اسلام آباد (نیوز ڈیسک )چند روز قبل ملت ایکسپریس میں پولیس اہلکار کے تشدد کا نشانہ بننے والی خاتون کی لاش بر آمد، پولیس اہلکار اور خاتون بارے انکشافات سامنے آگئے ۔ چنی گوٹھ ریلوے اسٹیشن کے قریب سے ملت ایکسپریس میں ریلوے پولیس اہلکار کے تشدد کا نشانہ بننے والی خاتون کی لاش ملی ہے۔پولیس کے مطابق 7 اپریل کی رات ریلوے پولیس اہلکار تشدد کے بعد خاتون کو اپنے ساتھ لے گیا تھا، خاتون کا تعلق جڑانوالہ سے تھا۔خاتون کے بھائی افضل کا کہنا تھا کہ اس کی بہن کراچی میں بیوٹی پارلر پر ملازمت کرتی تھی اور عید منانے کیلئے کراچی سے جڑانوالہ آ رہی تھی۔ انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ بہن پر تشدد کے بعد اس کی ہلاکت کی بھی تحقیقات کی جائے۔
واضح رہے کہ کوٹری اور حیدرآباد کے درمیان ملت ایکسپریس ٹرین میں پولیس اہلکار کی جانب سے خاتون مسافر پر تشدد کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی ۔۔سامنے آنے والی ویڈیو میں خاتون کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ’مار کیوں رہا ہے، مار نہیں، مار نہیں‘۔۔۔
ڈان نیوز کے مطابق اس پولیس اہلکار کیخلاف مقدمہ درج کرکے اسے گرفتار کرلیا گیا تھا، مقدمہ ریلوے پولیس اسٹیشن حیدرآباد میں ایس ایچ او ریلوے محمد حسن کی مدعیت میں درج کیاگیا۔
ایف آئی آر کے مطابق ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ملزم سے سرکاری رائفل لے کر پوچھ گچھ کی گئی ، میر حسن نے بتایا کہ خاتون مسافروں کا سامان اٹھا کر پھینک رہی تھی، میرے منع کرنے پر میرے ساتھ بھی بدزبانی اور تلخ کلامی کی ۔
متعلقہ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے خاتون پر ہاتھ اٹھانے والے پولیس اہلکار کو گرفتار کیا ، پولیس کے مطابق گرفتار پولیس اہلکار نے اپنا جرم کا اعتراف بھی کیا۔
پولیس اہلکار نے بیان دیا ہے کہ خاتون مسافروں کو تنگ کر رہی تھی، منع کرنے پر خاتون نے مجھ سے بھی بدتمیزی کی، جس پرطیش میں آکر ہاتھ اٹھانا پڑا۔ڈی آئی جی ساؤتھ عبداللہ شیخ کا کہنا تھا کہ ایسے اہلکار کسی بھی قسم کی رعائت کے مستحق نہیں ہیں۔
تاہم اس کے بعد سامنے آنے والی خبر نے سوشل میڈیا پر نیا طوفان کھڑا کر دیا جب پتہ چلا کہ ملزم میر حسن کو سول ججاینڈ جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے ملزم کی ضمانت 35 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کر لی ۔اور اب تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ملت ایکسپریس میں ریلوے پولیس اہلکار کے تشدد کا نشانہ بننے والی خاتون کی لاش ملی ہے۔





