تحریر:تنویر احمد
جب ہم دنیا کی بڑی طاقتوں کا جائزہ لیتے ہیں تو ایک حقیقت بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ قومیں محض اتفاق سے ترقی نہیں کرتیں بلکہ ان کی ترقی کا انحصار اس نظام پر ہوتا ہے جس کے تحت ان کی حکمرانی کی جاتی ہے۔
امریکا کا نظام زیادہ تر قانونی ماہرین اور قانون دانوں کے زیر اثر ہے اور اس کی اصل طاقت اس کے مضبوط ادارے ہیں۔ وہاں آئین کو بالادستی حاصل ہے۔ہر معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنایا جاتا ہے، ہر سرمایہ کار کے حقوق کا تحفظ کیا جاتا ہے اور ہر شہری جانتا ہے کہ کسی فرد کی نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی ہے۔ یہی قانونی تحفظ اور یقین دہانی دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو امریکا کی جانب راغب کرتی ہے، سلیکون ویلی میں جدت اور تحقیق کو فروغ دیتی ہے اور سیاسی اختلافات کے باوجود امریکی معیشت کو مضبوط رکھتی ہے۔امریکا کا نظام اس انداز میں تشکیل دیا گیا ہے کہ وہ کسی ایک رہنما کے اقتدار سے کہیں زیادہ عرصے تک قائم رہ سکے۔
اس کے برعکس چین کا نظام انجینئرز، تکنیکی ماہرین اور منصوبہ سازوں کے زیر اثر ہے۔ اس کی اصل طاقت طویل المدتی منصوبہ بندی اور ان پر مؤثر عمل درآمد ہے۔جب چین کوئی ڈیم، بندرگاہ یا تیز رفتار ریلوے نیٹ ورک تعمیر کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کی منصوبہ بندی اگلے 30 سے 50 سال کو مدنظر رکھ کر کی جاتی ہے اور پھر اسے عملی شکل بھی دی جاتی ہے۔ چین کی قیادت میں زیادہ تر ایسے افراد شامل رہے ہیں جن کا پس منظر انجینئرنگ اور سائنس سے وابستہ ہے۔ ان کی توجہ پیداواری صلاحیت، بنیادی ڈھانچے اور صنعتی ترقی پر مرکوز رہتی ہے۔ گزشتہ چار دہائیوں کے دوران چین نے نعروں کے بجائے قابل پیمائش معاشی ترقی کے ذریعے 80 کروڑ سے زائد افراد کو غربت سے نکالا۔وہاں بنیادی سوال یہ نہیں ہوتا کہ کسی منصوبے کا کریڈٹ کس کو ملے گا بلکہ یہ ہوتا ہے کہ منصوبہ مکمل کب ہوگا۔
اس کے برعکس بھارت کا نظام سیاست دانوں کے زیر اثر ہے، تاہم اس کی طاقت جمہوری تسلسل اور وسیع معاشی حجم میں پوشیدہ ہے۔ بے پناہ تنوع، غربت اور مختلف سماجی چیلنجز کے باوجود بھارت نے اپنے جمہوری نظام کے تسلسل کو برقرار رکھا ہے۔ اس نے الیکشن کمیشن، سپریم کورٹ اور ریزرو بینک جیسے مضبوط ادارے قائم کیے ہیں۔ نجی شعبے کو بااختیار بنایا، آئی ٹی کی تعلیم پر بھاری سرمایہ کاری کی اور دنیا بھر میں موجود اپنی کمیونٹی کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا۔بھارتی سیاست میں شور اور اختلافات ضرور ہیں، لیکن اس کی معاشی سمت بڑی حد تک مستقل رہی ہے، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھتا ہے۔
اور پھر پاکستان ہے جو غیر معمولی صلاحیتوں اور وسائل کا حامل ملک ہے، لیکن اس کا طرز حکمرانی ان صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں ناکام رہا ہے۔پاکستان کی خوبیاں اور وسائل کسی شک و شبہے سے بالاتر ہیں۔ ہماری آبادی دنیا میں پانچویں نمبر پر ہے، جس کا تقریباً 60 فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ ہمارے پاس دنیا کی زرخیز ترین زمینوں میں سے بعض موجود ہیں،تھر سے ریکوڈک تک وسیع معدنی ذخائر ہیں، عالمی تجارتی راستوں کے مرکز میں تقریباً ایک ہزار کلومیٹر طویل ساحلی پٹی ہے اور دنیا بھر میں پھیلا ہوا ایک محنتی اور فیاض پاکستانی تارکین وطن کا طبقہ موجود ہے، جو سالانہ 30 ارب ڈالر سے زائد زرمبادلہ پاکستان بھیجتا ہے۔ ہمارے عوام غیر معمولی طور پر ثابت قدم ہیں۔وہ معاشی بحرانوں، مہنگائی اور غیر یقینی حالات کا مقابلہ کرتے ہیں اور اس کے باوجود بہتر مستقبل کی امید نہیں چھوڑتے۔
لیکن ہماری کمزوریوں نے ہماری ان تمام خوبیوں اور صلاحیتوں کو بے اثر کر دیا ہے،سب سے پہلی کمزوری ادارہ جاتی کمزوری ہے۔ہمارے ہاں اکثر ادارے افراد کے مقابلے میں کمزور دکھائی دیتے ہیں اور حکومتی تبدیلی کے ساتھ پالیسیاں بھی بدل جاتی ہیں۔
دوسری بڑی کمزوری تکنیکی اور پیشہ ورانہ مہارت رکھنے والے ماہرین کی شدید کمی ہے۔ اہم وزارتوں اور سرکاری اداروں کی سربراہی اکثر ایسے افراد کے سپرد کر دی جاتی ہے جنہیں متعلقہ شعبے کا مطلوبہ تجربہ یا مہارت حاصل نہیں ہوتی۔اس کا نتیجہ گردشی قرضے، پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) اور پاکستان اسٹیل ملز جیسے اداروں کی ناکامی اور ٹیکس کے محدود دائرے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
تیسری کمزوری انسانی وسائل اور صلاحیتوں کو نظر انداز کرنا ہے۔تعلیم پر ہمارے اخراجات مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے دو فیصد سے بھی کم ہیں، جبکہ اسکولوں سے باہر بچوں کی تعداد دو کروڑ 60 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ ہماری جامعات ڈگریاں تو جاری کر رہی ہیں، لیکن ایسے ہنرمند افراد تیار کرنے میں ناکام ہیں جن کی عالمی منڈی میں حقیقی ضرورت ہے۔
چوتھی بڑی کمزوری ہماری قلیل المدتی سیاسی اور معاشی حکمت عملی ہے۔ ہم توانائی، ٹیکس نظام اور برآمدات میں بنیادی اصلاحات کرنے کے بجائے انتخابی فوائد کے لیے سبسڈی اور وقتی ریلیف پیکیجز پر توجہ دیتے ہیں۔
یہی وجوہات ہیں کہ پاکستان بار بار معاشی اور سیاسی بحرانوں کا شکار ہوتا ہے۔ جہاں دوسرے ممالک کئی دہائیوں کو مدنظر رکھ کر منصوبہ بندی کرتے ہیں، وہاں ہم اگلے انتخابات کی تیاری میں مصروف رہتے ہیں۔ جہاں دوسرے ممالک معاہدوں کا تحفظ کرتے ہیں، وہاں ہم انہیں دوبارہ مذاکرات کے لیے کھول دیتے ہیں۔ جہاں دوسرے ممالک انسانی مہارتوں اور صلاحیتوں پر سرمایہ کاری کرتے ہیں، وہاں ہم نعروں اور دعوؤں پر اکتفا کرتے ہیں۔
پاکستان کے لیے آگے بڑھنے کا راستہ کوئی پیچیدہ راز نہیں۔ اس کے لیے تین بنیادی تبدیلیاں ناگزیر ہیں۔
نوٹ : تنویراحمد امریکا میں مقیم معروف پاکستانی کاروباری شخصیت اور سماجی خدمت گار ہیں۔ وہ ہلالِ امتیاز اور پرائیڈ آف پاکستان کے اعزازات کے بھی حامل ہیں
