سمیرا سلیم کا بلاک
وطنِ عزیز کو نہ صرف وینٹی لیٹر پر پڑی بیمار معیشت بلکہ عوامی صحت کے شدید چیلنجز اور دباؤ کا بھی سامنا رہا ہے، جو صحت کے شعبے میں ایمرجنسی کی سی صورتحال اختیار کر گیا ہے۔
عوامی صحتِ عامہ کی ترجیحات کے فقدان کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان صحت پر سالانہ فی کس 30 ڈالر خرچ کرتا ہے، جبکہ ہمارے ہمسایہ ممالک میں بھارت 85 ڈالر، افغانستان 59 ڈالر اور چین 763 ڈالر خرچ کرتا ہے۔ مطلب یہ کہ خطے میں پاکستان اپنے لوگوں کی صحت پر سب سے کم خرچ کرتا ہے، جس کے نتائج ویسے ہی خوفناک نکلنے تھے جیسے کہ رپورٹ ہو رہے ہیں۔
وزارتِ صحت نے قومی اسمبلی میں جو اعداد و شمار پیش کیے ہیں، وہ ہلا دینے والے ہیں۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان میں ساڑھے چار کروڑ سے زائد افراد مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں، جن میں سے 32.4 ملین سے زائد افراد ذہنی صحت کے مسائل، 12.9 ملین افراد ہیپاٹائٹس بی یا سی میں مبتلا ہیں، جبکہ ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزارنے والے افراد کی تعداد 4 لاکھ 17 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔
ہیپاٹائٹس سی میں پاکستان عالمی سطح پر پہلے نمبر پر ہے اور ان 10 ممالک میں شامل ہے جہاں اس بیماری سے ہونے والی اموات کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔
ان بیماریوں میں اگر شوگر، بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں کے علاوہ سانس کی بیماریوں، جیسا کہ دمہ وغیرہ، کو بھی شامل کر لیا جائے تو ایسا خوفناک نمبر سامنے آ سکتا ہے، جس سے واضح ہو جائے گا کہ پورا پاکستان ہی بیمار ہے۔
پاکستان میں صحت کے شعبے میں بہتری آنے کی بجائے مسلسل گراوٹ دیکھنے کو مل رہی ہے۔ طبی عملے کی غیر سنجیدگی اور ہسپتالوں میں ناکافی سہولیات کی وجہ سے ایڈز جیسے موذی مرض میں ہمارے بچے مبتلا ہو رہے ہیں۔ یہ ایک قومی ایمرجنسی ہے، مگر حکمرانوں کو رعایا کے بچوں سے کوئی غرض نہیں، یہی وجہ ہے کہ جنوری 2025 اور جون 2026 کے درمیان تقریباً 4 ہزار ایچ آئی وی پازیٹو بچوں کا اندراج کیا گیا۔
یہ ایک سانحہ ہے جس پر ماں جیسی ریاست ایکشن لینے سے قاصر ہے۔ ایکشن صرف وہاں لیا جاتا ہے جہاں ان کے اپنے مفادات ہوں۔
باقی ملک کا تو کیا ہی حال ہوگا جب شہرِ اقتدار میں 3 لاکھ سے زائد افراد ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہوں، اور یہ نمبر کہیں زیادہ ہو سکتا ہے کیونکہ ہم ذہنی تناؤ اور ڈپریشن جیسی بیماریوں کو بیماری ہی نہیں سمجھتے۔ اگر ذہنی امراض کے ڈاکٹر کے پاس جانا ہو تو بھی چھپ چھپ کر جاتے ہیں تاکہ لوگ ہمیں پاگل نہ سمجھیں۔ اس اسٹیگما اور جاہلانہ رویے سے بچنے کے لیے لوگ بیمار پڑے رہنا ہی پسند کرتے ہیں اور علاج سے کتراتے ہیں، اور جب علاج نہیں ہوتا تو پھر جرائم کا ارتکاب ہوتا ہے، جیسا کہ حنا قتل کیس میں بھی سامنے آیا اور نور مقدم کیس میں بھی۔
یہ ہمارے معاشرے کے سماجی ڈھانچے کی کمزوری ہے، جسے فکس کرنے کے بارے میں ہم سوچتے تک نہیں۔ رپورٹ کے مطابق ذہنی صحت کے مسائل کا شکار افراد کی تعداد 2019 میں 30 ملین سے بڑھ کر 2023 میں 32.4 ملین ہو گئی، یعنی کروڑوں افراد ذہنی مریض بن گئے۔ یہ سوال تو اٹھتا ہے کہ کن پریشانیوں اور معاشی دباؤ کے نتیجے میں ذہنی امراض بڑھتے جا رہے ہیں؟
اب سموگ کی وجہ سے بچوں، بڑوں اور بوڑھوں کی صحت پر جو قیامت خیز اثرات مرتب ہو رہے ہیں، ان کا مداوا کون کرے گا؟ حکومت نے تو آنکھیں موند لی ہیں، وہ درخت لگانے کی بجائے سالوں پرانے تناور درخت کاٹنے کے درپے ہیں۔ ایسے میں فضائی آلودگی سے بچنے کا ممکنہ راستہ بند کر دیا گیا ہے۔
لاہور میں صرف ایک ہفتے میں سموگ اور وائرل بیماریوں کے 35 ہزار مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔ سموگ کی وجہ سے 70 فیصد پاکستانی طبی مسائل کا شکار ہیں۔
جنہوں نے ملک کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے، ایسے حکمرانوں اور بیوروکریسی سے امید لگانا ہی بیوقوفی کے مترادف ہوگا، لہٰذا بیمار پاکستان کو صحت مند بنانے کے لیے انفرادی اور اجتماعی کوششوں پر زور دیں۔
