اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) سوات: مدین میں توہینِ مذہب کے الزام میں ایک شخص کو زندہ جلادیاگیا۔ڈی پی او سوات زاہد اللہ خان کے مطابق قرآن پاک کی مبینہ بے حرمتی کے الزام میں علاقہ مکینوں نے شہری پر تشدد کیا اور اسے برہنہ کرکے سڑکوں پر گھسیٹا۔ڈی پی او نے بتایا کہ مدین پولیس نے ملزم کو گرفتار کرکے تھانے منتقل کیا تو مشتعل ہجوم نے تھانے کو بھی آگ لگا دی اور توڑ پھوڑ کی جب کہ مشتعل افراد ملزم کو تھانے سے نکال کر لے گئے۔ اس معاملے پر سینئر صحافی رئوف کلاسرا نے اپنے وی لاگ میں چشم کشا انکشافات کیے ہیں ، تیرہ سال بعد سوات کے جلنے کا قصور وار کون ، اسٹیبلشمنٹ، ایجنسیاں، طالبان یا سواتی عوام ؟رئوف کلاسرا مکمل تفصیلات سامنے لے آئے ، ویڈیو ملاحظہ کیجئے :





