• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
جمعہ, اکتوبر 23, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home بلاگ

سی سی ڈی ہیرو یا ولن؟

by Ahmed Arsalan
اکتوبر 22, 2026
in بلاگ
0
سی سی ڈی ہیرو یا ولن؟
0
SHARES
9
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter


سمیرا سلیم کا بلاگ

پنجاب میں ڈاکو، منشیات فروش گینگز، بچوں کا استحصال اور جنسی ہراسانی جیسے جرائم کے خاتمے کے لیے گزشتہ سال قائم ہونے والی سی سی ڈی اپنے آپریشنل فریم ورک اور طریقۂ واردات کی وجہ سے ایک بار پھر تنقید کی زد میں ہے۔

ایک وقت تھا پنجاب میں عابد باکسر اور سندھ میں راؤ انوار پولیس انکاؤنٹر اسپیشلسٹ کے نام سے مشہور تھے، اب اس کام کے لیے پوری فورس بنا دی گئی ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے رواں برس کے شروع میں الزام لگایا تھا کہ سی سی ڈی نے جان بوجھ کر پولیس مقابلوں کی پالیسی اپنائی ہے، جس کے نتیجے میں ماورائے عدالت قتل ہوتے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق جنوری اور جون 2025 کے درمیان، سی سی ڈی نے مقابلوں میں 400 سے زیادہ مشتبہ افراد کو مار ڈالا، جبکہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے تخمینوں کے مطابق، پنجاب میں پولیس مقابلوں کے نتیجے میں 670 سے زائد افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔

تاہم لاہور ہائی کورٹ میں سی سی ڈی کے مبینہ مقابلوں سے متعلق سماعت میں انکشاف ہوا کہ اس ادارے کے قیام کے بعد سے اب تک ایسے مقابلوں میں 1100 شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار خطرے کی گھنٹی بجانے کے لیے کافی ہیں، مگر یہاں پر عدالتوں پر انحصار کرنے کی بجائے "فوری انصاف” کے نام پر ایک شارٹ کٹ ڈھونڈ لیا گیا ہے اور افسوس کہ پھر کریڈٹ لینے بھی پہنچ جاتے ہیں، جیسے وسیم عباس قتل کیس میں حنا پرویز بٹ نے ایکس پر ردعمل دیا کہ پنجاب میں مریم نواز کی حکومت ہے، یہاں انصاف فوری ملتا ہے۔گویا وہ براہِ راست مریم نواز شریف کو ماورائے عدالت قتل کا ذمہ دار ٹھہرا رہی تھیں۔ جس کے بعد عظمیٰ بخاری کو وضاحتیں دینا پڑیں کہ مریم نواز نے ایسا کوئی آرڈر نہیں دیا۔

آج کی پولیس اور ان کے سربراہان کیا اتنے مجبور ہو چکے ہیں کہ انھیں حکمرانوں کے ہر غلط فیصلے پر "یس باس” کہنا پڑتا ہے؟اخلاقی جرات ناپید ہو چکی ہے۔ ماضی میں کچھ پولیس افسران کی مثالیں موجود ہیں جو غیر قانونی حکم ماننے سے انکار کرتے آئے۔ کل مالک صاحب کے پروگرام میں سابق آئی جی پولیس خیبر پختونخوا احسان غنی نے انکشاف کیا کہ انھیں دورانِ ملازمت انتہائی اعلیٰ آفس سے حکم آیا کہ دو بندوں کو ٹھوک دیں، لیکن انھوں نے انکار کر دیا۔اب سی سی ڈی نے جس طرح اسلام آباد میں لائبہ خودکشی کیس اور ملتان میں 15 سالہ وسیم عباس کو کار تلے کچلنے کے کیس میں "فوری انصاف” کی مثال قائم کی ہے، اس سے ایک اہم قانونی، آئینی اور بنیادی حقوق سے متعلق بحث چھڑ گئی ہے۔

ایک اہم سوال بھی جنم لے رہا ہے کہ کیا اس غیر آئینی اور غیر قانونی طریقۂ کار کا ماضی میں کچھ فائدہ ہوا جو آج پھر سے وہی راستہ اپنایا جا رہا ہے۔دوسرا یہ کہ ایک ایسا ادارہ اور فورس جس کی حراست سے ہر دوسرے دن ملزم بھاگ جاتا ہے، وہ جرائم پر کیسے قابو پا سکتا ہے؟ جو اعداد و شمار پنجاب میں جرائم کے حوالے سے موجود ہیں، ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ سی سی ڈی کے قیام کے ایک سال بعد بھی سنگین جرائم میں کمی نہیں آئی۔2021 سے 2026 کے وسط تک ملک بھر میں درج ہونے والے زیادتی کے تمام مقدمات میں سے 89.7فیصد کا تعلق پنجاب سے ہے، جبکہ اجتماعی زیادتی کے درج شدہ تمام مقدمات میں پنجاب کا حصہ 99.2 فیصد ہے۔

یہ سب ایک ایسی خاتون وزیر اعلیٰ کے دور میں ہو رہا ہے جس کا ماننا ہے کہ خواتین اس کی ریڈ لائن ہیں۔ابھی حال ہی میں غیر ملکی لڑکیوں کے ساتھ ریپ اور اجتماعی زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوئے، جس میں مبینہ طور پر ایک اہم شخصیت کے قریبی عزیز کا نام سامنے آیا۔ یہاں نہ ملزم بھاگا، نہ سی سی ڈی حرکت میں آئی۔

پولیس مقابلوں میں ہلاکتوں کا تسلسل اور ان کے حوالے سے شفافیت، تحقیقات یا احتساب کا فقدان ریاست کی مجرمانہ غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پولیس ریفارمز کی بجائے اسی پولیس کو شہریوں کی جان کا دشمن بنا دیا گیا ہے۔

سی سی ڈی نے جو اسکرپٹ اپنا رکھا ہے، وہ اتنا پرانا اور بار بار دہرایا جا چکا ہے کہ اب بچے بچے کو معلوم ہے کہ کیسے اور کیوں مجرم پولیس کی حراست سے فرار ہوتے ہوئے اپنے ہی ساتھیوں کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں۔ کوئی تفتیش نہیں، نہ ملزم کو اپنی صفائی دینے کا موقع، الٹا ماورائے عدالت قتل کر کے سنگین جرم میں ملوث شخص کے لیے ہمدردی پیدا کر دی جاتی ہے۔ پولیس جلاد کا روپ دھار لے تو معاشرے میں اصلاح کے بجائے تشدد پسندی پروان چڑھتی ہے۔ عوام کے پولیس اور عدالتوں پر سے بچے کچھے اعتماد کو چھیننے پر یہ نظام "مبارکباد” کا مستحق ہے۔

Ahmed Arsalan

Ahmed Arsalan

Next Post
15 سال کی عمر میں فورس جوائن کی، چوروں سے لاٹھی کے ساتھ لڑتا رہا،دبئی پولیس کا افسر نمبر 8 کون تھا؟

15 سال کی عمر میں فورس جوائن کی، چوروں سے لاٹھی کے ساتھ لڑتا رہا،دبئی پولیس کا افسر نمبر 8 کون تھا؟

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In