سمیر اسلیم کا بلاگ
محسن نقوی اینڈ کمپنی نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگانے کے بعد قوم کو ایک ایسا جملہ استعمال کرتے ہوئے پیغام دیا ہے جو سابق وزیراعظم عمران خان اپنے دورِ حکومت میں کثرت سے استعمال کرتے تھے۔ عمران خان جب وزیراعظم بنے تو کوئی دودھ کی نہریں نہیں بہہ رہی تھیں، ملک کے معاشی حالات بدتر تھے تو خان صاحب نے قوم سے کہا کہ "آپ نے گھبرانا نہیں ہے”۔اس بات کا اعتراف خود عمران خان نے بطور وزیراعظم 2022 میں کیا تھا کہ جب حکومت ملی تو حالات بہت خراب تھے، ملک دیوالیہ تھا اور مجھے اندازہ تھا کہ جب ہم مشکل وقت سے گزریں گے تو میری ٹیم گھبرا جائے گی۔ انہوں نے مثال دی کہ جب ہم کرکٹ کے دور میں سب سے مشکل ٹیم ویسٹ انڈیز سے کھیلتے تو مجھے اپنی ٹیم کو کہنا پڑتا تھا کہ گھبرانا نہیں ہے، اب اسی طرح اپنی کابینہ کو بار بار کہنا پڑا کہ گھبرانا نہیں ہے۔خان صاحب کے "گھبرانا نہیں ہے” کے جملے کو محسن نقوی نے بھی گزشتہ ہفتے استعمال کیا ہے اور عوام کو گورنر راج و ایمرجنسی لگانے کے بڑے کارنامے کے بعد کہا ہے کہ "اپس اینڈ ڈاؤن آئیں گے لیکن آپ نے گھبرانا نہیں ہے”۔
محسن نقوی شاید بتانا چاہ رہے ہیں کہ عمران خان کی وفاق سے خیبرپختونخوا میں حکومت گرانے تک کے ان چار سالوں میں اگر معاشی صورتحال بدترین ہوگئی ہے، 3 سالوں میں 18 لاکھ 71 ہزار پاکستانی، جن میں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی اکثریت بھی شامل ہے، ملک چھوڑ گئے، مگر آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔ پاکستان میں 20 سے 24 سال کا ہر 3 میں سے 1 گریجویٹ نوجوان بے روزگار ہے، جس سے سالانہ 31 ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، گلوبل ہنگر انڈیکس میں پاکستان کو ایتھوپیا، نائجیریا اور افغانستان کی فہرست میں لا کھڑا کیا ہے، 5 سال سے کم عمر 33 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، لیکن آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔خطے کے آدھے غریب پاکستان میں رہتے ہیں، ایسا کہنا ہے ورلڈ بینک کا، لیکن ہمارے حکمران کہتے ہیں جو ایڈونچر ہم نے کیا ہے، اس پر آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے اعدادوشمار کے مطابق دہشت گردی 2021 کے 761 واقعات سے تیزی سے بڑھ کر 2025 میں 5,397 تک پہنچ گئی، اسٹیٹ بینک کے مطابق گزشتہ چار سالوں میں ملکی قرض میں 75 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، 30 جون 2022 کو مجموعی قرض 47.83 ٹریلین روپے تھا، جو کہ جون 2026 تک 83.64 ٹریلین تک پہنچ گیا، پیٹرول تقریباً 400 روپے لیٹر، بجلی اور گیس سب عوام کی اکثریت کی دسترس سے باہر ہونے کے بعد اب قوم کو چار سال کے بعد once and for all کے بعد پیغام دے رہے ہیں کہ ابھی ہمارا تباہی کا مشن مکمل نہیں ہوا، لہٰذا گھبرانا نہیں ہے۔
ایک ہفتہ ہو گیا خیبرپختونخوا میں نیا نظام، گورنر راج اور ایمرجنسی لگائے ہوئے، لیکن پھر بھی وہاں پر نہ امن آ سکا اور نہ ہی وہاں کے مسائل میں کوئی کمی ہوئی، البتہ ایک المناک واقعہ، سانحہ پشاور، ہوا جس میں 33 ننھے معصوم اپنی جانیں گنوا بیٹھے، تو دوسری طرف پشاور میں پولیس پوسٹ پر حملہ ہوا جس میں کانسٹیبل شہید ہوگیا۔ معاشی اور سیکیورٹی کے مسائل جوں کے توں ہیں، حالات بہتر ہونے کی بجائے بگڑتے جا رہے ہیں، مگر "گھبرانا نہیں ہے”۔سیاسی پارہ بھی ہائی ہے، مولانا فضل الرحمن موجودہ نظام پر تبرّہ پڑھ رہے ہیں، ملتان میں مولانا کے خطاب میں کی گئی باتوں کی تپش کا اندازہ محسن نقوی سے لے کر مریم نواز تک کے بیانات سے لگایا جا سکتا ہے۔ محسن نقوی نے نام لیے بغیر یہ تک کہہ دیا کہ ایک پارٹی کے سربراہ گورنر راج کے اس نئے نظام میں گورنری نہ ملنے پر بہت ناراض ہیں۔ گویا ایک نئی سیاسی لڑائی کا آغاز ہوگیا ہے، لیکن بقول محسن نقوی "آپ نے گھبرانا نہیں ہے”۔
