رپورٹ: زاہد بلوچ
کابل: افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے منشیات کی کاشت پر پابندی کے باوجود پوست کی کاشت اور افیون کی پیداوار میں گزشتہ ایک سال کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 2022 میں طالبان کی جانب سے منشیات پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد پوست کی کاشت میں یہ پہلا بڑا اضافہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں پوست کی کاشت میں 330 فیصد جبکہ افیون کی پیداوار میں 400 فیصد اضافہ ہوا۔ افغانستان میں پوست کی کاشت کا رقبہ 2025 میں تقریباً 10 ہزار ہیکٹر سے بڑھ کر 2026 میں 43 ہزار ہیکٹر سے تجاوز کر گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارے نے اس اضافے کی بنیادی وجہ افغانستان میں بڑھتی ہوئی غربت کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ معاشی مشکلات کے باعث بعض کسانوں نے اپنے خاندانوں کی کفالت کے لیے خفیہ طور پر پوست کی کاشت دوبارہ شروع کر دی ہے۔رپورٹ کے مطابق کسان حکام کی نظروں سے بچنے کے لیے گندم اور دیگر فصلوں کے درمیان یا چار دیواری کے اندر چھوٹے پیمانے پر پوست کاشت کر رہے ہیں۔
یو این او ڈی سی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر مونیکا جوما نے کہا کہ پوست کی کاشت میں چار گنا اضافہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ جب غریب کسانوں کے پاس روزگار اور آمدن کے متبادل ذرائع موجود نہ ہوں تو منشیات کی غیر قانونی کاشت میں کمی برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ افغان کسانوں کو متبادل روزگار، زرعی بنیادی ڈھانچے اور منڈیوں تک رسائی فراہم کرنے میں تعاون کرے تاکہ انہیں غیر قانونی فصلوں کی کاشت سے روکا جا سکے۔
دوسری جانب طالبان حکومت نے اقوام متحدہ کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے زمینی حقائق کے برعکس قرار دیا ہے۔افغان وزارت داخلہ کے مطابق 2026 میں پوست کی کاشت والے صوبوں میں 26 ہزار ہیکٹر سے زائد اراضی کو منشیات کی فصلوں سے پاک کیا گیا۔
وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ منشیات کے خلاف کارروائیاں مشکل حالات میں بھاری مالی اور انسانی وسائل خرچ کرکے کی گئیں، لہٰذا ان اقدامات کو نظرانداز کرکے مرتب کی گئی رپورٹ نامکمل اور غیر منصفانہ ہے۔ طالبان حکام نے الزام عائد کیا کہ اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ سیٹلائٹ تصاویر، اندازوں اور جانبدار گروہوں کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر تیار کی ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق اگرچہ پوست کی کاشت اور افیون کی پیداوار اب بھی 2022 کی پابندی سے پہلے کی سطح سے کم ہے، تاہم حالیہ اضافہ تشویش ناک ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ فی الحال یہ طے کرنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ اضافہ عارضی ہے یا افغانستان میں پوست کی کاشت اور افیون کی پیداوار دوبارہ بڑھنے کا آغاز ہے۔
افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے بھی منشیات کے خلاف کارروائیوں کو طالبان حکومت کی بڑی کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے عالمی برادری کا تعاون بھی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ منشیات کے خلاف مؤثر جدوجہد افغانستان اور عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جس کے لیے کسانوں کو متبادل روزگار، منشیات کے عادی افراد کے علاج اور منشیات اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف علاقائی و بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا ہوگا۔
