سمیرا سلیم کا بلاگ
برطانوی سیاستدان اور وزیراعظم Sir Robert Walpole نے 1734 میں پارلیمنٹ میں ایک تقریر کے دوران ایسے سیاستدانوں، جنہیں وہ منافق اور خود ساختہ محب وطن سمجھتے تھے، ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ “All those men have their price.” یہ ایک مشہور کہاوت اور محاورہ ہے کہ ہر شخص کی ایک قیمت ہوتی ہے (every man has his price)۔ گویا انسان ایک حد تک ہی لالچ کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ دولت یا عہدے کا لالچ دے کر آپ کسی بھی انسان کی حمایت کو خرید سکتے ہیں۔ایران کے ساتھ جنگ نے ٹرمپ کی عوامی حمایت کو جس بری طرح سے مجروح کیا ہے، اس کے ازالے کے لیے وہ اس وقت ادھر اُدھر ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔ مڈٹرم الیکشن سر پر کھڑے ہیں، جہاں تجزیہ کاروں کی اکثریت کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کی پالیسیوں کے باعث ریپبلکن پارٹی کانگریس میں اپنی اکثریت کھو بیٹھے گی۔ ٹرمپ کسی صورت ایسا نہیں ہونے دینا چاہتے۔ٹرمپ خود بھی کامیاب بزنس مین ہیں اور تاجر خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، سو انھوں نے وہی راستہ چنا جو ایک تاجر مال کی قیمت لگاتے ہوئے سوچتا ہے کہ کل کو اس پر منافع کتنا ملے گا۔ صدر ٹرمپ نے عمر بھر کے کاروباری تجربے کو سامنے رکھتے ہوئے بالآخر امریکیوں کی قیمت 5 ہزار ڈالر لگا دی ہے۔پاکستان کے انتخابی و سیاسی کلچر میں بھی جب ایک کاروباری خاندان میدانِ سیاست میں آیا تو بریانی کی اصطلاح سامنے آئی۔ ایک پلیٹ بریانی پر ووٹ خریدے جانے لگے۔ ڈالروں میں تولیں تو ہمارے کاروباری سیاستدانوں نے پاکستانی ووٹر کی قیمت 1 ڈالر لگائی ہے۔ امریکی ووٹر خوش قسمت ہے کہ ان کے کاروباری صدر نے بہتر قیمت لگا کر ووٹ کو عزت تو دی۔
ہمارے سیاستدانوں کے ہتھے چڑھتے تو بریانی پر ہی گزارا کرتے۔ اب خیر، ان کے لیے حالات اور بھی بہتر ہیں، بریانی کی پلیٹ کے بغیر بھی مطلوبہ نتائج حاصل کر رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اکثر یہی سیاستدان اپنے لوگوں پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ بریانی کے ایک ڈبے پر بکنے والے لوگ ہیں۔بات بریانی کے ڈبوں تک محدود نہیں رہی، کچھ سیاستدانوں نے بڑی تعداد میں ووٹروں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے پیسوں اور موٹر سائیکلوں کا لالچ بھی دیا۔ یہ مرض صرف ہم تک محدود نہیں، ہمارے ہمسایہ ممالک میں بھی ایسا سیاسی کلچر اور تاثر عام پایا جاتا ہے، کہ جس میں ووٹر کو خریدنے کی کوشش کی جاتی ہے۔انتخابات کا دنگل سجنے سے قبل اور انتخابات کے دن پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز کا ٹرن آؤٹ بڑھانے کے لیے سیاسی جماعتیں مختلف حربے استعمال کرتی ہیں۔
امریکی صدر نے الیکشن جیتنے کی صورت میں جو "ٹرمپ ڈیویڈنڈ” کا شوشہ چھوڑا ہے، اس پر ان کو کافی تنقید کا سامنا ہے۔ تاہم امریکی سیاستدانوں کا معاشی محرک کے امکان کو انتخابات کے نتیجے سے مشروط کرنا کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ 2020 میں جارجیا میں ڈیموکریٹس نے اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ اگر سینیٹ پر ان کی پارٹی کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو کورونا وائرس سے متعلق 2 ہزار ڈالر کے امدادی چیک فراہم کیے جائیں گے۔مگر ٹرمپ نے اپنے اسٹائل میں بات کو گھما پھرا کر کرنے کی بجائے 5 ہزار ڈالر کی سیدھی پیشکش کی ہے، جسے امریکی رشوت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ٹرمپ جب دنیا پر وسیع پیمانے پر ٹیرف عائد کر رہا تھا تو تب بھی اس نے امریکیوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے انہیں مالی امداد کا لالچ دیا تھا کہ جو محصولات اکٹھے ہوں گے تو اس آمدنی کی بنیاد پر 2 ہزار ڈالر کے چیک جاری کیے جائیں گے۔مگر ابھی تو پہلا وعدہ ہی وفا نہ ہوا تو ٹرمپ نے ایک اور وعدہ کر دیا ہے، جس پر امریکیوں کو پورا یقین ہے کہ ٹرمپ کا یہ وعدہ بھی عملی شکل اختیار نہیں کرے گا۔
امریکا میں ایک بحث یہ چل رہی ہے کہ آیا صدر ٹرمپ قانونی طور پر کوئی ایسی آفر کر سکتے ہیں یا نہیں، تو اس سلسلے میں انتخابی قوانین کے ماہر رچرڈ ہیسن کا کہنا ہے کہ امریکی آئین میں پہلی ترمیم کے تحت ٹرمپ کا یہ وعدہ اظہارِ رائے کی آزادی کے زمرے میں آتا ہے۔ تاہم، اس ضمن میں انہوں نے 1982 کے مقدمے Brown v. Hartlage کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا متفقہ فیصلہ تھا، جس میں کینٹکی کے اس قانون کے اطلاق کو کالعدم قرار دیا گیا تھا جو امیدواروں کو ووٹ کے بدلے مالی فوائد کے وعدے کرنے سے روکتا تھا۔دوسری طرف وہاں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ ایک ایسا ملک، چاہے وہ سپر پاور ہے، مگر امریکا اس وقت 40 ٹریلین ڈالر کے قومی قرضے کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ ایسے ملک کے لیے یہ منصوبہ عملی طور پر ناقابلِ برداشت حد تک مہنگا ثابت ہوگا۔ امریکا کی بالغ آبادی تقریباً 270 ملین ہے اور ہر ایک کو 5 ہزار ڈالر کے چیک بھیجنے پر امریکا کے 1.3 ٹریلین ڈالر خرچ ہوں گے۔امریکی اکثریت ٹرمپ کے اس اعلان کو رشوت اور ان کے ضمیر کا سودا قرار دے رہی ہے، مگر دیکھنا یہ ہے کہ جو قیمت ٹرمپ نے امریکیوں کی لگائی ہے، کیا وہ مڈٹرم انتخابات میں کامیابی کی نوید بھی لائے گی؟
