رپورٹ : زاہد بلوچ
یورپ کو عام طور پر ترقی، خوشحالی،مضبوط معیشت اور بہترین تعلیمی نظام کی علامت سمجھا جاتا ہے لیکن براعظم کے مختلف ممالک میں ہونے والے عوامی احتجاج اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ترقی یافتہ معاشروں کو بھی سنگین سماجی اور معاشی مسائل کا سامنا ہے۔ برطانوی اخبار دی گارڈین کے فراہم کردہ عنوان کے مطابق، اسکولوں کے حالات، رہائش کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور روزمرہ زندگی کی مہنگائی نے کئی یورپی ممالک میں شہریوں کو سڑکوں پر نکلنے پر مجبور کیا ہے۔
یہ احتجاج محض کسی ایک حکومتی فیصلے کے خلاف ردعمل نہیں بلکہ عوام کی بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات، حکومتی ترجیحات سے متعلق تحفظات اور بہتر مستقبل کی خواہش کی عکاسی کرتے ہیں۔مختلف ممالک میں احتجاج کی وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں، تاہم ان کے پیچھے ایک مشترکہ سوال موجود ہے: کیا معاشی ترقی کے ثمرات عام شہری تک بھی پہنچ رہے ہیں؟
مہنگائی اور زندگی گزارنے کے بڑھتے ہوئے اخراجات
یورپ میں عوامی بے چینی کی ایک اہم وجہ روزمرہ ضروریات کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ خوراک، بجلی، گیس، ٹرانسپورٹ اور دیگر بنیادی ضروریات کے اخراجات میں اضافے سے عام خاندانوں کے بجٹ پر دباؤ بڑھتا ہے۔اگرچہ کسی ملک میں مہنگائی کی شرح کم ہونا شروع ہو جائے، تب بھی اس کا مطلب یہ نہیں کہ اشیا کی قیمتیں پہلے کی سطح پر واپس آ گئی ہیں۔
مثال کے طور پر، اگر کسی خاندان کی آمدنی میں معمولی اضافہ ہو لیکن کرایہ، خوراک اور توانائی کے اخراجات اس سے زیادہ بڑھ جائیں تو اس خاندان کی حقیقی قوتِ خرید کم ہو جاتی ہے۔ اس صورت حال میں شہریوں کے لیے بچت کرنا، بچوں کی تعلیم کے اخراجات پورے کرنا اور ہنگامی ضروریات کے لیے رقم جمع کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
کم آمدنی والے افراد، نوجوان ملازمین اور متوسط طبقے کے خاندان اس دباؤ سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاشی ترقی کے سرکاری اعداد و شمار کے باوجود عوام اپنی روزمرہ زندگی میں مشکلات محسوس کرتے ہیں۔
رہائش کا بحران؛ گھر عام شہری کی پہنچ سے دور
یورپ کے کئی ممالک میں مکان خریدنا اور کرائے پر گھر حاصل کرنا ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ خصوصاً اسپین میں کرایوں میں تیزی سے اضافے نے نوجوانوں، کم آمدنی والے خاندانوں اور بزرگ شہریوں کو شدید مشکلات سے دوچار کیا ہے۔
دی گارڈین کی ایک متعلقہ رپورٹ کے مطابق، اسپین میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران کرایوں میں تقریباً 80 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ میڈرڈ میں ایک 87 سالہ خاتون کی بے دخلی نے اس مسئلے کو عوامی احتجاج کا اہم محرک بنا دیا۔ یہ واقعہ اس خدشے کی علامت بن گیا کہ اگر رہائش عام شہری کی قوتِ خرید سے باہر ہو جائے تو محض کام کرنے سے بھی محفوظ زندگی گزارنا مشکل ہو جاتا ہے۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ مکانات کو صرف سرمایہ کاری اور منافع کمانے کا ذریعہ بنانے کے بجائے بنیادی انسانی ضرورت سمجھا جانا چاہیے۔ جائیداد کی قیاس آرائی پر مبنی خریدوفروخت، سیاحوں کے لیے قلیل مدتی کرائے اور سرمایہ کاری کے بڑے اداروں کی سرگرمیاں بھی رہائش کی دستیابی اور قیمتوں پر دباؤ ڈال سکتی ہیں۔
اسپین اور دیگر یورپی ممالک میں شہری حکومتوں سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ کرایوں کو قابو میں رکھنے، بے دخلی کے خلاف تحفظ فراہم کرنے اور سستے گھروں کی تعمیر کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
تعلیمی نظام پر نوجوانوں کا غصہ
فرانس میں احتجاج کی ایک بڑی وجہ سرکاری اسکولوں کی خراب حالت اور تعلیمی نظام کے مسائل ہیں۔طلبہ اور نوجوانوں نے اساتذہ کی کمی، خستہ حال عمارتوں، طویل تدریسی اوقات اور یونیورسٹیوں میں داخلے کے پیچیدہ طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، بعض اسکولوں میں اساتذہ کی غیر موجودگی کے باعث طلبہ کو طویل عرصے تک تدریس سے محروم رہنا پڑتا ہے، جبکہ عمارتوں کی خراب حالت بھی تعلیمی ماحول کو متاثر کرتی ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ تعلیم کو بہتر مستقبل اور سماجی ترقی کا ذریعہ ہونا چاہیے، لیکن اگر سرکاری تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولتیں ہی دستیاب نہ ہوں تو غریب اور متوسط طبقے کے نوجوانوں کے لیے آگے بڑھنے کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں۔
یہ احتجاج صرف کلاس رومز یا اساتذہ کی کمی تک محدود نہیں۔اس کے پیچھے نوجوانوں کی یہ تشویش بھی موجود ہے کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہیں مناسب ملازمت، قابلِ برداشت رہائش اور مالی تحفظ حاصل ہوگا یا نہیں۔
فرانس، اسپین اور پرتگال میں احتجاج
دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق، فرانس، اسپین اور پرتگال میں مختلف وجوہات کے باعث احتجاجی سرگرمیاں سامنے آئیں۔ فرانس میں تعلیمی مسائل اور مہنگائی اہم محرکات ہیں، جبکہ اسپین میں رہائش کا بحران نمایاں ہے۔ پرتگال میں بھی مکانوں اور کرایوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں۔ اٹلی کے شہر میلان میں بھی مہنگائی کے خلاف احتجاج کی اطلاعات سامنے آئیں۔
فرانس میں تعلیمی مسائل پر شروع ہونے والے مظاہروں میں بعد ازاں مزدور تنظیمیں اور دیگر شہری بھی شامل ہوئے۔ مظاہرین نے بہتر اجرت، پنشن کے تحفظ اور بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں کمی کے مطالبات بھی اٹھائے۔
بعض مقامات پر احتجاج پُرتشدد واقعات میں تبدیل ہوا، جس کے نتیجے میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ تاہم یہ فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ پُرامن احتجاج ہر شہری کا جائز جمہوری حق ہے، جبکہ آتش زنی، لوٹ مار اور سرکاری یا نجی املاک کو نقصان پہنچانا الگ معاملہ ہے۔
حکومتوں کے لیے سیاسی چیلنج
ان احتجاجوں نے یورپی حکومتوں کے سامنے ایک اہم سوال کھڑا کر دیا ہے: عوام کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے سرکاری وسائل اور معاشی پالیسیوں کو کس طرح استعمال کیا جائے؟
