سمیرا سلیم کا بلاگ
دنیا بھر میں نظامِ حکومت جو بھی ہو، عدل و انصاف کا بنیادی اصول یہ ہے کہ عدلیہ آزاد ہو اور ججز کسی دباؤ، خوف یا لالچ کے بغیر فیصلے دیں۔ شہریوں کے حقوق کے تحفظ کی اہم آئینی ضمانت دراصل عدلیہ کی آزادی میں ہی کارفرما ہے۔ شاید اسی لیے انیسویں صدی کے امریکی جج اور چانسلر جیمز کینٹ نے کہا تھا کہ ججوں کو ان کے فرائض کی ایمانداری سے بجا آوری اور بے باکی سے انجام دینے کے لیے ملازمت کے تحفظ، مناسب تنخواہوں اور عہدے کے وقار کو برقرار رکھنے کی ضمانت دینی چاہیے۔ اس کے پیچھے منطق یہی تھی کہ ججز ہر قسم کے خوف اور معاشی فکر سے آزاد ہو کر فیصلے کرسکیں۔
پاکستان کی دونوں بڑی عدالتوں کے قابلِ احترام ججز کی صرف تنخواہ 15 لاکھ روپے ہے، جبکہ میڈیکل ماہانہ الاؤنس، گھر، گاڑی، ملازمین اور سیکیورٹی سمیت کئی قسم کی مراعات سے فیضیاب ہو رہے ہیں۔ عوام نے بدلے میں صرف عدل و انصاف کا تقاضا کیا، مگر عام شہریوں کے لیے عدل ناپید ہوتا جا رہا ہے۔ عدالتیں سب کام کر رہی ہیں، مگر جو نہیں ہو رہا وہ ہے انصاف کی فراہمی۔ یہاں ’انصاف‘ کو یقینی بنانے کے لیے راتوں میں بھی عدالتیں کھل جاتی ہیں، مگر 143 ممالک میں پاکستان کا ’نظامِ انصاف‘ پھر بھی 130ویں نمبر پر ہے۔
گزشتہ چار برس سے پاکستان میں عدل و انصاف اور عدلیہ کا حلیہ ہی بگاڑ دیا گیا ہے، توہینِ عدالت کیس میں سپریم کورٹ کے معزز جسٹس شاہد وحید کے سخت ریمارکس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اب یہ بگاڑ سپریم کورٹ کی عمارت میں بھی شدت سے محسوس کیا جانے لگا ہے۔ 26ویں، 27ویں ترمیم کے ذریعے جس طرح سپریم کورٹ کے پر کاٹے گئے، اس کے خوفناک نتائج نکلنا شروع ہو گئے ہیں، عدلیہ کا پورا نظام ہی درہم برہم ہونے لگا ہے۔ سپریم کورٹ اتنی بے بس ہو چکی ہے کہ وہ اپنے احکامات اور فیصلوں پر عمل درآمد تک نہیں کروا پا رہی، جبکہ دوسری جانب وفاقی آئینی عدالت کی سپریم کورٹ کے فیصلوں میں مداخلت نے اعلیٰ عدلیہ کے اختیارات کے دائرۂ اختیار کو بھی چیلنج کر دیا ہے، عمران خان کے پرائیویٹ ہسپتال منتقلی کے معاملے نے دونوں عدالتوں کو مدمقابل لا کھڑا کیا ہے، وفاقی آئینی عدالت نے جس طرح عمران خان کی الشفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقلی کیس کو اپنے پاس منگوایا ہے، اس سے سپریم کورٹ کی رہی سہی ساکھ بھی مجروح ہو کر رہ گئی ہے۔ درحقیقت سپریم کورٹ کا عملی طور پر انصاف کی فراہمی میں کردار بظاہر ختم شد ہی سمجھیں، سپریم کورٹ کی حیثیت محض ایک ایسی عمارت کی رہ گئی ہے جس کا کوئی والی وارث نہیں۔
جیل میں بیٹھے ایک قیدی نے موجودہ نظام کے ماتحت عدلیہ کی حیثیت بھی عوام پر آشکار کر دی ہے۔ نجی ہسپتال منتقلی کے سپریم کورٹ کے حکم پر آئینی عدالت کے فیصلے کے بعد سپریم کورٹ پریشان اور کنفیوژن کا شکار ہو گئی ہے کہ جس طرح ایک آئینی عدالت انسانی حقوق کے کیسز سپریم کورٹ سے منگوا سکتی ہے، یہ کھلی مداخلت سپریم کورٹ کے چند ججز کو تشویش میں مبتلا کیے ہوئے ہے، جس کے لیے عدالتِ عظمیٰ کو اٹارنی جنرل کی معاونت کی ضرورت پڑ گئی ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ اٹارنی جنرل دو بڑی عدالتوں کو ایک کیس میں کیسے مطمئن کریں گے؟
تین قیدیوں کی نجی ہسپتال میں علاج کی درخواست سے کچھ حلقوں کی طرف سے یہ الزامات آنے لگ گئے تھے کہ اس کے پیچھے کچھ طاقتور لوگوں کے ہاتھ ہیں، پھر جو کچھ ہوا، اس نے ان پر مہرِ ثبت کر دی۔ آئینی معاملات کی تشریح کے لیے بنائی گئی عدالت جب فوجداری کیس میں بھی سپریم کورٹ پر حاوی ہونے لگے گی تو کیا یہ سپریم کورٹ کی بے توقیری نہیں؟ جو مظلوم انصاف کے لیے سپریم کورٹ کو آخری امید سمجھتے تھے، ان کے لیے بہت مایوسی کا دن ہے۔ جب ایک اعلیٰ عدلیہ فیصلہ کر کے بھی اس پر عمل درآمد نہ کروا سکے، جو مظلوم کی داد رسی نہ کر سکے، ایسا عدالتی بحران عوام الناس اور ملکی اقدار پر کسی حملے سے کم نہیں۔ یہ کہنا بلاجواز نہ ہوگا کہ وفاقی آئینی عدالت کے اس عمل نے کمزور عدالتی نظام کو آخری دھکا دے دیا ہے۔
