سمیرا سلیم کا بلاگ
گزشتہ ماہ پاکستان کسان اتحاد نے گندم کے لیے 5 ہزار روپے فی من امدادی قیمت کا مطالبہ کیا تھا اور ساتھ ہی حکومت کو خبردار کیا تھا کہ فصلوں سے متعلق پالیسیوں کے اعلان میں تاخیر ہوئی تو کسان اگلے سیزن میں گندم کی کاشت ہی نہیں کریں گے۔ کسان اتحاد کے مطالبے کے بعد حکومت نے رواں سال گندم کی امدادی قیمت 45 سو روپے مقرر کی ہے۔ یہ قیمت اگرچہ 5 سو روپے کم ہے مگر پھر بھی کسانوں کی لاگت کے بوجھ میں خاطر خواہ کمی لائے گی ورنہ پاکستانی کسان تو گندم 28 سو روپے فی من بھی بیچنے پر مجبور رہا۔ وفاقی وزیر برائے فوڈ سیکیورٹی رانا تنویر حسین نے گزشتہ روز کہا کہ حکومت نے تقریباً چار دہائیوں بعد صوبوں کی مشاورت سے ’قومی گندم پالیسی‘ وضع کی ہے، جس کے تحت سال 2026-27 کیلئے گندم کی قیمت 4,500 روپے فی من مقرر کی گئی ہے۔ تاہم ،اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں دی گئی کہ کسان سے اناج کون خریدے گا یا اس قیمت پر کیسے عملدرآمد کرایا جائے گا۔ ایک حقیقت کا وزیر فوڈ سیکیورٹی نے اعتراف کر لیا کہ حکومت کو غیر ملکی کسانوں سے گندم کی امپورٹ بھی 45 سو روپے فی من میں ہی پڑ رہی تھی لہذا فیصلہ کیا گیا کہ کیوں نا غیر ضروری درآمدات پر انحصار کرنے کی بجائے پاکستانی کسانوں کو ترجیح دیتے ہوئے بہتر قیمت دی جائے۔ ڈیڑھ سے دو ارب ڈالر سالانہ گندم کی امپورٹ پر خرچ کرتے کرتے حکومت کو بالآخر اپنے بے حال کسانوں کا خیال آ ہی گیا۔ اگرچہ یہ فیصلہ تاخیر سے کیا گیا تاہم دیر آید درست آید۔
رواں برس بھی گندم امپورٹ ہو رہی ہے اور بقول وزیر فوڈ صوبائی ضروریات اور طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے 5 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن تک گندم درآمد کی جا سکتی ہے ۔پاکستانی کسانوں کو یہ جو پیداواری لاگت اور ایندھن کے اخراجات میں اضافے کے نام پر 1 ہزار روپے فی من کا ریلیف دینے کی بات کی ہے اسے اگر ماضی میں جھانک کر دیکھیں تو یہ فی الحال محض ایک وعدہ ہے کوئی ٹھوس ضمانت نہیں۔ حکومت نے سال 2023-24 کیلئے سرکاری امدادی قیمت 3900 روپے مقرر کی تھی۔ کسان جب اپریل 2024 میں اپنی گندم مارکیٹ بیچنے گیا تو اسے 28 سو سے 32 سو روپے کے درمیان گندم بیچنا پڑی۔ جس کی بڑی وجہ حکومت کی جانب سے فصل کی کٹائی سے چند روز قبل بڑی مقدار میں گندم کی امپورٹ تھی جبکہ اسی ماہ حکومت نے ’سپورٹ پرائس‘ کا نظام بھی ختم کر دیا اور بڑے پیمانے پر گندم کی خریداری بھی روک دی، جس سے کسان رل گیا۔ اس وقت کسانوں سے یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ ایک ایسا نظام لایا جائے گا جو مارکیٹ پر مبنی ہوگا اور ان کے لیے زیادہ فایدہ مند ہو گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔گذشتہ سال 2025 میں ایک بار پھر حکومت میدان میں آئی اور گندم کی امدادی قیمت 3500 سو روپے فی من مقرر کی جس کے نتیجے میں کسان کو گندم کی کاشت کا حوصلہ ہوا۔اس وقت مارکیٹ میں سرکاری ذخائر سے جو گندم 5ہزار روپے فی من فروخت ہو رہی ہے یہ وہی گندم ہے جسے رواں سال اپریل ،مئی میں کسان سے 3500 سو روپے میں خریدا گیا تھا۔سندھ نے اس ماہ سرکاری گندم کی فروخت 12,500 روپے فی 100 کلوگرام یعنی 5,000 روپے فی من پر شروع کی ہے گویا اپنے کسان کو 1500 سو روپے فی من کا چونا لگایا گیا ہے۔
اعدادو شمار یہ بتاتے ہیں کہ ملک میں سالانہ فی کس گندم کی کھپت میں کمی آ رہی ہے۔ پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق گندم اور آٹے کی فی کس ماہانہ کھپت 19-2018 میں 7 کلوگرام تھی جو 25-2024 میں کم ہو کر 6.59 کلوگرام رہ گئی ہے،یعنی اب ایک پاکستانی سالانہ 84 کلو گرام کی بجائے 79 کلو گرام آٹا استعمال کرتا ہے، گویا مہنگائی اور غربت نے اس کی قوت خرید کو کم کر دیا ہے اور وہ پیٹ بھر کر کھا بھی نہیں سکتا۔
گندم کی امدادی قیمت بڑھا کر حکومت نے ایک احسن قدم اٹھایا ہے۔اس سے کسان کو گندم کی زیادہ سے زیادہ کاشت کرنے کی ترغیب ملے گی۔تاہم گزشتہ تین سالوں میں گندم کی فروخت کے وقت کسان کو جو تلخ تجربات حاصل ہوئے اس کو مد نظر رکھتے ہوئے ضروری ہے کہ گندم کی خریدیائی کا ایسا مستحکم نظام بنایا جائے جس پر کسان کو اعتماد ہو اور اسے اپنی فصل کو فروخت کرنے کیلئے دربدر کی ٹھوکریں نہ کھانی پڑیں۔
