اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) اسلام آباد ہائی کورٹ کے 8 ججوں کو اور لاہور ہائی کورٹ کے 4 ججز کو دھمکی آمیز خطوط موصول ہونے کے بعد سپریم کورٹ کے 4 ججز کو بھی دھمکی آمیز خطوط موصول ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔
’ڈان نیوز‘ کے مطابق آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں سائفر کیس کی سماعت کے دوران ججز کو موصول دھمکی آمیز خطوط کے معاملہ پر ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) آپریشنز شہزاد بخاری عدالت میں پیش ہوئے، سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس سی ٹی ڈی ہمایوں حمزہ بھی عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔
ڈی آئی جی نے بتایا کہ ابھی تک کسی کے پاس انسپکٹر جنرل کا فعل چارج نہیں ہے، اس لیے اسلام آباد پولیس کے تمام آپریشنز میں دیکھ رہا ہوں، کیمیائی معائنے کے لیے نمونے بھجوا دیے ہیں، تین سے چار دن میں رپورٹ آ جائے گی۔
عدالت نے استفسار کیا کہ کہاں سے خطوط پوسٹ کیا گیا تھا؟ ڈی آئی جی نے بتایا کہ اسٹیمپ نہیں پڑہی جارہی ہیں، آج لاہور ہائی کورٹ کے ججز کو بھی اسی نام سے خطوط ملے ہیں۔
اس پر وکیل عمران خان نے کہا کہ سلمان صفدر نے کہا کہ انہیں ہر صورت ریشما کو ڈھونڈنا چاہیے۔
اس پر چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ آپ ابھی اسٹیمپ کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں، کیا تمام خطوط ایک ہی ڈاک خانے سے آئے ہیں؟
ڈی آئی جی پولیس نے بتایا کہ خطوط پر اسٹیمپ مدھم ہے مگر روالپنڈی کی اسٹیمپ پڑہی جاری ہے، عدالت نے دریافت کیا کہ آپ دونوں افسران نے خطوط کے لفافے دیکھے ہیں؟
ایس ایس پی سی ٹی ڈی نے جواب دیا کہ بظاہر راولپنڈی جنرل پوسٹ آفس لگ رہا ہے، جی پی او میں پوسٹ نہیں ہوا کسی لیٹر باکس میں ڈالا گیا ہے، ہم اس لیٹر باکس کی سی سی ٹی وی اور ایریا کی معلومات لے رہے ہیں، اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا تھا کہ تحقیقات کے لیے کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے دریافت کیا کہ آپ نے مقدمہ درج کیا، اب تک کی پیشرفت کیا ہے؟ ڈپٹی انسپکٹر جنرل نے بتایا کہ ہم نے نمونے لیب کو بھیجوا دیے ہیں اور ڈائریکٹر سے میری بات بھی ہو گئی ہے، پولیس حکام نے انکشاف کیا کہ سپریم کورٹ کے ججز کو بھی خطوط ملے ہیں۔
ڈپٹی انسپکٹر جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے 4 ججز کو بھی اسی طرح کے خطوط ملے ہیں۔





