سمیرا سلم کا بلاگ
پاکستان میں گورنر راج کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ پاکستان۔ پاکستان بننے کے دو سال بعد ہی ملک گورنر راج کی زد میں آ گیا اور پہلا گورنر راج لیاقت علی خان کے دورِ اقتدار میں پنجاب میں لگا۔ تاریخ میں اب تک 16 بار گورنر راج لگا، جن میں چار دفعہ خیبر پختونخوا، چار دفعہ بلوچستان اور تین تین مرتبہ سندھ اور پنجاب میں لگائے گئے۔ اس کہانی میں مشرقی پاکستان بھی شامل ہے، ملک دو لخت ہونے سے قبل مشرقی پاکستان نے بھی گورنر راج کا مزہ چکھ لیا تھا۔
اگر تاریخ کے اوراق کو کھنگالیں تو معلوم پڑتا ہے کہ گورنر راج لگانے کے لیے آئین میں دیے گئے سارے لوازمات پورے ہونے کی ضرورت نہیں، بس ایک بہانہ اور بیانیہ گھڑ کر بڑے آرام سے گورنر راج لگایا جاتا رہا، جیسا کہ اب چوتھی بار خیبر پختونخوا میں ہوا۔
حالانکہ اگر مدعا دہشت گردی ہے تو پھر بلوچستان میں تو بہت پہلے گورنر راج لگنا چاہیے تھا۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں راج نیتی کی کہانی کے پراسرار رازوں کو اب عوام سمجھنے لگی ہے۔ گورنر راج کے نفاذ میں جمہوریت کی دعوے دار پیپلز پارٹی کا کردار بڑا ہی غیر جمہوری رہا ہے۔
1975 میں پہلی بار خیبر پختونخوا میں ذوالفقار علی بھٹو نے گورنر راج کا نفاذ کرکے ایمرجنسی ڈیکلیئر کر دی تھی، جیسا کہ اب صدر زرداری نے کیا۔ پیپلز پارٹی اب تک 6 بار گورنر راج لگا کر سویلین حکومتوں کو گرا چکی ہے، جبکہ صدر زرداری نے اپنے سابقہ دورِ صدارت میں پنجاب اور کے پی میں، اور اب موجودہ صدارتی مدت میں ایک بار پھر گورنر راج لگا کر اپنی ہیٹرک مکمل کر لی ہے۔
اب بات سوچنے کی ہے کہ صدر زرداری کا تو حکومت اور مقتدرہ کے ساتھ سندھ میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس پر پھڈا چل رہا ہے۔ جو شخص کل صدر کے بائیں جانب کھڑا گورنر راج کی سمری پر کیمرے کے سامنے دستخط کروا رہا تھا، اسے تو لندن ملاقات میں لال جھنڈی کروا دی گئی تھی، پھر موسم بدلا اور خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگانے کے لیے صدر کی حکومت کو ضرورت پیش آ گئی۔
اب زرداری ٹھہرے بڑا کھلاڑی، ظاہر ہے ایسا تو نہیں ہو سکتا کہ خاص لوگوں کی ہمدردی میں صدر زرداری نے فٹا فٹ دستخط کر دیے۔ ایک طرف بیٹا بلاول بھٹو کے پی میں گورنر راج کو سیاسی ایٹم بم قرار دے رہا تھا تو دوسری طرف یکا یک اختلافات ختم ہوئے اور باہمی صلاح مشورے سے صدر نے دستخط کر دیے۔
اس سب کے پیچھے زرداری کا اپنا صوبہ بچانے کا لالچ تھا یا کچھ اور، یہ کہانی بھی جلد کھل جائے گی، تاہم یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب بھی یہ سیم پیج پر نظر آتے ہیں، اس میں ذاتی مفادات کارفرما ہوتے ہیں۔
گورنر راج کے نفاذ سے پہلے بھی کے پی میں عملاً تحریک انصاف کی حکومت نظر نہیں آ رہی تھی۔ یہ منظر بھی چشمِ فلک نے پہلی بار دیکھا ہوگا کہ صوبے میں حکومت بھی اپنی ہے اور اپنے ہی صوبائی وزراء، ایم این ایز نامعلوم افراد کے اٹھائے جا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ بے بسی کی تصویر بنا یہ سب ہوتا دیکھ رہا ہے۔
ایسے میں گورنر راج سہیل آفریدی کے لیے مشکل حالات میں ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہی ثابت ہوا ہے۔ ایک اپاہج حکومت سے بہتر تھا کہ وہ سیاسی شہیدوں میں نام لکھواتے۔ حکومت نے انہیں وہ سب دے دیا جو وہ چاہتے تھے۔ زیرو سے ہیرو بنا دیا، سہیل آفریدی کو اور کیا چاہیے۔
وفاقی حکومت نے گورنر راج نافذ کرکے بہت بڑا رسک لیا ہے۔ پہلے حکومت دہشت گردی کے تمام واقعات کی ذمہ داری تحریک انصاف کی صوبائی حکومت پر ڈال کر خود کو بری الذمہ قرار دے لیتی تھی۔ اب صوبے کے تمام معاملات براہِ راست وفاقی حکومت کے کنٹرول میں آ گئے ہیں اور ان کے پاس کوئی بہانہ نہیں رہا۔
اگر وفاقی حکومت پختونخوا میں ہونے والی دہشت گردی پر قابو پا لیتی ہے تو اس کا کریڈٹ اسے ملے گا اور گورنر راج کے نفاذ کو بھی سیاسی حمایت حاصل ہو جائے گی، تاہم ناکامی کی صورت میں سارا ملبہ وفاقی حکومت اور فیصلہ سازوں پر گرے گا۔
