سمیرا سلیم کا بلاگ
ستمبر 2026 میں مصنوعی ذہانت کے محقق جیکب کاکسن نے استعفیٰ دے کر دنیا کو خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت کی دوڑ انسانی ذہانت سے کئی گنا زیادہ ذہین مشینوں کی طرف بڑھ رہی ہے، جس نے انسانی سلامتی کو خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ ستمبر کے بعد سے مصنوعی ذہانت پر کام کرنے والی ٹاپ کی کمپنیاں اور اعلیٰ تحقیق کار اب اِس خدشے کا اظہار کرنے لگے ہیں کہ اے آئی ٹیکنالوجی اتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے کہ اِس بات کا 10 فیصد سے زیادہ امکان ہے کہ اے آئی اگلے دس سال میں پوری انسانیت کو ہی ختم کر دے گی۔ یہ ایک انتہائی خوفناک پیش گوئی ہے جس نے دنیا کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ انسان کی یہ ذہنی تخلیق کیا اس کے اپنے ہی وجود کے خاتمے کا سبب بن جائے گی۔ دنیا ایک طرف تو مصنوعی ذہانت سے خوف کھانے لگی ہے، جبکہ دوسری طرف اے آئی پر بڑھتا ہوا معاشی، سائنسی اور عسکری انحصار اس کی ترقی اور تیزی میں وسیع پیمانے پر اضافہ کر رہا ہے۔
چند ہفتے قبل خبر آئی کہ اے آئی ماڈلز نادانستہ طور پر بائیولوجیکل ہتھیاروں کی تیاری میں مدد دے رہے ہیں، جس کے بعد مصنوعی ذہانت پر کام کرنے والی مشہور اینتھروپک کمپنی نے کام روک دیا۔ صرف یہ ہی نہیں بلکہ اب ایسی ایسی خبریں آ رہی ہیں جنہوں نے اے آئی سے متعلق سیکیورٹی خدشات کو حقیقت میں بدل دیا ہے۔ جیسا کہ اب امریکی مالیاتی ادارے سنگین سیکیورٹی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں، کیونکہ اب انسان نہیں بلکہ اے آئی بوٹس بینک لوٹنے لگے ہیں، اے آئی نے انسانوں کی طرح فراڈ کرنا شروع کر دیے ہیں اور ڈاکو بن گئی ہے۔ اے آئی بوٹس بغیر صارف کے کمانڈ کے بینک اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کر رہے ہیں، حتیٰ کہ اے آئی ایجنٹس صارف کی منظوری کے بغیر بینکوں کو کال بھی کرنے لگے ہیں۔ کتنی حیران کن پیش رفت ہے کہ انسان سے لالچ جیسی منفی صفت بھی مصنوعی ذہانت اور مشینوں میں ٹرانسفر کر دی گئی ہے۔ جب اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی کہ مصنوعی ذہانت انسانوں کی طرح کیسے لالچی ہو گی تو معلوم پڑا کہ کمپیوٹر سائنس میں کچھ لالچی الگورتھم ہوتے ہیں جو بڑے فائدے کو جانچ لیتے ہیں، جنہیں Greedy Algorithm کہا جاتا ہے۔ دراصل اے آئی انسانی دماغ اور ذہانت کی عکاس ہے، لہٰذا یہ اس ڈیٹا سے سیکھتی ہے جو انسانوں نے پیدا کیا ہے۔ یہ بات بہت دلچسپ تھی کہ "اگر انسان کی بنائی ہوئی دنیا میں منافع خوری، لالچ اور وسائل پر قبضے کی دوڑ شامل ہے، تو اے آئی ماڈلز بھی اسی رویے کی ہی عکاسی کرتے ہیں۔” حیرت ہے کہ اب انسان مصنوعی ذہانت سے کیا کیا کروائیں گے؟
مشین یا ٹیکنالوجی کو الزام دینے سے پہلے یہ دیکھنا ہو گا کہ اس مشین نے جو راستہ اختیار کیا ہے، اس کی کمانڈ یا ڈیٹا کس نے فیڈ کیا۔ مصنوعی ذہانت خود سے غلط کام کر رہی ہے یا اس ٹیکنالوجی کا استعمال اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے غلط کیا جا رہا ہے۔ اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ ایک تحقیق یہ بتاتی ہے کہ مشین خود کوئی نیت یا ارادہ نہیں رکھتی اور نہ ہی اس میں پیسے اور طاقت کے حصول کی لالچ ہے، بلکہ ہر ٹیکنالوجی اور ایجاد اپنے موجد کی عکاس ہے۔ جس کی خوبصورت مثال اس طرح سے دی گئی کہ اگر آگ کھانا پکا سکتی ہے تو شہروں کو جلا کر راکھ بھی کر سکتی ہے۔ اگر جوہری توانائی گھروں کو بجلی فراہم کر سکتی ہے تو قوموں کو تباہ بھی کر سکتی ہے۔ اسی طرح مصنوعی ذہانت بارے اس کے ریسرچرز کے خدشات بالکل صحیح ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل، انتونیو گوتریس نے مصنوعی ذہانت کو انسانیت کے لیے عظیم خطرہ قرار دیا اور برطانوی بادشاہ چارلس نے مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار کم کرنے کے مطالبات کے پیشِ نظر ٹیک کمپنیوں کے رہنماؤں کا اجلاس بلایا تاکہ اس بات کا جائزہ لیا جا سکے کہ اس ٹیکنالوجی کو کس طرح انسانیت کی بھلائی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے معاشرے کو نقصان کی بجائے فائدہ پہنچے۔
