سمیرا سلیم کا بلاگ
ایران امریکا جنگ کو آڑ بنا کر جتنا ظلم پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا کر پاکستانیوں کے ساتھ کیا جا رہا ہے، اس کی مثال پورے خطے میں نہیں ملتی۔ صرف دو دن میں تقریباً 18 روپے پیٹرول بڑھا دیا گیا، کوئی پوچھنے والا نہیں۔ سب کو نئے صوبوں کا کھلونا دے دیا ہے کہ جاؤ اور خوب کھیلو، خود قوم کی قسمت سے کھیل رہے ہیں۔
کہیں کوئی احتجاج کی کال دے تو عدالتیں حرکت میں آجاتی ہیں، گویا سب زورِ زبان بندی پر ہے۔ اس چار سالہ دور میں بیروزگاری 21 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، 14 لاکھ افراد اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ 2 کروڑ 53 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔
ادھر اشرافیہ اپنے اللے تللوں کا بوجھ عوام پر ڈالے ہوئے ہے۔ تیل کی عالمی قیمتوں کے نام پر عوام کا خون نچوڑا جا رہا ہے، مگر یہ نہیں بتاتے کہ 114 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسز کے نام پر اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
حکمرانوں کی ہوس کہیں رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ اپنے لیے کوئی نہ کوئی جگاڑ لگا ہی لیتے ہیں۔ اب شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کی آڑ میں 6.6 ارب کی 30 لگژری گاڑیاں منگوائی جا رہی ہیں، دراصل تو 12 ارب روپے سے انہوں نے 50 لگژری گاڑیاں منگوائی ہیں۔ جیسے یہ ملک آئی ایم ایف سے قرض لیتا نہیں، دیتا ہے۔
دوسری طرف پنجاب میں بیوروکریٹس کے گھروں کی تزئین و آرائش پر 6.9 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ شہباز سرکار نے قومی تجوری کا منہ کھول کر بیوروکریٹس کو 1.8 ارب روپے صرف خصوصی الاؤنس کی مد میں دے دیا۔ یہاں بھی آئی ایم ایف نے کچھ نہیں کہا۔
شاہی لائف اسٹائل برقرار رکھنا ہے تو عوام کی بلی تو دینا پڑے گی۔
کیا ہوا جو عوام کی قوتِ خرید سکڑ چکی ہے، غربت، مہنگائی، دہشت گردی ڈیرے ڈالے ہوئے ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ جو جی چاہے کریں، عوام خاموش ہے۔
ایک وقت تھا، عوام کو "ریاست ہوگی ماں کے جیسی” کے خواب دکھائے گئے تھے، ایک امید تھی، مگر آج کے حکمرانوں نے وہ امید بھی ختم کر دی ہے۔ سب کسی معجزے کے انتظار میں اپنے حقوق ایک ایسی ریاست کے سامنے سرنگوں کیے ہوئے ہیں، جو کسی مافیا کی مانند کام کر رہی ہے۔
جسٹس آصف سعید کھوسہ نے بھی کیا خوب کہا تھا کہ یہ تو سسیلین مافیا ہیں۔ عوام کو اس مافیا زدہ سسٹم، جسے ہارڈ اسٹیٹ بھی کہا جاتا ہے، اب اس کی بھاری قیمت چکانا پڑ رہی ہے۔
حکومت کے اپنے وزیرِ پیٹرولیم نے حالیہ بجٹ سے قبل تجویز دی تھی کہ جب تک عالمی سطح پر قیمتیں بلند ہیں، پیٹرولیم لیوی کو 50 روپے فی لیٹر مقرر کر دیا جائے، مگر حکومت نے ان کی تحریری تجویز کو بھی نظر انداز کر دیا۔
آئی ایم ایف سے دو، دو ارب ڈالر کے لیے عوام کی زندگی اجیرن کرنے والوں سے آئی ایم ایف بھی نہیں پوچھتا کہ 11 مہینوں میں آئی پی پیز کو 12 ارب ڈالر کی ادائیگی کیوں، کیسے اور کہاں سے کی گئی۔
عدالتیں تو ایگزیکٹو کے تابع ہو گئیں، اب ان سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کا احتساب کون کرے؟
عجب تماشا ہے کہ ایک طرف مسلسل پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں تو دوسری طرف گندم درآمد اور چینی برآمد کی جا رہی ہے۔
گزشتہ ماہ 19 اگست کو حکومت نے 1 لاکھ 8 ہزار میٹرک ٹن چینی ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دی تھی، کہ اب پھر مزید 2 لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ نتیجہ گزشتہ برس کی طرح ہی نکلے گا، جب چینی کی قیمت 220 روپے فی کلوگرام تک پہنچ گئی تھی۔
اس کا ثبوت تو آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں معاشی اشرافیہ اور ریاستی ریگولیٹرز کے درمیان گہرے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کر کے قوم کے سامنے رکھ دیا تھا۔
ہماری یادداشت کمزور ہے یا پھر ہم گجنی سنڈروم کا شکار ہیں، اپنے ساتھ کیے گئے ظلم کو بہت جلد بھول جاتے ہیں۔
بے روزگاری کے اس دور میں پاکستان میں گزشتہ ماہ مہنگائی کی شرح 11.1 فیصد تھی۔ اب جب ٹرانسپورٹ کے کرایوں سمیت اشیائے خوردونوش، بجلی و گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گیا تو عام آدمی تو دو وقت کی روٹی کو بھی ترسے گا۔ وہ اپنے بچوں کی تعلیم اور بنیادی ضروریات کہاں سے پوری کرے گا؟
اسی فرسٹریشن کے باعث پورا معاشرہ تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ جرائم اور معاشرے میں بڑھتی ہوئی برائی کے پیچھے جو عوامل کارفرما ہیں، اس پر کسی کی توجہ نہیں۔ حکومت کے زعماء خود سسٹم کولیپس کا اعتراف کر چکے ہیں۔
المیہ یہ ہے کہ مشکوک انتخابات کے نتیجے میں وجود پانے والی پارلیمنٹ کی اپنی قانونی حیثیت پر کئی سوالات کھڑے ہیں اور وہ اب نئے صوبوں کے قیام کا بھی فیصلہ کرے گی۔ عوام پھر کسی مسیحا کے انتظار میں ہے، جو انہیں اس نظام کے چنگل سے آزاد کرائے۔

