• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
اتوار, نومبر 1, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home بلاگ

قومی سیاست میں ایک اور خطرناک دنگل کا آغاز

by Ahmed Arsalan
اکتوبر 31, 2026
in بلاگ
0
قومی اسمبلی میں امریکی ایوان نمائندگان کی قرارداد کیخلاف قرارداد منظور، سنی اتحاد کی مخالفت
0
SHARES
36
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter


سمیرا سلیم کا بلاگ

عمران خان کی 2022 کی حکومت کا تختہ الٹنے والی پی ڈی ایم میں شامل اتحادی پارٹیاں اس طرح دست و گریباں ہوں گی، اور خاص طور پر توپوں کا رخ مولانا فضل الرحمن کی جانب مڑ جائے گا، یہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا۔ مولانا کے بارے میں یہی سنتے اور دیکھتے آئے ہیں کہ وہ ایک زیرک سیاستدان ہیں اور ہمیشہ فائدے والی سائیڈ کا چناؤ کرتے ہیں۔

2024 کے انتخابات میں پی ڈی ایم کی سب جماعتیں جس طرح فارم 47 کی برکتوں سے مستفید ہوئیں، مولانا اس سے محروم رہے۔ انتخابات کے بعد اقتدار کے سیٹ اپ میں بھی مولانا کو نظر انداز کیا گیا، تاہم حالات نے اب جو کروٹ لی ہے، اس کے بعد منظر اب بدلا بدلا سا نظر آ رہا ہے۔

رواں ہفتے پارلیمنٹ میں جو فائر ورک ہوا ہے، اور مولانا کے ریاست سے متعلق بیان پر ڈیوٹی پر مامور وزراء نے جس طرح مولانا کو آڑے ہاتھوں لیا ہے، اس پر تجزیہ کاروں کی اکثریت کا ماننا ہے کہ تحریک انصاف کے ساتھ ساتھ مولانا کے لیے بھی موجودہ سیٹ اپ میں سیاسی اسپیس بظاہر کم ہوتی نظر آ رہی ہے۔

تجاوزات کے نام پر پشاور میں مفتی محمود مرحوم کی عمارت کو گرائے جانے کی باتیں تو دوسری طرف، محسن نقوی کے ماتحت ادارے کا اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ پر تجاوزات ہٹانے کے نوٹس کو بھی طاقتوروں کی جانب سے واضح پیغام سمجھا جا رہا ہے۔یہ محض ایک ٹریلر ہے اور فلم ابھی باقی ہے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی وہ شخصیت ہیں جو کبھی مولانا کی گڈ بکس میں تھے، 2025 تک تو تعلقات اچھے رہے اور خوشگوار ماحول میں ملاقاتیں بھی ہوتی رہیں، مگر گزشتہ دنوں محسن نقوی نے پارلیمنٹ میں مولانا پر گورنر راج کے ذریعے پی ٹی آئی سے جان چھڑانے کا فارمولا دینے کا الزام لگایا ہے۔ یہ الزام تحریک انصاف کے لیے بھی یقیناً بڑا دھچکا ہوگا، جو مولانا سے لمبا اتحاد قائم کرنے کی خواہش رکھتی ہے۔

مولانا فضل الرحمن کی گزشتہ دنوں پارلیمنٹ میں کی گئی تقریر کے بعد جو یہ سیاسی ہنگامہ اٹھ کھڑا ہوا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا مولانا کی وہ تقریر کوئی جذباتی عمل تھا یا اس کے پیچھے کوئی گہری چال ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن جیسی زیرک اور سیاسی جوڑ توڑ کی صلاحیت رکھنے والی شخصیت یوں اچانک اسمبلی میں کھڑے ہو کر محسن نقوی پر تابڑ توڑ سیاسی حملے بلاوجہ نہیں کر سکتی۔ مولانا کا یہ ایک سوچا سمجھا عمل دکھائی دیتا ہے۔

گزشتہ چار سالوں میں پی ٹی آئی کے ساتھ جو سلوک اسٹیبلشمنٹ نے روا رکھا ہے اور اب کے پی کے میں گورنر راج کے بعد یہ بات تو عیاں ہو گئی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو تحریک انصاف اقتدار میں قبول ہے اور نہ ہی اپوزیشن میں۔

اس وقت خیبر پختونخوا میں جو سیاسی خلا پیدا ہوا ہے، مولانا اس سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ انہیں بخوبی پتا ہے کہ خیبر پختونخوا کی عوام تحریک انصاف کے اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے کی وجہ سے اس کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ عمران خان قید میں ہے اور ملاقاتیں بھی مکمل بند ہیں۔ پی ٹی آئی کی باقی ماندہ قیادت سیاسی طور پر اتنی بالغ نہیں کہ وہ گورنر راج کے بعد کی صورتحال میں معاملات کو ٹھیک سے سنبھال سکے۔

یہی موقع ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے کے ساتھ خیبر پختونخوا کی عوام کو پیغام دیں کہ اگر پی ٹی آئی میدان میں نہیں ہے تو اس کی جگہ سنبھالنے کے لیے وہ تیار ہیں۔ اسی لیے انہوں نے محسن نقوی کو ٹارگٹ کیا ہے، جو پارلیمنٹ میں اسٹیبلشمنٹ کے حقیقی نمائندہ ہیں۔

اگر جے یو آئی خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی جگہ لیتی ہے تو یہ اسٹیبلشمنٹ کو بھی سوٹ کرتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کو پی ٹی آئی سے نجات مل جائے گی اور مولانا جیسی شخصیت سے معاملات طے کرنا بھی آسان رہے گا، جنہوں نے اپنی مہارت جنرل مشرف کے دور میں خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت سنبھالنے کے ساتھ ساتھ مرکز میں فرینڈلی اپوزیشن کے طور پر بخوبی دکھائی تھی۔

اگر مولانا حقیقتاً اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت سے تنگ آ چکے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ آئینی حدود میں رہے تو پھر پی ٹی آئی کے ساتھ مشترکہ سیاسی جدوجہد کا یہ بہترین موقع ہے۔ ان کے پاس سیاسی جوڑ توڑ کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ اسٹریٹ پاور بھی ہے۔ نظام کے لیے انہیں پی ٹی آئی کی طرح دیوار کے ساتھ لگانا آسان نہ ہوگا۔

اگر مولانا اور پی ٹی آئی کے مابین پارلیمنٹ کے باہر اتحاد ہو گیا تو یہ عوامی طاقت ریاستی طاقت پر بھاری پڑ سکتی ہے۔ وقت بدلتے دیر نہیں لگتی۔ ابھی حال ہی میں خطے کے جن ممالک میں بڑی بڑی تبدیلیاں آئی ہیں، ان میں بنگلہ دیش اور سری لنکا کی مثالیں موجود ہیں، اب بھارت بھی کسی حد تک مظاہروں اور احتجاج کی لپیٹ میں ہے۔

اگر پی ٹی آئی اس موقع کو غنیمت جان کر موجودہ لڑائی کو اپنے فائدے میں استعمال کرنے میں کامیاب ہو گی، اور اگر مولانا واقعی اس بار نظام کے خلاف کھل کر ڈٹ گئے، جس کی امید اگرچہ بہت کم ہے، تو موجودہ سسٹم کے لپیٹے جانے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔دیکھتے ہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

Ahmed Arsalan

Ahmed Arsalan

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In