو رام کرنے میں ناکام رہے ہیں۔آصف علی زرداری کی خاصیت ہے کہ جب دیکھتے ہیں کہ حالات موافق نہیں تو پہلی فرصت میں ہی بیرونِ ملک سدھار جاتے ہیں۔ اب بھی صدر زرداری نے بھانپ لیا ہے کہ نئے صوبے بنانے کے لیے جس دباؤ کا اس وقت سامنا ہے، اس کے لیے بہتر یہی ہے کہ اپنے پرانے اور محفوظ ٹھکانے کا رخ کیا جائے۔ نئے صوبوں سے متعلق شہباز شریف کی خاموشی بھی بہت سارے سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ ایسے میں اب دیکھنا یہ ہے کہ ملک کا صدر طاقتور حلقوں کے دباؤ سے نکلنے کے لیے فیملی سمیت کتنا عرصہ لندن قیام کرتے ہیں۔جبکہ دوسری طرف پسِ پردہ عمران خان کی لندن منتقلی کی کوششوں کی خبریں گرم ہیں۔ تاہم خان کے ٹریک ریکارڈ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مقتدرہ اور سیاسی پنڈتوں کی یہ خواہش پوری ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔

تاہم ان پسِ پردہ کوششوں میں جمائما، ان کے بیٹے اور کسی حد تک برطانوی حکومت بھی انوالو ہو چکی ہے۔ کیونکہ اب تو برطانوی میڈیا عمران خان پر مضبوط قسم کے اداریے لکھ رہا ہے۔ حال ہی میں عمران خان کے بیٹوں نے ایک آسٹریلوی نیوز ادارے کو انٹرویو میں بتایا کہ پاکستان کی بزدل حکمران اشرافیہ ہمارے والد کی بیرونِ ملک جلاوطنی پر تیار ہے، مگر ہمارے والد یہ سمجھوتہ نہیں کریں گے۔خان کے بیٹوں کی یہ بات اس خبر کو کنفرم کر رہی ہے کہ خان کو برطانیہ منتقلی کی آفر کی جا رہی ہے، مگر اس بار بھی وہ صاف انکار کر رہے ہیں۔ خان کو اس سے قبل بھی بیرونِ ملک جلاوطنی کاٹنے کی آفرز کی جا چکی ہیں، جس کا برملا اظہار پی ٹی آئی قیادت نے بھی کیا۔اب ایک بار پھر خان کے معاملے میں مقتدرہ پر بیرونی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے، اس لیے عمران خان کی مبینہ منتقلی کے بدلے سیاسی خاموشی اختیار کرنے کی ضمانت مانگی جا رہی ہے۔ لیکن مسئلہ تو سارا جیل میں بند قیدی کا ہے کہ وہ بھی نواز شریف کی طرح سیاسی خاموشی کی آفر قبول کرتا ہے یا نہیں۔ خان نے تین سال کی جیل، قیدِ تنہائی اور مبینہ طور پر ایک آنکھ کی بصارت ضائع ہونے کے باوجود یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ زرداری اور نواز شریف کا راستہ اپنانے کو تیار نہیں۔

جہاں تک آصف علی زرداری کی سیاسی چالوں، سیاسی بصیرت اور دانش کی بات ہے تو زرداری ہمیشہ سے سیاسی پتے بڑے ماہرانہ انداز میں کھیلتے آئے ہیں۔ جب بھی ان کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ٹھن جاتی ہے تو پھر وہ اسٹیبلشمنٹ کو للکارتے ہیں۔ جیسا انہوں نے جون 2015 میں سخت زبان استعمال کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ تین سال کے لیے آتے ہو، جبکہ سیاسی جماعتیں ہمیشہ موجود رہنی ہیں۔ اس کے علاوہ ماضی میں اداروں کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکی بھی سب کو یاد ہوگی۔یہ اور بات ہے کہ ایسی للکار کے بعد وہ ملک میں نہیں رہتے، جیسا کہ اس بیان کے بعد وہ دبئی روانہ ہوگئے اور پھر ڈیڑھ سال بعد اس وقت واپسی ہوئی جب جنرل راحیل شریف ریٹائرڈ ہوگئے تھے۔ اب سندھ میں نئے انتظامی یونٹس اور صوبے بنانے کی بات چل پڑی ہے اور مقتدرہ کا خواب پورا کرنے کے لیے صدر زرداری بظاہر تیار نہیں۔ اس ایشو پر نظام کی سب سے بڑی بینیفشری ن لیگ تو سرنڈر کر چکی ہے اور "یس باس” کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔ اقتدار کی قیمت پر عوامی سرمایہ کھونے کے بعد ن لیگ کے پاس اور کوئی آپشن بھی نہیں بچا۔

پیپلزپارٹی سندھ میں اپنی بادشاہت کھونے کا تصور نہیں کر سکتی۔ پیپلزپارٹی سندھ کو اپنی جاگیر سمجھتی ہے تو ن لیگ پنجاب کو۔ ان سیاستدانوں کو عوام کی بھلائی سے سروکار تو ہے نہیں اور نہ یہ اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ آزادی کے 79 سال بعد بھی جس ملک کی قسمت کے فیصلے لندن میں ہوں، یہ اس ملک کے نظام پر سوالیہ نشان ہے۔اب دیکھنا ہوگا کہ اس بار طاقتور حلقے کس پیکج پر صدر زرداری کو راضی کرکے ملک واپس بلاتے ہیں۔ ایک طرف سندھ کو ذاتی جاگیر سمجھنے والے ہمارے صدر صاحب ہیں، جو جاگیر بچانے کے لیے نیم جلاوطنی اختیار کیے ہوئے ہیں، جبکہ دوسری طرف اڈیالہ کا قیدی ہے جو آفرز کے باوجود ملک کیا، جیل چھوڑنے کو تیار نہیں۔

ویب ڈیسک

ویب ڈیسک

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In