تحریر : سمیرا سلیم
ہندوستان کی سپریم کورٹ کے سامنے ایک ایسا کیس پیش ہوا جس کا کلائمکس بہت ہی دلچسپ ہے۔
میرے لئے کم ازکم یہ بات دلچسپ ہے، کیونکہ میرا خیال تھا کہ صرف پاکستان میں پلی بارگین اور ایمنسٹی اسکیم جیسے قوانین بنا کر بڑے بڑے کرپٹ مافیاز اور مگرمچھوں کی سہولت کاری کی گئی ہے، تاکہ کرپٹ اشرافیہ اربوں روپے لوٹ کر چند کروڑ کے بدلے سیٹلمنٹ کر کے کلین چٹ حاصل کر لے۔
جیسا کہ ابھی آئی ایم ایف رپورٹ میں کرپشن کا حجم بتانے کے لیے گزشتہ دو سال کے دوران نیب کی پلی بارگین اور دیگر طریقوں سے برآمد کئے گئے 5 ہزار 3 سو ارب روپے کا حوالہ دیا گیا۔
ہماری نیب کی مشین سے بڑی بڑی مچھلیاں ڈرائی کلین ہوئی ہیں۔ اب معلوم پڑا کہ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔
حال ہی میں بھارتی سپریم کورٹ نے 1.6ارب ڈالر کے بینک فراڈ میں ملوث دو مفرور ارب پتی بھائیوں نیتن اور چیتن سندیسرا کو ایمنسٹی دے کر ان کے خلاف مجرمانہ مقدمات ختم کر دئیے۔
مودی سرکار کی مداخلت سے سپریم کورٹ کے ذریعے ان ارب پتیوں سے سمجھوتا کیا گیا۔ بھارتی سپریم کورٹ نے بڑی مچھلیوں کے ساتھ پلی بارگین کی ہے، کہ وہ اپنے کالے دھن کا کچھ حصہ حکومتی خزانے میں جمع کروا کر اپنے خلاف سنگین مقدمات سے چھٹکارا پائیں، بے داغ بری ہوں اور ساتھ میں کالا دھن بھی سفید کریں۔
1.6بلین ڈالر کے بینک فراڈ میں ملوث نیتن اور چیتن نے مجموعی رقم کا ایک تہائی ادا کیا اور اب مزے میں ہیں۔ سندیسرا برادرز 2017 میں مقامی بینکوں سے تقریباً 15 ہزار کروڑ بھارتی روپیہ لوٹ کر Albanian پاسپورٹ پر ملک سے بھاگ گئے تھے۔
ان دونوں بھائیوں کا کاروبار کئی دوا ساز کمپنیوں اور توانائی کی صنعتوں پر پھیلا ہوا ہے۔ ایک تو اربوں روپے کا فراڈ کیا اوپر سے نائجیریا سے تیل بھی اپنے ملک کو بیچتے رہے اور منافع کماتے رہے۔ دوسری طرف بھارتی سپریم کورٹ نے سندیسرا برادرز کے ساتھ سمجھوتے کا حکم اپنی ویب سائٹ پر شائع کر دیا ہے جس کے مطابق دونوں بھائی 570 ملین ڈالر کے تصفیے کی ادائیگی پر راضی ہیںاور اسی سلسلہ میں 17 دسمبر کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔
ہمارے ہاں ویسے تو کئی اسکینڈلز اور کرپٹ اشرافیہ کے کارناموں کی فہرست موجود ہے۔ مگر چند برس قبل نمودار ہونے والا 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل بھی اسی قسم کی ہی ایک مثال ہے، ملک ریاض کا سپریم کورٹ کے ساتھ تصفیہ، جسے صیغہ راز میں رکھا گیا۔ یہ 19 کروڑ پاؤنڈ سپریم کورٹ میں ملک ریاض کے خلاف کراچی بحریہ ٹاؤن کیس کی مد میں جمع کرائے گے۔ سپریم کورٹ نے ملک ریاض کی پیشکش قبول کی، اس میں اربوں روپے کا فائدہ ملک ریاض کو ہی ہوا کیونکہ سپریم کورٹ کو انھوں نے ہاؤسنگ اسکیم میں کی گئی بدعنوانی کی مد میں 460 ارب روپے ادا کرنا ہی تھے۔ جو رقم قومی خزانہ کا حصہ بننی چاہیے تھی وہ سپریم کورٹ کو سیٹلمنٹ کی صورت میں ادا کی گئی۔ اب بھارت کی اعلیٰ ترین عدالت نے بھی مفرور ارب پتی بھائیوں کے 570 ملین ڈالر کے تصفیے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ بھارت میں بھی کرپٹ مافیاز حکومت میں اتنی ہی پاور اور اثرورسوخ رکھتے ہیں جتنا کہ پاکستان میں۔
یہ دونوں بھائی ان 14 نامزد مفرور معاشی مجرموں کی لسٹ میں شامل ہیں جن میں کنگ فشر ایئر لائنز کے بانی وجے مالیا اور ہیرے کے مالک نیرو مودی کا نام شامل ہیں۔ ان پر بھی بینک فراڈ کے الزامات ہیں۔ کرپشن کے مقدمات میں ملزموں سے لوٹی ہوئی رقم واپس لینے کیلئے امریکا، برطانیہ، جرمنی، فرانس، بھارت، آسٹریلیا، کینیڈا اور اٹلی سمیت کئی ممالک میں پلی بارگین کے قوانین موجود ہیں جن کا اطلاق مختلف ہو سکتا ہے۔ کچھ ممالک میں لوٹی ہوئی رقم کے ساتھ ساتھ بدعنوانی اور فراڈ میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سزائیں بھی دی جاتی ہیں۔ مگر بھارت اور پاکستان میں کرپٹ اشرافیہ کی پانچویں انگلیاں گھی میں ہیں۔ بڑی بڑی وارداتیں ڈالنے کے بعد بھی قانون ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ کرپٹ اشرافیہ کو جو سہولیات اور قانون سے استشنی حاصل ہے وہ عام آدمی کو کہاں۔ چوری کا پیسہ ہضم کرنے کے لئے اشرافیہ کو لیگل کور دے دیا جاتا ہے۔ پاس کئی آپشن موجود ہوتے ہیں۔ "جس کی لاٹھی اس کی بھینس” کا قانون نافذ العمل ہے۔
دراصل بھارتی سپریم کورٹ نے اس طرح کا اقدام اٹھا کر دوسرے کرپٹ عناصر کو بھی تصفیے کی دعوت دی ہے، کرپٹ مافیا کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے کہ وہ بھی قانونی کاروائیوں سے بچیں، بدعنوانی اور فراڈ سے ہتھیائے گئے اربوں روپوں کا کچھ حصہ دیں اور مزے کریں۔





