برطانیہ میں قتل ہونے والے سعودی عرب کے طالب علم محمد القاسم کا جسد خاکی ان کے اہلِ خانہ کو حوالے کر دیا گیا ہے، جس کے بعد اسے کل سعودی عرب منتقل کیا جائے گا۔
خاندان کے افراد کے مطابق تمام قانونی کارروائی سعودی سفارت خانے کے تعاون سے انجام دی جا رہی ہے اور متعلقہ برطانوی حکام واقعے کے بعد سے ہی معاملے کی چھان بین میں مصروف ہیں تاکہ مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
یاد رہے کہ چند روز قبل کیمبرج شائر پولیس کو جمعہ کی رات گئے مِل پارک کے علاقے میں تشدد کی اطلاع ملی۔ پولیس جب وہاں پہنچی تو انہوں نے 20 سالہ طالبعلم محمد القاسم کو شدید زخمی حالت میں پایا، جو موقع پر ہی دم توڑ گیا۔
پولیس نے پیر کو بتایا کہ "یہ یقین ظاہر کیا گیا ہے کہ القاسم پر بلااشتعال حملے میں چاقو سے وار کیا گیا۔”مرحوم انگلش زبان سیکھنے کے لیے کیمبرج میں 10 ہفتے کے ایک پروگرام کے دوران وہاں موجود تھا۔
یہ سانحہ سعودی عوام میں گہرے دکھ اور غم و غصے کا باعث بنا اور سوشل میڈیا پر مجرموں کو سزا دینے اور مکمل انصاف کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔
ادھر برطانیہ کی کیمبرج کراؤن کورٹ میں اس قتل کیس کی پہلی سماعت ہوئی، جس میں مرکزی ملزم چاز کوریجان پر محمد القاسم کے قتل اور عوامی مقام پر چاقو رکھنے کا الزام عائد کیا گیا۔
خبر رساں اداروں کے مطابق عدالت میں چاز کوریجان نے اپنے اوپر عائد قتل کے الزام کی صحت سے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ وہ محض اپنا دفاع کر رہا تھا۔ کیس کی اگلی سماعت آٹھ ستمبر کو مقرر ہے۔
قاسم کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ "محمد یوسف القاسم، ایک پُرعزم نوجوان، جو بہادری اور شرافت سے بھرپور تھا۔ وہ ایک فرماں بردار بیٹا، محبت کرنے والا بھائی اور روحانی طور پر خاندان کا رہنما تھا۔ وہ خوش مزاج، فیاض، پاک دل اور دوسروں کے لیے جذبات رکھنے والا نوجوان تھا۔ وقت کے ساتھ وہ خاندان کی شخصیت کا مرکز بن گیا۔ وہ اپنے والد کا سہارا، ہم نشین، ماموں اور چچاؤں کا مددگار تھا۔ ماں کے دل کا سب سے شفیق مہمان اور بہنوں کا سب سے قریب تھا۔”





